سینیٹ کا الیکشن، علی حیدر گیلانی کی ویڈیو، الیکشن کمیشن بکائو مال

297

سینیٹ کاالیکشن اس وقت ہو چکاہو گا، نتائج سامنے آچکے ہوں گے لیکن جس چیز کا خدشہ عمران خان ظاہر کررہے تھے وہ علی حیدرگیلانی کے بیان کے بعد ثبوت کے طور پر سامنے آگیا، ابھی تک سینیٹ کے لئے ممبران کی خرید و فروخت ہوتی رہی، اب حالات بتا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن بھی بکائو مال ہے جو چاہے چیف الیکشن کمشنر کی بولی لگا کر اس کو بھی خرید سکتا ہے اورالیکشن کرانا اور منصفانہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن یہ ایسا ضدی اور کمائو الیکشن کمشنر ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے باوجود اس نے من مانی جاری جاری رکھی پہلے اس نے ڈسکہ انتخابات کو دوبارہ کرانے کا فیصلہ پی ڈی ایم کے کہنے پر کیا اس کے بعد خفیہ بیلٹ کرانے کی اپنی ضد برقرار رکھی حالانکہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایت تھی کہ جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی جائے اور رائے شماری میں کم سے کم ہارس ٹریڈنگ کی اجازت دی جائے، اگر الیکشن کمیشن چاہتا تو اس الیکشن کو ۲ یا ۴ روز ملتوی کر سکتا تھا۔ اور نئے بیلٹ پیپر چھپوا کر نمبر کے ساتھ پھر الیکشن کرواتا لیکن ایسا نہ ہوا۔ وہ اپنی ضد پر اڑا رہا کہ پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی الیکشن ہو گا، آج کی تازہ ترین ویڈیو اور علی حیدر گیلانی کے اعتراف جرم کرنے کے بعد اس چیف الیکشن کمشنر کے منہ پرجوتا مار دیا گیا سکندر سلطان راجہ صاحب نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں کہ پی ڈی ایم کے سارے بیانات ان کو نظر آتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ رائے یا احکامات ان کو نظر نہیں آتے ہیں وہ اپنی بات پر اور پی ڈی ایم کی بات پر قائم ہے کہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کے ذریعہ ہی الیکشن ہوں گے لیکن آج اس غیر معمولی ویڈیو نے نقشہ ہی پلٹ دیا اور آنے والے دن سکندر سلطان کے لئے اور دو صوبوں کے ممبران کے لئے بہت سخت ہوں گے جو چیف الیکشن کمشنر کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔
پنجاب کا سینیٹ کا الیکشن ختم ہو گیا پرویز الٰہی کا منصوبہ اور کوششیں کامیاب ہو گئیں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے پانچ، پانچ ارکان کامیاب ہو گئے، ق لیگ کے کامل علی آغا کو ایک سینیٹ کی سیٹ مل گئی، البتہ اصل مقابلہ یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے درمیان ہے جو یقینی طور پر حفیظ شیخ کے حق میں ہو گا، کہا جارہا ہے کہ یہ عمران خان پر اعتماد کا بھی امتحان ہو گا کیا وہ اپنے ممبروں کو اپنے قابو میں رکھ پاتے ہیں یا پھر خفیہ رائے شماری میں لوگ ان کو دھوکا دے جاتے ہیں اور مال بنانے میں لگ جاتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے اس ملک کو بہت لوٹا ہے، وہ ملک کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، اس نے چوری اور بے ایمانی سے پورا سندھ لوٹ لیا ہے، سندھ میں غریب، غریب تر ہو گیا ہے، تھر میں ہزاروں بچے مر گئے، زرداری نے اپنی بیٹی کی شادی میں کروڑوں روپے خرچ کر دئیے لیکن سندھ میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، آج زرداری پھر عمران خان کی حکومت گرانے کی بات کررہا ہے۔
پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ ان ڈاکوئوں اورچوروں پر نظر رکھیں جو نت نئے طریقوں سے لوٹ مار میں لگے رہے ہیں عوام بیچارے بے وقوف صرف پٹرول کی بڑھی ہوئی قیمت دیتے ہیںاور عمران خان کو گالیاں دیتے ہیں، عمران خان بے وقوف کو حکومت کرنی ہی نہیں آتی اور نہ اس کے پاس ٹیم ہے صرف ایماندار ہونا کسی آدمی کی قابلیت نہیں ہوتی بلکہ اگر آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو تینوں فوجی حکمرانوں نے بہتر طور پر داخلی طور پر کامیاب حکمرانی کی اور ملک کو بہتر انداز سے چلایا،ملک کی ساری ترقی ان تین فوجی حکمرانوں کے دور میں ہوئی سب سے زیادہ ترقی ایوب خان کے دور میں ہوئی، ضیاء الحق نے افغان جہاد کے ذریعہ روس کو روکا، آخر کار روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ پرویز مشرف نے ملک کو امریکہ کے شر سے بچایا۔ ملک کی ترقی اور قرضوں کی ادائیگی مشرف دور میں سب سے زیادہ ہوئی، یہ دو ڈاکو چھوٹے بھائی ،بڑے بھائی، زرداری نواز شریف نے اس ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی، چھانگا، مانگا کی سیاست کا آغاز نواز شریف کے دور میں ہوا اور آج تک قائم و دائم ہے، زرداری نے اس کرپشن میں گولی اور قتل کو بھی شامل کر دیا، رائو انوار اس کی زندہ مثال ہے، عمران خان یقینا اپنے 5سال پورے کرے گا لیکن ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، یہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا۔