خربوزے کو دیکھ کے۔۔۔۔۔!

238

یہ تحریر جب تک آ پ کے نظر نواز ہوگی اس وقت تک اسلام آباد میں تین مارچ کو ہونے والے سینٹ کے انتخاب کا نتیجہ سامنے آچکا ہوگا اور وہ سسپنس جو اس وقت اسلام آباد سے لیکر ہر اس جگہ تک طاری ہے جہاں جہاں پاکستان کے شب و روز پر نظر رکھنے والے آباد ہیں برسات کے بادلوں کی طرح اپنا پانی برساکے چھٹ چکا ہوگا !
سینٹ کے اس انتخاب میں غیر معمولی دلچسپی پاکستان اور پاکستانیوں میں، وہ چاہے جہاں بھی ہوں، بالکل ایسی ہی ہے جیسی گذشتہ برس امریکہ میں اس کے صدارتی انتخاب میں تھی۔ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں دنیا بھر کو غیر معمولی دلچسپی اس وجہ سے زیادہ تھی کی دنیا ٹرمپ کی قلابازیوں اور کذب بیانی سے عاجز ہوچکی تھی اور دعا مانگ رہی تھی کہ ان کے حریف جو بائیڈن یہ انتخاب جیت جائیں اور ٹرمپ کی ان حرکتوں سے دنیا کو نجات مل جائے جن کے باعث امریکی صدارت سے متعلق جو ایک اعتبار اور اعتماد تھا وہ مسلسل مجروح ہورہا تھا!
پاکستانیوں کی اس سینٹ کے الیکشن میں دلچسپی کی خاص وجہ یہ ہے کہ عمران خان اپنے نئے پاکستان کو فروغ دینے کی مہم میں اس کو اہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی عمل میں، خاص طور پہ سیاست کی کلید، یعنی انتخابی عمل کو صاف اور شفاف بنانے کا آغاز اس الیکشن سے کریں! سینٹ کے سابقہ انتخابات میں وہ عام ہوتا آیا ہے جسے عمران کے قریبی رفیق اسد عمر نے حال ہی میں بکرا پیڑی کے نام سے یاد کیا ہے یعنی ہر انتخاب سے پہلے ووٹ بیچنے اور خریدنے کی منڈی لگ جاتی ہے، ووٹ خریدے اور بیچے جاتے ہیں اور اصل میں تو ضمیر بکتے ہیں اور خریدے جاتے ہیں اور نہ بیچنے والوں کو شرم آتی ہے نہ خریدنے والے نادم ہوتے ہیں۔ سو یہ کاروبارِ ضمیر فروشی برسوں سے شد و مد کے ساتھ جاری رہا ہے۔ اصل میں تو پاکستان کا آئین مرتب کرنے والے بد نیت اور بے ایمان تھے جنہوں نے اس ضمیر فروشی کا دروازہ پاکستانی سیاست کے داؤپیچ جانتے ہوئے بھی آئین میں کھلا رکھا تاکہ وہ خود بھی اور ان کے بعد آنے والے بھی اس غلیظ گنگا میں ہاتھ دھوتے اور اشنان کرتے رہیں!
عمران اس بدعت کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن اس کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔ ایک بڑی رکاوٹ تو ہماری عدالتِ عالیہ کی طرف سے نادانستہ ہے اور وہ اس طرح کہ عدالت نے تا دمِ تحریر الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے طریقے پر اپنا دوٹوک فیصلہ نہیں دیا ہے۔ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق عدالتِ عالیہ اپنا وہ فیصلہ جو تاحال محفوظ ہے نو بجے صبح سنائیگی۔ تو عین ممکن ہے کہ یہ سطور ختم ہونے سے پہلے ہی عدالت کا فیصلہ سامنے آجائے اور اس سے متعلق جو شش و پنج یا سسپنس کی کیفیت ہے وہ ختم ہوجائے!
کہاوت ہے کہ سیاست اور حکمرانی کی طرح عدالت کے سینے میں بھی دل نہیں ہوتا ! یہ اسلئے کہا جاتا ہے کہ فیصلے عدل کے حقائق اور قانون کی بنیا د پر ہوتے ہیں جذبات پر نہیں کیونکہ جذبات اکثر عقل پرپردہ ڈال دیتے ہیں اور عدالت عقل کے بجائے صرف اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے رکھتی ہے تاکہ انصاف کرتے ہوئے اس کی آنکھیں سامنے نظر آنے والے چہروں اور ان کے تاثرات سے جذباتی نہ ہوجائے!
لیکن عمران کی شفافیت کی مہم کے سب سے بڑے مخالف پاکستان کے وہ سیاستدان ہیں جو اپنے آپ کو حزبِ اختلاف کہتے ہیں لیکن اصل میں یہ حزبِ شیطان ہیں جن کی سیاست کی دکان جھوٹ اور کذب و افترا کا ایسا ہی کاروبار کرتی ہے جیسے سابق صدر امریکہ ٹرمپ کا دستور تھا کہ وہ بقول شخصے آنکھوں دیکھے جھوٹ بولا کرتے تھے اور ندامت کا ایک قطرہ تک ان کی پیشانی پرنہیں ہوتا تھا!
عمران اور پاکستانی سیاست کو گندے انڈوں سے پاک کرنے کے مہم کے یہ پاکستانی حزبِ اختلاف کے سرخیل کون ہیں؟ ایک تو پاکستان کے بے ایمان اور مہا منافق سیاستدانوں کا پیشوا وہ ملافضلو ہے جسے پاکستان کے عوام ملا ڈیزل کے نامِ نامی سے جانتے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے دین کے نام پہ سیاست، اور وہ بھی جھوٹ اور منافقت کی سیاست، کرکے دین کو بھی بدنام کیا ہے اور اپنی پوچ اور لچرحرکتوں سے نوجوان نسل کو دین سے بدظن بھی کیا ہے۔ یہ وہ گماشتہ ہے جس نے دولت سمیٹنے کیلئے دین کی تجارت سیاست کے عنوان سے کی ہے اور آج یہ پاکستان کے دو سب سے نامی بدعنوان سیاستدانوں، زرداری اور نواز کے بیٹے اور بیٹی کا روحانی پیشوا بنا ہوا ہے کیونکہ عمران کی غلاظت سے پاک سیاست اسے بھی اپنی جھوٹ کی دکان کیلئے اتنا ہی بڑا خطرہ محسوس ہوتی ہے جتنی زرداری اور نواز کو!
لیکن حیرت سے زیادہ یہ الم کا مقام ہے کہ پاکستان میں آج بھی ان بے ایمانوں پر بھروسہ کرنے والے اور ان کی قیادت کو ماننے والے افراد بیشمار ہیں۔ اس حقیقت کو ہم صرف اس اخلاقی زوال ا ور تہذیبی پسماندگی کی علت قرار دے سکتے ہیں جو ہماری قوم کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی مانند نمایاں ہے۔ جاگیرداری نظام اور اس پر ستم بالائے ستم قوم کی جہالت یہ وہ دو زہر ہیں جو پاکستان کے جسد کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں!
پاکستانی سیاست تو کہہ لیجئے وہ اونٹ ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے اور سیاست میں جاگیرداری کلچر وہ ناگ ہے جو تبدیلی اور سدھار کے راستے پر پھن پھیلائے بیٹھا ہے اور راہ نہیں دیتا۔ لیکن حیرت تو یہ ہے کہ امریکہ جس کے متعلق عام گمان یہ ہے کہ وہ ایک تعلیم یافتہ اور سمجھدار جمہوری معاشرہ ہے اس میں بھی پاکستانی سیاسی کلچر یوں لگتا ہے کہ بہت تیزی سے سرایت کررہا ہے۔! سیاسی مبصر اور تجزیہ کار حیران و پریشان ہیں کہ چار برس میں ٹرمپ کے مداری جیسے کارنامے دیکھنے کے بعد بھی حال یہ ہے کہ ستر ملین یعنی سات کڑوڑ سے زیادہ امریکی رائے دہندگان نے ان کو صدارت کیلئے ووٹ دیا۔ چلئے اس کو بھی غلطی مان کر اس سے صرفِ نظر کیا جاسکتا تھا لیکن پھر صدارتی انتخاب ہارنے کے بعد ٹرمپ نے جو رویہ اپنایا اور جھوٹ اور فریب کا کاروبار اور شدو مدسے جاری رکھا وہ ایسا تھا کہ ہر سمجھدار اور ووٹ کی حرمت و تقدیس کے قائل امریکی کو یہ باور کرلینا چاہئے تھا کہ ٹرمپ امریکی جمہوریت کے حق میں سمِ قاتل ہے لیکن ہوا یہ کہ ان کے ترغیب دلانے پر اور ان کی شہ پر شرپسندوں کے ایک گروہ نے امریکی کانگریس کے ایوان پر وحشیانہ حملہ کیا اور امریکی تاریخ میں ایک ایسا باب رقم کیا جو رہتی دنیا تک امریکہ کے دامن پر سیاہ داغ بن کر رہیگا!
عام خیال یہ تھا کہ اس شرمناک کارنامے کے بعد تو ٹرمپ کے حامیوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئے تھیں لیکن وہاں تو الٹا اثر ہوا ہے۔ پہلے تو چشمِ حیرت نے یہ دیکھا کہ امریکی سینٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے کانگریس کی عمارت پر حملہ اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی بربادی کی فلمیں دیکھنے کے بعد بھی ٹرمپ کو مجرم قرار دینے سے صاف انکار کردیا۔ ہم اسے بے شرمی اور بے غیرتی کی انتہا کہہ کے صبر کرلیتے لیکن اب تو یوں نظر آرہا ہے کہ ری پبلکن پارٹی ٹرمپ کی اسی طرح جائیداد اور میراث بن گئی ہے جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی برسوں سے زرداری جیسے ڈاکو کی جاگیر بنی ہوئی ہے اور اسی طرح قائدِ اعظم علیہ الرحمتہ کی مسلم لیگ پاکستان کے سب سے بڑے چور اور بددیانت سیاستداں نواز شریف اور اس کے کنبے کی دولت بن کر رہ گئی ہے! کبھی سوچا تھا مسلم لیگ کے ایمان والے اور مخلص و دیانت دار بانیوں نے کہ ان کی جماعت پر ایک ایسا بھی وقت آئے گا کہ وہ چوروں اور رہزنوں کی میراث بن جائیگی؟ سوچنے کی بات ہے کہ کیا فرق رہ گیا پاکستان کی جاگیرداری سیاست میں ، جس پر ہم تین حرف یہ کہہ کے بھیج لیتے ہیں کہ پاکستان تو ایک ناخواندہ اور پسماندہ معاشرہ ہے، اور امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کی سیاست میں؟ دونوں میں اخلاقیات کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ سیاست پاکستان میں چند خاندانوں کی جاگیر ہے اور امریکہ میں بھی جمہوریت کا آدھا حصہ ٹرمپ کی میراث بن چکا ہے اورایک بددیانت اور کذب گو کے ہاتھوں میں موم کی ناک بن کر رہ گیا ہے۔! ہمارے ہاں یہ محاورہ بہت عام ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ امریکہ میں پاکستانی آباد کاروں کی تعداد یوں تو کہنے کو امریکی آبادی میں آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن پاکستانی سیاست کا رنگ امریکی سیاست پر جس تیزی سے چڑھ رہا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اب تو ہمیں بھی یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ امریکہ کی سیاسی آب و ہوا ہمارے پاکستانیوں کیلئے انتہائی سازگار اور مہربان ہے۔ سو یہی وقت ہے کہ ہمارے نوجوان یہاں کی سیاست میں جم کر قدم رکھیں اور اپنے لئے جگہ بنائیں۔ اب تو ان کیلئے یہ کہنے کی گنجائش ہی ختم ہوتی جارہی ہے کہ یہاں کا سیاسی ماحول ان کیلئے اجنبی ہے اور وہ اس میں آرام محسوس نہیں کرتے! امریکی مہمان نوازی کی داد دینے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے اپنے نئے پاکستان نڑاد ہموطنوں کیلئے اپنی سیاست کو ان کے رنگ میں ڈھال لیا!
اور تو اور جنابِ ٹرمپ نے بڑھکیں بھی پاکستانی سیاستدانوں کی طرح مارنے کا وطیرہ اپنا لیا ہے ! اپنی شکست پر نادم ہونے کا تو سوال ہی انہوں نے کبھی پیدا نہیں ہونے دیا لیکن اب تو اپنے پاکستانی استادوں کی طرح سینہ ٹھونک کر فخر سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں جو دھاندلی سے نکالا گیا ہے تو وہ ہارے نہیں ہیں بلکہ جیتے ہیں اور اس کا مزید ثبوت دینے کیلئے وہ ابھی سے چار برس بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں پھر سے امیدوار بننے کیلئے پر تول رہے ہیں۔! ٹرمپ کو دیکھ کر آجکل ہمیں تو مفرور نواز کی یاد آرہی ہے۔ میاں صاحب کی طرح ٹرمپ میاں بھی یہی سوال کررہے ہیں کہ انہیں کیوں صدارت سے نکالا گیا؟
ہم آج تک پاکستانی سیاست کا نوحہ کہتے آئے تھے اب اس کے ساتھ ساتھ امریکی سیاست کے زوال کا ماتم بھی پابندی سے کرینگے۔ اور کیوں نہ کریں امریکیوں نے بھی تو ہمارے سیاسی کلچر کو دل و جان سے اپنا لیا ہے? تو لیجئے اس کالم کے ختم ہونے سے پہلے سینٹ کے انتخابی عمل کے ضمن میں جو سسپنس تھا، اور جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا تھا، وہ ختم ہوگیا۔ پاکستان کی عدالتِ عالیہ کی پانچ رکنی بنچ نے ۴ اور ۱ کے فرق سے انتخابی عمل کو حسبِ دستور خفیہ ووٹ کے ذریعہ جاری رکھنے کے حق میں فیصلہ سنادیا! ہمیں اس فیصلے پر ذر ہ برابر بھی حیرت نہیں۔ ہمیں تو یقین تھا کہ عدالت حسبِ عادت اس بار بھی جمہور دشمنوں کا ساتھ دیگی اور اس نے مایوس نہیں کیا۔ پاکستان میں سیاست اور حکومت کی تباہ حالی میں ہماری عدالتوں کے فیصلے سنگِ میل کا مقام رکھتے ہیں۔ ہر عدالت قانون کے پردے میں اپنا وار کرتی ہے اور جمہوریت پر ایک اور چرکہ لگاکر اسے کمزور کر دیتی ہے۔! اس فیصلے پر ملا فضلو اور اس کے چیلے بغلیں بجانے میں پیش پیش ہونگے اور کیوں نہ ہوں کہ وہ اب پھر، عدالتی فیصلے سے لیس ، نئی بکرا منڈی لگائینگے۔ ووٹ پھر سے بکینگے اور خریدے جائینگے۔ ضمیر کی بے محابا نیلامی ہوگی لیکن عدالت کو اس سے کیا مطلب۔ اس کی آنکھوں پر تو پٹی بندھی ہوئی ہے اور کھلنے کا نام نہیں لے رہی! اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ اب تو اللہ کے سوا اور کوئی مددگار دکھائی نہیں دیتا !