کیا رازداری حتمی ہوتی ہے!

383

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میںپانچ رکنی لارجر بینچ نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس پر فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد چوبیس فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا یہ صدارتی ریفرنس صدر مملکت عارف علوی نے 23 دسمبر 2020 کوعدالت عظمیٰ میں دائر کیا تھااس پر بیس سماعتیں ہوئیںاسمیں رائے مانگی گئی تھی کہ آئین میں سینٹ انتخابات کا واضح طریقہ موجود نہیں ہے اسلئے آرٹیکل 226 کی تشریح کی جائے اور یہ رائے دی جائے کہ کیا سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیںصدر مملکت کے اٹھائے ہوے اس سوال کا پس منظر اور ٹائمنگ جو بھی ہو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ حکومتی معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں اور آئین میں بھی ابہام ہو سکتے ہیں اسی لئے آئین کے آرٹیکل 186 نے حکومت کو یہ رعائت دی ہے کہ اگرصدر محترم کسی موقع پر یہ سمجھیں کہ کسی حکومتی معاملے میں کوئی الجھن ہے یا کوئی ایسا قانونی سوال ہے جو وضاحت طلب ہے تو اس صورت میںاس قانونی مسئلے کو عدالت عظمیٰ بھیجا جا سکتا ہے جہاں اس پر غوروخوض کے بعدصدر کو جج صاحبان کی رائے سے آگاہ کر دیا جاتا ہے عدالت عظمیٰ یہ اختیار بھی رکھتی ہے کہ وہ ریفرنس صدر کو یہ کہہ کر واپس کر دے کہ یہ کوئی قانونی سوال ہے ہی نہیںیہ معاملہ اتنا واضح اور عیاں ہے کہ اسکی مزید وضاحت نہیں ہو سکتی یکم مارچ کو دی گئی سپریم کورٹ کی رائے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’’ یہ سب کچھ آئین میںبہت وضاحت سے لکھا ہوا ہے اسلئے حکومت کو سپریم کورٹ سے یہ پوچھنا ہی نہیں چا ئیے تھا ‘‘ عدالت عظمیٰ کی رائے کیونکہ متفقہ نہ تھی اسلئے جسٹس آفریدی کی مختلف رائے نے ایکطرف تو یہ وضاحت کی ہے کہ یہ صدارتی ریفرنس غیر ضروری تھا اور دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ صدر مملکت نے کس الجھن کے پیش نظر معزز عدالت سے رائے طلب کی ہے مجھے یاد آتا ہے کہ ایک امریکی جج نے ایک مقدمے کو یہ کہہ کر برخواست کر دیا تھا کہ I watch my time very jealously یعنی میں اپنے وقت کی بڑے حاسدانہ انداز میں حفاظت کرتا ہوں ہر عدالت کسی بھی غیر ضروری مقدمے کے بارے میں یہ طرز عمل اختیا ر کر سکتی ہے عدالت عظمیٰ کے چار جج صاحبان نے صدر عارف علوی کے ریفرنس کو قابل توجہ سمجھتے ہوے یہ رائے دی ہے کہ سینٹ کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہونے چائییںالبتہ شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تمام تر ٹیکنالوجی استعمال کرے اسکے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے 1968کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا جسمیں یہ کہا گیا تھا کہ ووٹ خفیہ رکھنے کا عمل دائمی نہیں ہوتا یعنی اقتدار کے ایوانوں میںووٹ کی رازداری حتمی نہیں ہوتی یکم مارچ کی شام اسلام آباد کے مختلف نجی چینلز کے ٹاک شوز میںعدالت عظمیٰ کی رائے پر تبصرہ کرنیوالے بعض قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ اس رائے میں اگر ٹیکنالوجی اور 1968 کے مقدمے کا حوالہ نہ دیا جاتا تویہ غیر مبہم ہوتی اب موجودہ صورت میں اس رائے نے ابہام پیدا کرکے معاملات کو الجھا دیا ہے اس شام تین ٹاک شوزمیں قانونی ماہرین کے تبصرے سننے کے بعد میرا تاثر یہی ہے کہ یہ اسی ابہام کا نتیجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں عدالت عظمیٰ کی رائے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں حسن نثار صاحب نے اپنے یک سطری تبصرے میںصرف اتنا کہا کہ اس رائے میں خیال رکھا گیا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے مجھے حیرانی ہوئی کہ حسن نثار صا حب باقی کے پروگرام میں خاموش بیٹھ کر دوسرے شرکاء کو سنتے رہے انکی اس معنی خیز خاموشی کے بارے میں بہ زبان شاعر کہا جا سکتا ہے کہ
ہم بھی وہاں موجود تھے‘ ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم چپ رہے‘ ہم ہنس دئے‘ منظور تھا پردہ تیرا!
ویسے محاورہ انہوں نے بڑا تیر بہدف استعمال کیا ہے اگر اسے قابل قبول مان لیا جائے تو پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو شائد حکومت کا پردہ رکھنا بھی منظور تھا اصل بات جو بھی ہو سپریم کورٹ کی تفصیلی رائے آنے کے بعد بہت سے معاملات کی وضاحت ہو جائیگی مجھے جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ کی تشریح کا بھی انتظار ہے کہ انہوں نے کیوںاس صدارتی ریفرنس کو غیر ضروری سمجھا ہے اگر یہ صدارتی ریفرنس غیر ضروری نہیں تو پھر بنیادی نوعیت کا سوال یہی ہے کہ صدر مملکت کی کون سی الجھن اس ریفرنس کا باعث بنی ظاہر ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے کہنے پر ہی یہ قدم اٹھایا اب اس اقدام کے بعد جو راز افشاء ہو چکا ہے اورزبان زد عام ہے وہ یہی ہے کہ وزیر اعظم کو شبہ یا ڈر ہے کہ تین مارچ کو یوسف رضا گیلانی اور حفیظ شیخ کے درمیان ہونے والے مقابلے میں انکی جماعت کے قومی اسمبلی کے ممبر کہیں پارٹی لائن کراس کر کے مخالفین کو ووٹ نہ دے دیں اگر یہ انہونی ہو جاتی ہے تو خان صاحب کی حکومت کو یقینی طور پر عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑیگا اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ سینٹ میں ووٹ شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو تا کہ انکے اراکین دھوکہ نہ دے سکیں خان صاحب کی اس الجھن کی مزید وضاحت کرتے ہوے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ یہ صدارتی ریفرنس آئین کے آرٹیکل 226 کی تشریح کیلئے بھیجا گیا ہے ماہرین کی رائے میں ایک فقرے پر مشتمل اس آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے علاوہ ہر انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گا اب اس جملے میں ابہام کہاں ہے اسی لئے توجسٹس یحییٰٰ آفریدی نے کہا ہے کہ یہ Question of law ہے ہی نہیں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لارجر بینچ کے دیگر چار جج صاحبان نے اس ریفرنس کو اہمیت دیکر ایک مشکل وقت میں حکومت کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے اس سے قطع نظر حکومت کا اضطراب اور تذبذب اب کھل کر سامنے آگیا ہے تحریک انصاف کی حکومت کو درپیش کئی دیگر گمبھیر مسائل کو دیکھتے ہوے کہا جا سکتا ہے کہ؎
مری داستان غم کی کوئی قید و حد نہیں ہے
ترے سنگ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک!
عدالت عظمیٰ نے اپنی رائے میں اس اہم مسئلے کی نشاندہی بھی کی ہے کہ ووٹ کو خفیہ رکھنے کی پالیسی حتمی نہیں ہوتی بعض ماہرین نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوے کئی دلائل دئے ہیں مگر امریکہ اور بھارت میںمنتخب ممبران کے ووٹ کی رازداری کو حتمی نہیں سمجھا جاتا بھارت میں ہر منتخب ممبرپارٹی کے سربراہ کو بیلٹ دکھا کر اسے بکسے میں ڈالتا ہے امریکہ میں ایوان نمائندگان اور سینٹ میں ووٹنگ خفیہ ہوتی ہے مگر یہ بات صیغہ رازمیں نہیں رکھی جاتی کہ کس ووٹر نے کس پارٹی کو ووٹ دیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے مواخذے میں دس ریپبلیکن سینیٹرز نے پارٹی لائن سے ہٹ کے سابقہ صدر کے خلاف ووٹ دئے انہیں معلوم تھا کہ انکی رائے خفیہ نہ رہے گی اسلئے انہوں نے ووٹ ڈالنے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ مواخذے کے حق میں ووٹ دیں گے منتخب ممبران کے ووٹ کو ظاہر کرنا اسلئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ انکے حلقہ انتخاب میں لوگوں کو پتہ چل جائے کہ انکے نمائندے نے کسے ووٹ دیا ہے پارٹی ممبران اپنے ضمیر کے مطابق پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دے سکتے ہیں مگر انکی رازداری حتمی نہیں ہوتی اب تین مارچ کو سینٹ کے بیلٹس پر بار کوڈ اور سیریل نمبرز لگتے ہیں یا نہیںکم از کم ایک اہم مسئلے کی نہ صرف نشاندہی ہو گئی ہے بلکہ اس پر ایک سیر حاصل قومی مکالمہ بھی ہو رہا ہے!!