زندگی کا سفر!!

363

دنیا میں ہم کئی ایسی چیزوں اور سچوئشن سے گزرتے ہیں کہ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ بس اب زندگی میں سب کچھ بہت ہی برا ہو ا ہے۔ اس سے زیادہ خراب اور کیا ہو سکتا ہے اور اب زندگی ویسی نہیں رہے گی جیسی ہم اُسے دیکھنا چاہتے تھے۔
کبھی امتحانوں میں اچھے نمبر نہ آنا، کوئی ا چھی نوکری نہ ملنا یا لگی لگائی نوکری چھوٹ جانا یا پھر کوئی ایسی دوستی میں دراڑ آجانا جس پر آپ کو بڑا یقین اور ناز تھا۔ ایسے موقعوں پر لگتا ہے جیسے کہ زندگی تھم سی گئی ہے لیکن پھر وقت گزرتا ہے، ہم سنبھلتے ہیں، احساس ہوتا ہے کہ اُن چیزوں کے پیچھے ہم نے بہت وقت ضائع کر دیا۔
انسان کی زندگی میں صرف ’’وقت‘‘ محدود ہوتا ہے، وقت کے علاوہ ہر چیز آپ کسی نہ کسی طرح حاصل کر سکتے ہیں، کما سکتے ہیں لیکن وقت جو گزر گیا اس کا ایک منٹ بھی آپ بڑی سے بڑی قیمت ادا کر کے واپس نہیں لاسکتے لیکن ہم یہ بات بھول جاتے ہیں اور کسی نہ کسی الجھائوے میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کا اہم ترین ’’وقت‘‘ ضائع کرتے رہتے ہیں۔
زندگی کسی کے لئے کتنی مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے یہ احساس ابھی چند دن پہلے کی ایک خبر پڑھ کر اور سن کر ہوا، یہ خبر امریکہ کی ریاست نیو جرسی کی ہے، وہاں ایک نوجوان پاکستانی جوڑا رہتا تھا جن کے دو بیٹے تھے، ایک تقریباً گیارہ برس کا اور دوسرا چھ سال کا، ایک نارمل ،محنتی، خوشحال گھرانہ جونیک نیتی اور ایمانداری سے اپنا روزگار کمارہے تھے شوہر آئی ٹی کی جاب کرتا اور بیوی سکول میں ٹیچر تھی، مورس ٹائون کے علاقے میں ان کی رہائش تھی۔
وہ دن اس خاندان پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑا جس دن ڈاکٹروں نے یہ بتایا کہ اُس لڑکی کے شوہر کو کینسر ہے وہ آخری سٹیج پر اور اس کی زندگی صرف تین یا چار ماہ باقی رہ گئی ہے۔
انسان کمزور ہونے کے باوجود حالات کے پیش نظر بڑی ہمت سے کام لیتا ہے۔ شوہر جو کہ اپنی حالت اور زندگی کے گنے چنے دنوں سے واقف تھا اپنے بیٹے بیٹے کو اکثر سمجھاتا کہ بیٹا تم بڑے ہو (حالانکہ وہ جانتا تھا کہ گیارہ سال کا بچہ کتنا ’’بڑا‘‘ ہوسکتا ہے)
تمہارے پاپا اب جلد ہی تم لوگوں کے پاس نہیں ہوں گے تو تم اپنی ماما اور چھوٹے بھائی کا بہت خیال رکھنا، ماما کی بات سننا، پڑھائی پر دھیان دینا، اچھے نمبر لانا۔
ستم یہ ہوا کہ لڑکی جو شوہر کی بیماری سے ادھ موئی ہورہی تھی پاکستان میں اس کے بھائی کو کورونا ہوا اور اس کا انتقال ہو گیا، ستم بالائے ستم یہ کہ ٹھیک دو ہفتے بعد اس کی سگی بہن بھی کرونا کا شکار ہو کر چل بسی۔
دو ہفتے میں دو اتنے بڑے صدمے ماں ،باپ خاندان سے دوری اور شوہر کی بیماری کا عفریت، لیکن کسی کو خبر نہ تھی کہ ابھی اور کیا ہونے والا ہے!! اپنی بہن کے انتقال کے دو دن بعد لڑکی اپنے دونوں بچوں کو لے کر گروسری کیلئے نکلی اور شام کو شوہر کو فون کیا کہ میں نے گروسری کر لی ہے اب میں پارک جا کر پونڈ میں بطخوں کو چارہ ڈال کر گھر واپس آجائوں گی۔
شام کے ساڑھے پانچ کے قریب کا وقت تھا کہ پارک کے قریب سے گزرتے ایک راہ گیر نے دیکھا کہ گاڑی میں بیٹھا ایک بچہ زور دے کر اپنی ماں کو بلارہا ہے اس نے فوراً پولیس کو فون کیا پولیس فوراً پہنچی اور جب بچے نے اشارہ کر کے بتایا کہ ماں اس طرف گئی تھی تو وہ اس جگہ جھیل نما تالاب کے پاس پہنچے تو پانی کے کنارے دونوں ماں بیٹے کی لاشیں ملیں۔
لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکی چارہ ڈالتے ہوئے پھسل گئی اور بیٹا اُسے بچانے کے لئے بڑھا اور وہ بھی حادثے کا شکار ہو گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی فائول پلے نہیں بلکہ ایک حادثہ تھا۔
لڑکی کے والدین کا دکھ بے حساب ہے جن کی تین جوان اولادیں اور نواسہ ا دو ہفتوں میں لقمۂ اجل بن گئے اور پھر وہ شوہر وہ جوان لڑکا وہ باپ جو بستر مرگ پر آخری سانسیں گن رہا ہے جو اپنے گیارہ سال کے بیٹے کے ہاتھوں اپنی بیوی اور بیٹے کا مستقبل سونپنے کی سوچ رہا تھا اس پر کیا گزری ہو گی!!
ایک نارمل خوشحال گھرانے کی زندگی اتنے مختصر وقت میں کیا صورت اختیار کر سکتی ہے اس کی بدترین مثال ہے یہ خاندان، ہم صرف اور صرف دعا کرتے سکتے ہیں، اس خاندان کیلئے اور یہ سبق لے سکتے ہیں کہ جو بھی وقت اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے اسے بہتر سے بہتر ہنسی خوشی گزاریں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں وقت جو جا کر کبھی لوٹتا نہیں۔
ہمارے آس پاس ہی لوگوں کی زندگیاں ایسی ایسی مشکلات سے دو چار ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اپنی آسان زندگی کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔