پاکستان کی عورتوںکو ابھی سو سال اورکوشش کرنی ہو گی!

342

صاحبو! ایک دفعہ پھر عالمی یوم خواتین آ پہنچا۔ آٹھ مارچ۔ اس دن ہم عورتوں کے حقوق، مسائل، اور خواہشات کا ذکر کرتے ہیں اور کچھ اسلامی تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالتے ہیں۔ برصغیر میں جہاں غریبوں کے ساتھ بُرا سلوک ہوا، وہاں عورتوں کے ساتھ اور بھی زیادہ برا ہوا۔افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمانوں نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی۔ نہ اللہ کی کتاب کا خیال اور نہ سنت و احادیث کا۔قران مجید کی سورت ۲اور آیت ۲۲۸ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’دستور کے مطابق عورتوں کے بھی مردوں پر اسی طرح کے حقوق ہیں جیسے مردوں کے عورتوں پر۔۔۔‘‘ لیکن کیا ہمارے مرد اس بات کا خیال رکھتے ہیں؟ خاص طور پر سورت ۲۴ کی آیت ۳۰ پر غور فرمائیں جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پاک سے فرمایا ’’ آپ مومن مردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں ۔۔۔‘‘ اور ہمارے مرد بازاروں میں اور عوامی جگہوں پر، بسوں اور ٹرین میں، دفتروں اور دوکانوں پر کیا کرتے ہیں؟ وہ خواتین کو ایک نظر نہیں دیکھتے بلکہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں ، کبھی آوازے کستے ہیں اور تاڑتے چلے جاتے ہیں جب تک کہ وہ خاتون نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس میں کسی حد تک ہمارے معاشرے میں عورتوں اور مردوں کے میل جول پر پابندیوں کا قصور بھی ہے اور مردوں میں جنسی بھوک پر قابو نہ ہونے کا بھی۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کی بیشتر آبادی اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے۔لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ یہ معاشرہ اسلامی اقدار سے اس قدربے گانہ کیوں ہے؟ مردوں کے اس رویہ کا سب سے بڑا نقصان عورتوں کے افرادی قوت میں شامل نہ ہونے سے ہے۔ کتنی عورتیں اچھی بھلی تعلیم حاصل کر کے چاہتے ہوئے بھی نوکری نہیں کرتیں، جب کہ ان کے کنبوں کو مزید آمدنی کی انتہائی ضرورت بھی ہوتی ہے۔مرد حضرات جانتے ہیں کہ باہر جا کر ان کی خواتین کو کیسے مردوں سے واسطہ پڑے گا، اس لیے وہ ا نکو کام کی اجازت نہیں دیتے۔
دنیا میں جن ملکوں نے ترقی کی ہے، صنعتی ، تجارتی، اقتصادی، ترقی ، جیسے کہ یوروپ اور شمالی امریکہ ، اسکی سب سے بڑی وجوہات وہاں تعلیم اور عورتوں کا افرادی قوت میں برابر کا شریک ہونا ہے۔ ایسا کیسے ہوا، یہ بحث بے کار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے قوانین بنائے جن سے خواتین کو پوری حٖفاظت ملتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کو چھوڑ کر جہاں مسلمان آبادیا ں ہیں لیکن ا نکی آمدنی کا انحصار تیل کی دولت ہے، باقی وہ تمام مسلمان ممالک پسماندہ ہیں جہاں عورتوں کو گھر سے باہر کام کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ ایسے مسلمان ممالک جن میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ کام کرنے میں ان کی حفاظت اور حقوق کا خیال رکھا گیا ہے وہاں اقتصادی ترقی تیزی سے ہوئی ہے۔ ان میں انڈونیشیا، ملائیشیا قابل ذکر ہیں۔ جنوبی ا مریکہ، افریقہ ، ایشیا، میں جہاں مرد اور عورت دونوں برابر کام کرتے ہیں لیکن اگر تعلیم عام نہیں ہے ، یا انسانی حقوق کا اہتمام نہیں ہے تو وہاں بھی ترقی کی رفتار سست ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں قدرت نے سمندر، صحرا، زرخیزمیدان، پہاڑ، ہر چیز سے انتہائی فیاضی سے نوازاہے، اس کو اسکے قائدین نے ایسے لوٹا،کھسوٹا، نوچا،اور ایسے اس کا خون نچوڑا، کہ نہ اس میں تعلیم آئی، نہ عورتوں کے لیے کام کرنے کے مواقع۔انکی کرپشن نے اس ہو نہار ملک کو نو زائیدہ ہی لاغر اور بے کار زندہ لاش بنا دیا۔ جس قوم کے رکھوالے ستر سال اس کے وسائل لوٹتے رہے، اور یہی نہیں، بلکہ بیرونی قرضہ اس ملک کے نام پر لے کر اپنی جیبیں بھرتے رہے ۔ اس کو ہدایت کے لیے عالموں کے بجائے جاہل ملاوں کے حوالے کر دیا جو زمینداروں، ٹھیکیداروں، جاگیرداروں، اور بد عنوان سیاست دانوں کے آلہ کار تھے۔تو اس کا وہی حشر ہوا جو ہونا ہی تھا۔ جو چند با کردار اور ہوشمند افراد تھے، وہ بے بس تماشا ہی دیکھتے رہے اور کچھ نہیں کرسکے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک ایسا حاکم دے دیا ہے جو کرپشن کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے لیکن اب تک کرپشن سرطان کی طرح پاکستانییوں کی جڑوں میں پھیل چکی ہے۔ انتظامیہ کیا اور عدلیہ کیا ، سب ہی اس کا شکار ہیں۔ نہ انصاف ملنے کی امید ہے اور نہ اس سرطان کو روکنے کی۔ کرپٹ حضرات اپنی لوٹی ہوئی دولت کو فیاضی سے استعمال کرتے ہوئے ہر اس عنصر کو خرید رہے ہیں جو ان کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ اس میں میڈیا کیا، پولیس کیا اور عدالتیں کیا؟ عوام زیادہ تر علم سے بیگا نہ ہیں۔ ان کو نہیں پتہ کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ کچھ تو کہتے ہیں کہ رشوت دینا یا لینا کیا بری بات ہے؟ عمران خان نے تو اپنی مہم چلا کر رشوت کے ریٹ اور بڑھوا دیئے ہیں۔ انہی پرانے کرپٹ لیڈروں کو لے آئو، تا کہ رشوت کے ریٹ تو کم ہوں!
گذشتہ ستر سال میں یہ نہیں کہ عورتوں کے حقوق پر قوانین نہیں بنے۔ ضرور بنے لیکن ان قوانین کا کیا فائدہ ؟ ان کو نافذ کرنے کے لیے جو حکومتی مشینری چاہیے وہ ہی نہیں ہے۔اول تو خواتین میں ان قوانین کا علم ہی نہیں۔ اگر علم بھی ہے تو وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے پولیس اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے کتراتی ہیں۔ کیونکہ انصاف تو طاقتور اور پیسہ والوں کو ملتا ہے، غریبوں، بے سہارا کو صرف دھکے۔پیسہ والے جرم کر کے بھی آزاد ہو جاتے ہیں۔ حقوق کی حفاطت کے قوانین بنائیں یا نہ بنائیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پاکستانی حکام خوشی خوشی پیرس، لندن، جنیوا، بیجنگ، میکسیکو، نیو یارک بھاگے بھاگے جاتے ہیں۔ وہاں جا کر عورتوں کی بھلائی اور حقوق پر کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں، کبھی دھواں دھار تقریریں بھی کرتے ہیں۔ جوریزولیوشن پاس ہوتے ہیں اورعالمی معاہدے بنتے ہیں ان پر ہنسی خوشی پاکستان کو پابند بھی کرتے ہیں۔ پھر کچھ سیاحت، کچھ رشتہ داروں اور دوستوں سے ملا قاتیں اور خریداری کر کے خیر سے واپس آ جاتے ہیں۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سال کے سال ایک جھوٹی، سچی، مبالغہ آمیز رپورٹ شائع کر دی جاتی ہے۔اگر کوئی ا مداد مل جائے تو ضابطے کی کاروائی بھی کر دیتے ہیں، جیسے کہ اقوام متحدہ کے اصرار پر ایک جنسی صیغے پر مبنی اعداد و شمارکی رپورٹ بھی بنا دی گئی۔آج موقع بھی ہے، دن بھی ہے اور دستور بھی ۔ تو لیجئے، آپ کی خدمت میں اس رپورٹ کی کچھ جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے قہراً و جبراً اقوام متحدہ کے اصرار پر، اورغالباً امداد پر، 2004 میںاعدادو شمار کا ایک کتابچہ شائع کیاجس میں ۱۹۹۸ کی مردم شماری کی بنیاد پر ایسے زائچے پیش کیے جن سے مردوں اور عورتوں کی تعداد اور تناسب مختلف بنیادوں پر دکھائے گئے تھے۔وہ کتابچہ دوبارہ شائع نہیں کیا گیا حالانکہ اس کے بعد ۲۰۱۷ میں مردم شماری ہو گئی تھی۔لیکن امکان یہی ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی پاکستانیوں کی مردانگی کے ہاتھوں شکست تسلیم کر لی ہو گی۔بہر حال اس پرانی رپورٹ کے مطابق، اس وقت پاکستان کی آبادی ۲ء۱۳ کڑوڑ تھی جس میں عورتیں (بڑی ، درمیانی اور چھوٹی سب) تقریباً چھ کڑوڑ پینتیس لاکھ تھیں اور مرد، ماشا اللہ، چھ کڑوڑ اناسی لاکھ تھے۔ باقی دنیا میں عموماً عورتوں کی تعداد مردو ںسے زیادہ ہوتی ہے، جو اب پاکستان کی تازہ ترین مردم شماری سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے تحقیق چاہیے جو پاکستانیوں کو مرغوب نہیں۔یہ تناسب جب سے پاکستان بنا ہے ایسے ہی چلتا چلاآ رہا ہے۔ ایک قابل ذکر امر یہ ہے کہ ۱۹۹۸ کی دھائی میں پہلی مرتبہ آبادی کی افزائش کی رفتار قدرے کم ہوئی تھی۔ یہ غالبا فیملی پلاننگ کا بڑھتا ہوا رحجان تھا۔دیگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لڑکوں کی تعداد لڑکیوں سے قدرے زیادہ رہی۔ اس کی ایک وجہ لڑکے اگر بیمار پڑیں تو ان کا فوراً علاج کروایا جاتا ہے اور ان کو گھر میں بہتر غذا بھی دی جاتی ہے۔لڑکیوں کا اللہ ہی حافظ۔نو جوانوں کا تناسب پوری آبادی کا ۷ء۲۶ تھا جس میں اء۱۳ لڑکیاں تھیں۔ بوڑھوں میں مرد، عورتوں سے زیادہ تھے۔شہری آبادی کی نسبت، گائوں میں لوگ ذرا کم عمر میں شادی کرتے تھے۔ ۲۰۰۳ء میں شادی کی اوسط عمر لڑکی کی ۳ء۲۲ اور لڑکے کی ۴ء۲۶سال تھی، جو ۱۸ سال بعد اس سے بھی بڑھ چکی ہو گی۔ کہتے ہیں کسی ملک میں صحت عامہ کا معیار دیکھنا ہو تو وہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح جاننا چاہیئے۔ دیہات میں یہ شرح ۶ء۸۰ تھی اور شہروں میں ۲ء۶۷ ۔ ۲۰۰۲ میں ۱ء۸ فیصد عورتیں گھر کی سربراہ تھیں۔پاکستان میں صرف دو میڈیکل کالج خواتین کے تھے اور ۲۸ مردوں کے۔لیکن ۵۹۴،۸ مردوں کے مقابلہ میں ۷۰۹،۱۰ عورتیں ڈاکٹر ی پڑھ رہی تھیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اتنی زیادہ عورتیں ڈاکٹر بنتی ہیں لیکن زیادہ تر امتحان پاس کر کے گھر بیٹھ جاتی ہیں۔ نابینائوں کی تعداد کا تناسب عورتوں میں زیادہ تھا۔جس کی وجہ غالباً غیر متوازن غذا، ماحولیات اور علاج معالجہ کی کمی تھی۔اسی طرح معذور افراد کا ۷ء۵۷ فیصد خواتین تھیں۔ اسی طرز پر ذہنی پسماندہ کی کل تعداد میں زیادہ تناسب خواتین کا تھا۔ خواندگی میں خواتین کا تناسب ۳۲ فیصد تھا جب کہ مردوں کا تناسب ۸ء۵۴ فیصدتھا۔دیہی علاقوں میںخواندہ خواتین کا تناسب محض ۱ء۲۰ فیصد تھا جب کہ مردوں کا تناسب ۴ء۴۶ فیصد تھا، یعنی عورتوں سے دوگنا سے بھی زیادہ۔۲۰۰۳ اور ۲۰۰۴ کے سالوں میں کل طلباء کا ۴۱ فیصد سے بھی کم لڑکیاں سکول میں داخل تھیں۔ یہ تناسب مڈل اور ثانوی سکولوں میں اور بھی کم تھا۔ پروفیشنل کالجز میں لڑکیوں کا تناسب لڑکوں کے ۷۴ فیصد کے مقابل میں صرف ۲۶ فیصد تھا۔لیکن جب امتحان دینے کا وقت آتا تھا تو لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ لڑکیاں امتحان پاس کرتی تھیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیاں پڑھائی میں ہمیشہ بہتر نتایئج لاتی ہیں، بشرطیکہ انہیں موقع دیا جائے۔ لڑکے زیادہ فیل ہوتے ہیں اورہمیشہ سے۔اس کتاب میں اور بہت سے دلچسپ اعدادو شمار ہیں۔ کتاب کا ٹائیٹل ہے: (Compendium on Gender Statistics, 2004)
پاکستان میں عورتوں کے ساتھ جرائم کی اور لمبی داستان ہے۔ شادی بیاہ اور ازدواجی زندگی سے متعلق ایک علیحدہ دردناک باب ہے۔اس راقم کی رائے میں، اگر پاکستان کی خواتین نے اپنے حقوق کی جنگ جیتنی ہے، تو اس کے لیے انہیں اپنے گھر سے شروعات کرنی ہونگی۔اپنے گھر کے مردوں اور عورتوں ، بچے بچیوں، لڑکے لڑکیوں، سب کی ایسی تربیت کرنا ہو گی جس سے وہ ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھیں اورمعاشرے کے با کردار رکن بن سکیں۔ نہ حکومتیں یہ کام کر سکتی ہیں نہ معاشرہ ہی کرے گا۔ اگر تو میری بات اثر کر جائے تو آئندہ پچاس سے ایک سو سال تک یہ ذہنی اور سماجی انقلاب آ سکتا ہے۔ ورنہ کبھی نہیں!