یوسف رضا گیلانی مقابلہ شیخ حفیظ

245

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات کا دنگل مچا ہوا ہے ایک طرف عدالت عظمیٰ میدان سجائے بیٹھی ہے دوسری طرف ملک بھر میں سینیٹ کے انتخابات میں جوڑ توڑ جاری ہے۔ جس میں دو بڑے پہلوانوں یوسف رضا گیلانی مقابلہ شیخ حفیظ کے درمیان زیادہ نظر آرہا ہے حالانکہ ملک بھر میں کل 48سینیٹروں کا انتخاب ہونا ہے۔ جس میں پنجاب میں گیارہ سینیٹر کل بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جس کے بارے میں سنا گیا ہے کہ چودھری برادران کی کرامات شامل ہیں جن کے عزائم کا کوئی علم نہیں ہے مگر پانچ پانچ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے بلامقابلہ سینیٹرزاور ایک وچولہ پارٹی ق لیگ کا سینیٹر ہے جن کے بارے میں خرید و فروخت پر کوئی شور نہیں مچا ہے جس پر سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس کو اپنی گود میں لئے بیٹھی ہے تاہم موجودہ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کو دو سینیٹروں کے امیدواروں مشاہد اللہ اور سینیٹر پرویز رشید کا صدمہ پہنچا ہے جس میں سینیٹر مشاہد اللہ وفات پا گئے جو نہایت دلیر اور نڈر سیاستدان تھے جنہوں نے جنرل مشرف کے دور آمریت میں جیلیں برداشت کی تھیں جبکہ سینیٹر پرویز رشید آمروں اور جابروں کے خلاف ایک طویل جدوجہد ہے جنہوں نے دور ایوبی سے دور مشرقی تک جیلوں کا سامنا ہے کیا جن پر فوجی جنتا آج تک ظلم و ستم کرتی آرہی ہے جن کو نواز حکومت سے اس لئے ہٹانا پڑا تھا کہ انہوں نے ڈان لیک کا راز افشاں کیا تھا حالانکہ وہ اس اجلاس میں موجود نہ تھے۔ چونکہ وہ فوجی مارشلائوں کے خلاف ایک طویل جدوجہد کرتے چلے آرہے ہیں اس لئے فوجی مارشلائوں کی نسلوں نے انہیں پہلے وزارت سے ہٹایا تھاآج انہیں سینیٹ سے بھی ہٹا دیا کہ انہوں نے کوئی نام نہاد واجبات ادا نہیں کئے ہیں حالانکہ وہ ان ناجائز اور من گھڑت واجبات کی ادائیگی کے لئے تیار تھے مگر ریاست کے اوپر ریاست کے حاکموں نے اپنے الیکشن کمیشن اور عدالت کے ذریعے سینیٹ سے باہر کر دیا جبکہ پاکستان کا کرپٹ ترین اور غیر ملکی شہری فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی بزور طاقت منظور ہو چکے ہیں۔ تاہم موجودہ سینیٹ کے انتخابات میں مار دھاڑ جاری ہے جس میں مسلط حکمران پارٹی پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرین اپنی پارٹی کے خلاف بغاوت پر تلے ہوئے ہیں جن کو موجودہ حکومت کی حمایت کرنے پر اپنے اپنے حلقوں میں عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جن کے عوام مہنگائی، بیروزگاری اور بھوک ننگ سے بدحال اور بے حال ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے لاتعداد پارلیمنٹرین نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب عمران خان اور ان کے حامیوں کی مزید حمایت نہیں کریں گے یہ وجوہات ہیں کہ عمران خان نے عدالت عظمیٰ کے پیچھے چھپنے کا سہارا لیا ہے کہ عدالت آئین کے خلاف کوئی فیصلہ دے کر اوپن بیلٹ کی اجازت دے تاکہ اول ان کے باغی پارلیمنٹرین بھاگ نہیں پائیں اگر وہ باغی ہوئے تو عمران خان انہیں پارٹی سے نکال دیں گے جس سے وہ پارلیمنٹ سے بھی خارج ہو جائیں گے کتنے بڑے افسوس کا مقام ہے وہ شخص جس نے اپنے لندن میں بیس سال گزارنے پر بعض لوگوں کو بے وقوف بنایا کہ وہ برطانوی نظام جیسا انصاف کا نظام نافذ کرے گا یا پھر وہ مدینہ ریاست قائم کرے گا وہ آج اپنے باضمیر پارلیمنٹرین کو غلام بنا کر ووٹ لینے پر تلا ہوا ہے جبکہ ایک پارلیمنٹرین اپنی مرضی، خواہش اور ضمیر کے مطابق جس کو چاہے ووٹ دے سکتا ہے جو پارٹی سے برطرفی اور پارلیمنٹ سے برخاستگی سے خوف زدہ ہو کر اپنی ناجائز اور نااہل حکومت کا ساتھ دینے پر مجبور ہو گا۔ بہر کیف موجودہ سینیٹ کے انتخاب میں یوسف رضا گیلانی مقابل شیخ حفیظ دنگل مچے گا۔ ایک طرف سابقہ سپیکر اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی دوسری طرف بین الاقوامی ساہوکاری اور سامراجی طاقتوں کا ایجنٹ حفیظ شیخ ہیں جو ہر کمزور حکومت کے وزیر خزانہ بنتے چلے آرہے ہیں جن کی وزارت خزانہ میں پاکستان دنیا کا مقروض ترین ملک بن چکا ہے جن کے دور وزارت میں پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری اور بھوک ننگ میں ہزاروں گنا اضافہ ہوا ہے جن کی موجودگی میں پاکستان دیوالیہ پن اختیا رکرنے والا ہے۔
جن کے دور وزارت میں پاکستان کے اثاثے قرق ہونے والے ہیں۔ جن کے دور میں ملک اربوں ،کھربوں کا مقروض ہو کر بنک کرپٹ ہونے جارہا ہے۔ ایسے میں ملک کے محب وطن پارلیمنٹرین کے لئے امتحان ہے کہ وہ ملک دشمن کا چنائو کریں یا پھر محب وطن سیاستدان کا، یہ فیصلہ اب ملک کے قومی اسمبلی کے ممبران کو کرنا ہو گا چاہے انہیں عمران خان پارٹی سے نکال دے تاکہ پاکستان بچ جائے۔ ورنہ بین الاقوامی ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو تباہ و برباد کر کے صومالیہ اور افغانستان سے بھی زیادہ بدحال کر دیا جائے ۔جس کے بعد ملک بکھرتا ہوا نظر آرہا ہے بحرحال قوموں پر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جس میں قومیں فیصلہ کرتی ہیں کہ اپنے وطن کو کیسا بچایا جائے آج شاید پاکستانی قوم اور ان کے نمائندوں پر وہ قت آپہنچا ہے کہ وہ ملک کو بچانے کے لئے قربانی دیں تاکہ پاکستان پر بین الاقوامی ساہوکاری کی سازشوں کو ناکام بنا دیں جو قرضوں کی آڑ میں ملکی اثاثوں پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ جس کے اتحادی اور حامی موجودہ حکمران ٹولہ اور ان کا نگہبان ہیں۔ (اللہ پاک اس وطن عزیز کو بچائے۔آمین)