خدارا اپنے اقدار کو سمجھو!اسکی حفاظت کرو!

253

اِس کائنات کو بنے پتہ نہیں اربوں، کھربوں سال گزر گئے ہیں، اسی حساب سے یہاں قومیں آئیں، مختلف ادوار میں مختلف مذاہب کے لوگ آئے، ہر ایک اپنا تہذیب و تمدن ساتھ لایا، ان کی اپنی زبان تھی، اپنا لباس، پہننا، اوڑھنا، کھانا، پینا، ادب و آداب تھے اور عموماً شکلاً بھی کافی مماثلت تھی۔ اب بھی آپ کسی اجتماع میں جائیں تو آپ کو مختلف شکل والے لوگوں کو دیکھتے ہیں توفوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کا تعلق کس ملک سے یا کس قوم سے ہے۔ تو صاحبو انسان کی شناخت اس کی زبان اس کے لباس سے بخوبی ہو جاتی ہے، خودار اقوام اپنے کلچر سے جڑی رہتی ہیں وہ نقالی کو اپنا شیوہ نہیں بناتیں بلکہ اپنی تہذیب پر فخر کرتی ہیں لیکن بعض احساس کمتری میں مبتلا اقوام بہت جلدی کسی بھی تہذیب سے متاثر ہو کر اپنے کلچر کا چوغہ اتار پھینکتی ہیں اور اپنے آپ کو بہت قابل فخر گردانتی ہیں۔ انہیں معلوم نہیں جس تہذیب کو انہوں نے اپنایا ہے وہ ان کے لئے ایک تمسخر بن جاتی ہے اور مختلف تہذیبوں کے لوگ ان پر ہنستے ہیں کہ ۔ ’’ اوہ! ان کا تو کوئی معاشرہ ہی نہیں، نہ ان کا پہناوا ہے نہ زبان ہے نہ ملک ہے‘‘، یہ کون لوگ ہیں؟۔
ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام کا مطلب واحدانیت پر یقین، سو حکمرانی بھی اس خدائے برتر کی ہے، کوئی نہیں اس کے سوا، وہ وحدہ لاشریک ہے۔ ظاہر ہے جب مذہب اسلام ہے تو اس کے کچھ طور طریقے، ادب و آداب بھی ہوں گے۔ تہذیب و معاشرت بھی ہو گی۔ اس کے تشخص کے لئے لباس، غذا سب کچھ ہو گا۔ اسلام میں حلال و حرام کا تصور ہے۔ بہت سے حقوق کے بارے میں احکام ہیں۔ زندگی کے ہرشعبہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے جن سے انحراف، دائرہ اسلام سے انسان کو خارج کر دیتا ہے، یہاں پر معمولی سے ایک احکام ستر پوشی کو ہی لے لیا جائے تو اس کی پابندی مرد و عورت دونوں پر واجب ہے۔
آئیے تو کچھ بات حقوق العباد پر ہو جائے۔ اولاد پر سب سے پہلا حق اس کے والدین کا ہوتا ہے۔ ماں کا درجہ یہاں تک ہے کہ اس کے پیروں تلے جنت رکھ دی گئی ہے۔ کیونکہ ماں جن تکلیف دہ مراحل سے دوران تخلیق گزرتی ہے اس کا اندازہ اولاد نہیں کر سکتی۔ خداوند کریم نے اپنے تخلیق کا ذریعہ ماں کو بنایا ہے۔ اس کی بارگاہ میں جو ماں کا رتبہ ہے بارہا اس نے بیان کر دیا ہے۔ سو اسلئے ماںکا احترام لازمی ہے۔ اسلامی معاشرے میں اس کی بڑی اہمیت ہے لیکن زمانے نے جو کروٹ لی ہے اور معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اُس کا سدِباب کرنا بہت ضروری ہے، دوسری تہذبیں جو مادر پدر آزاد ہیں ان کی تقلید میں اسلامی معاشرہ بری طرح مسخ ہوا ہے۔
’’علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے‘‘ بالکل یہ قول سچ ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ چینی لباس پہن لو یا ان کے کھانے پینے اور دوسرے معمولات کو بھی اپنا لو، مسلمان اس وقت دوسری تہذیوں سے متعارف ہونے کے بعد خود کو بدلتے جارہے ہیں۔ حرام حلال میں تمیز کو مٹانے کی کوشش ہے۔ اب ان کی نہ کوئی قومی زبان رہی ہے نہ قومی لباس، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ 20سال بعد اب یہ نئی پود جو دیار غیر میں پرورش پارہی ہے۔ اپنی مادری زبان کے بارے میں کچھ جان سکے گی؟ ان کا اصل پہناوا کیا تھا بتا سکیں گے؟ امریکہ ہی میں پرورش پانے والے بیشتر بچے جب بولنا سیکھتے ہیں تو انگریزی میں ہی بات کرتے ہیں۔ والدین گھٹی میں انگریزی زبان گھونٹ کر پلا دیتے ہیں۔ والدین اپنا رہن سہن لباس وغیرہ سب تبدیل کر لیتے ہیں بلکہ ایسے ہی جیسے کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔ لیکن حضور !کوّا مور کے پر لگا کر مور نہیں ہو جاتا بلکہ کوا ہی رہتا ہے، اس کی اپنی برادری اسے ٹھونگے مار مار اپنے قبیلے سے باہر نکال دیتی ہے۔
اب پاکستانی خواتین نے بھی کافی پر پرزے نکال لئے ہیں۔دوپٹہ غائب ہو چکا ہے۔ ماشا اللہ اس افتاد کو ہوا دینے میں پیارے میڈیا کا بہت ہاتھ ہے۔ اسلامی تہذیب اور معاشرت کا جنازہ اس نے بڑی دھوم سے نکالا ہے کہاں کی ستر پوشی کہاں کا ایمان سب ختم ہو چکا۔ اینکر خواتین نئے ہیر سٹائل بنا کر اپنے خدوخال نمایاں کرتی دکھائی دیتی ہیں حالانکہ سر ڈھکنے کی ہدایت ہے اور جن اعضاء کی ستر پوشی کا حکم ہے انہیں ہی پوری طرح نمایاں کر دیا جاتا ہے۔ عورت نے اپنی عزت اپنا مقام خود گرا دیا ہے ’’اپنا سکہ کھوٹا تو پرکھنے والے کو کیا دوش‘‘ اگر یہ خواتین احتجاج کرتیں کہ ہم اپنے لباس میں تبدیلی نہیں کریں گے تو میڈیا ان کو مجبور نہیں کر سکتا تھا۔ اگر سب خواتین یک جنبش قلم یہ احتجاج کرتیں مگر یہ تو معلوم ہوتا ادھار کھائے بیٹھی تھیں جیسے ہی دوپٹہ غائب ہوا شرم و حیاء انہوں نے بیچ ڈالی۔ سمجھ میں نہیں آتا باپ، بھائی، شوہر اس عریانیت کی اجازت کس طرح دیتے ہیں؟ سنا ہے لڑکیاں ڈیٹ پر جانے لگی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے مناتی ہیں، مائیں اگر منع بھی کرتی ہوں گی تو انہیں دقیانوس، پرانے زمانے کی روح کہہ کر چپ کرا دیاجاتا ہے۔ بعض جاہل مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ لوگ بہت ایڈوانس ہو گئے ہیں۔ تو موضوع یہی تھا والدین کے حقوق، ان کا ادب و احترام جو اب بالکل جاتا رہا ہے، پورا آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے۔ غیر مذاہب میں شادیاں ،بغیر نکاح کے ساتھ رہنا، شادی کے پھیرے وغیرہ یہ سب عام ہو چکا ہے۔ اب لوگ پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے شروع ہی سے اپنی اولاد کو قابو میں کیوں نہ رکھا لیکن اب انہیں اپنی عزت بچانی مشکل ہے۔ بہو کی بدزبانی بیٹے کی خاموشی، بہو جس وقت چاہے پولیس بلا کر ساس سسر کو نکلوا سکتی ہے۔
ایک ڈاکٹر صاحب اپنے بیٹے سے بہت پریشان تھے جو ہر وقت اپنے دوستوں کو جمع کئے ہر وقت گٹار بجاتا رہتا اور بھی شور شرابا کرتا رہتا، ڈاکٹر صاحب کے کنٹرول میں کچھ نہیں تھا چونکہ بیٹا اگر پولیس کو بلا کر کوئی شکایت کر دیتا تو وہ خود جیل میں ہوتے۔ اس لئے ایک ترکیب انہوں نے سوچی بچے کو لے کر پاکستان گئے، ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد سب سے پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ بیٹے سے گٹار لے کر توڑ دیا اور زبان چلانے پر تھپڑ لگائے، بیٹا روتا ہوا ایک پولیس کے افسر کے پاس گیا اور باپ کی شکایت کی، پولیس افسر ذرا متاثر نہ ہوا بلکہ الٹا کہنے لگا، پترا تیرا پیو اے تینوں مار سکدا ہے، اور دو چار نصیحتیں کر کے آگے بڑھ گیا، یہاں رہ کر برخوردار کا دماغ ٹھکانے آیا، انہیں باپ کی اہمیت کا پتہ چل گیا۔