نارِ نمرود میں اپنی چونچ میں پانی بھر بھر کے لانے والی چڑیا سے ہی سبق لے لو، سینیٹ کے الیکشن، بے غیرتی کا دھندہ!

662

کہاجاتا ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں جلانے کیلئے آتشِ نمرود جلوائی تو اس کے شعلے آسمانوں کو چھورہے تھے، اس وقت نمرود انتظامیہ کے سامنے مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ ان بلند ہوئے شعلوں میں تپش اتنی ہے کہ کوئی آدمی حضرت ابراہیم ؑ کو اس میں جاکر ڈالے گا کیسے؟ حسبِ توقع شیطان نے حل ڈھونڈ نکالا کہ ایک بہت بڑی منجنیق (غلیل) تیار کی جائے جس میں حضرت ابراہیم کو باندھ کر دور سے پھینکا جائے، جب نار نمرود کے شعلے بلند تھے ایسے میں ایک خدا کی ننھی مخلوق چھوٹی سے چڑیا اپنی چونچ میں پانی بھر بھر کر لاتی تھی اور آگ کے شعلوں کو اس سے بجھانے کی کوشش کررہی تھی، کسی نے پوچھا کہ اے چڑیا تو کیا سمجھتی ہے کہ تیری چونچ کے پانی سے یہ آگ بجھ جائے گی؟ تو چڑیا نے جواب دیا کہ نہ بجھے مگر کم از کم میرا شمار ان لوگوں میں تو ہو جائے گا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی کے لئے جلائی گئی آتش نمرود کو بجھانے کی کوشش کی تھی، آج سارے پاکستانیوں کو اس ننھی چڑیا سے کم از کم سبق حاصل کر لینا چاہیے، ہر چیز کو ہر ایشو کو حکومت کے لئے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے خاص طور پر جب اخلاقیات کی بات آئے تو جو ایک بہت انفرادی اور نجی نوعیت کی بات ہے، اس ہفتے جب تک یہ کالم آپ تک پہنچے گا شاید اس ملک کی سینیٹ کے الیکشن ہو چکے ہوں گے اور جانوروں کی منڈیوں کی طرح سے میلہ مویشیاں ختم ہو چکا ہو گا۔ انسانوں کے ضمیروں کے سودے ہو چکے ہوں گے۔ پچھلی مرتبہ جو کچھ ہوا وہ سب آپ اپنی اپنی ٹی وی سکرینوں پر پچھلے ہفتے دیکھ ہی چکے ہیں کہ
بازار لگ رہے ہیں، انسان بک رہے ہیں
جھوٹے حلف اٹھا کے، قرآن بک رہے ہیں
کیسی یہ ریاست ، کیسا ہے یہ مدینہ
کعبے میں مومنوں کے، ایمان بک رہے ہیں!
بدقسمتی سے دنیا کی کوئی بھی ریاست انسانوں کے ایمانوں اور ضمیروں کا تحفظ نہیں کر سکتی، یہ سب ہم لوگوں کو اس چڑیا کی طرح سے کرنا ہو گا۔ آپ کے اطراف کے لوگ چاہے کتنے ہی بے ایمان، بے ضمیر، بے غیرت اور بے حس کیوں نہ ہوں، آپ کو صرف اپنا ذاتی رول ادا کرنا ہے، قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، بے شک آپ کے چاروں طرف معاشرہ حد سے زائد بگڑا ہوا ہو آپ کو بقول فراز ’’اپنے حصے کی شمع جلائے رکھنا ہے‘‘یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ جو لوگ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں، ان کے ماں باپ بھی اسی کرپشن کی پیداوار ہوں گے، کیا پتہ کہ ان کرپٹ لوگوں کی پیدائش بھی ناجائز ہو اور ان کی اگلی نسل بھی حلال نہ ہو؟ تو کیا آپ چاہیں گے کہ آپ اگر اس قسم کی حرکتیں کریں گے تو لوگ آپ کے والدین اور آنے والی نسل کے متعلق بھی شکوک و شبہات کا اظہار کریں؟ بدقسمتی سے پچھلے پانچ چھ عشروں میں پاکستانی معاشرے میں کرپشن اتنی سرایت کر گئی ہے کہ ہم کسی چوری کو چوری نہیں سمجھتے، کسی جھوٹ کو جھوٹ نہیں سمجھتے اور کرپشن کو کرپشن نہیں سمجھتے لیکن اگر آپ دنیاوی احتساب سے بھی بچ جائیں مگرایک احتساب اوپر والا بھی کرے گا، کیاآپ تیار ہیں اس کے لئے؟