سمندر کی 11 ہزار میٹر گہرائی میں پہنچنے والا ’’نرم‘‘ اور خودکار روبوٹ

285

بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے سمندر کی انتہائی گہرائی میں تحقیق کےلیے ایسا خودکار روبوٹ تیار کرلیا ہے جو بہت نرم ہونے کے علاوہ آزادانہ انداز میں تیر بھی سکتا ہے۔

حالیہ تجربات کے دوران اس روبوٹ کو سمندر کے سب سے گہرے مقام ’’ماریانا ٹرینچ‘‘ میں تیرا کر آزمایا گیا ہے۔ یہ مقام 10,900 میٹر (تقریباً 11 ہزار میٹر) گہرائی میں واقع ہے۔ قبل ازیں ابتدائی تجربات میں اسے بحیرہ جنوبی چین کی 3,224 میٹر گہرائی میں کامیابی سے تیرایا گیا تھا۔

بتاتے چلیں کہ ہم جیسے جیسے سمندر کی گہرائی میں اترتے جاتے ہیں، ویسے ویسے پانی کا دباؤ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ماریانا ٹرینچ کی گہرائی میں یہ زمینی سطح پر ہوا کے دباؤ (کرہ ہوائی کے معیاری دباؤ) سے 1,071 گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ جس پر انسان تو کیا، سطح زمین پر رہنے والا کوئی بھی جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔

اس کے باوجود، اب تک کی چند ایک تحقیقی مہمات کے دوران سمندر کی ان گہرائیوں میں کئی طرح کے جاندار دریافت ہوچکے ہیں جو سطح زمین پر پائے جانے والے جانوروں اور پودوں کے مقابلے میں خاصے مختلف بھی ہیں۔

واضح رہے کہ سمندر کی اتھاہ و تاریک گہرائیوں تک پہنچنے کےلیے خصوصی اور مہنگی مشینوں (بالخصوص آبدوزوں اور روبوٹس) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بناء پر یہ زمین کے اُن مقامات میں شامل ہیں جن کے بارے میں ہم آج تک بہت کم جان پائے ہیں۔

البتہ، سمندر کی اِنہی گہرائیوں میں پائی جانے والی جیلی فش اور ان جیسے دوسرے جانوروں میں ایسا کوئی بندوبست نہیں ہوتا لیکن، نرم اور لجلجا جسم رکھنے والے یہ جانور، اس شدید دباؤ پر نہ صرف زندہ رہتے ہیں بلکہ اِدھر سے اُدھر تیرتے بھی پھرتے ہیں۔

چینی شہر ہانگ ژُو میں شی جیانگ یونیورسٹی کے تائیفینگ لی اور ان کے ساتھیوں سمندری گہرائی میں پائی جانے والی ’’گھونگھا مچھلی‘‘ (اسنیل فش) سے متاثر ہو کر ایک نرم روبوٹ ایجاد کیا ہے۔