چین امریکا کے ساتھ ’باہمی مفادات کے حامل‘ تجارتی تعلقات بڑھائے گا، رپورٹ

270

بیجنگ: چین کی تیرہویں قومی عوامی کانگریس کا چوتھا اجلاس بیجنگ میں ہوا۔ چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے افتتاحی تقریب میں حکومتی ورک رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق 2020 میں چین کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2.3 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ 5.51 ملین دیہی غریب لوگوں کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔

گزشتہ پانچ سال میں چین کی جی ڈی پی 70 ٹریلین یوآن سے بڑھ کر، اس وقت 100 ٹریلین یوآن کی حد پار کر چکی ہے۔ عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، دنیا کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

چینی وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ چین کی ترقی کو بدستور متعدد خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن طویل المدتی معاشی ترقی کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ رواں برس چین کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کی مشترکہ تعمیر، اہم منصوبہ جات کے حوالے سے تعاون اور بنیادی ڈھانچے کے باہمی ربط کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ آر سی ای پی معاہدے کو جلد عمل میں لایا جائے گا، چین یورپ سرمایہ کاری معاہدے پر جلد دستحظ کیے جائیں گے اور چین جاپان جنوبی کوریا آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات میں تیزی لائی جائے گی۔ چین باہمی احترام کی بنیاد پر چین امریکا باہمی مفادات کے حامل تجارتی تعلقات کو بھی آگے بڑھائے گا۔

چین 2021 میں ’’ایک ملک، دو نظام‘‘، ’’ہانگ کانگ کے عوام، ہانگ کانگ کے حکمران‘‘ اور ’’مکاؤ کے عوام، مکاؤ کے حکمران‘‘ کے اصولوں اور اعلیٰ درجے کی خود اختیاری کےلیے وضع اصولوں کا جامع و درست نفاذ جاری رکھے گا۔

قومی سلامتی کے تحفظ کےلیے خصوصی انتظامی علاقوں میں قانونی نظام اور قانونی نفاذ کے طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ بیرونی قوتوں کو ہانگ کانگ اور مکاؤ کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے گا۔

علاوہ ازیں، تائیوان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو انتہائی مضبوطی اور ثابت قدمی سے روکنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔