منظر اور پس منظر

272

مجھ سے میرے ایک دوست پوچھ رہے تھے کہ پاکستان کا وہ کون سا سیاست دان ہے جس کو آپ اپنے گھر خوشی سے بلانا چاہیں گے اور میں سوچ میں پڑ گیا، بطور ایک غیر جانبدار تجزیہ نگار میں پاکستان کے ہر سیاست دان سے اختلاف کرتا ہوں اور کچھ سیاست دانوں کو شائد اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ ان کو زیرِ بحث لائوں، ایک عرصے تک اعتزاز احسن کا احترام کرتا رہا، ان کا طریقِ گفتگو مجھے بھاتا تھا اور ان کی مدلل باتیں بھی، مگر جب عدلیہ بحالی کی تحریک چلی تو میرا ماتھا ٹھنکا ’’ریاست ہو گی ماں کے جیسی‘‘ عدلیہ بحالی تحریک سے اس نظم کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا یہ محض لوگوں کو MOBILIZEکرنے کاایک حربہ تھا اعتزاز کو معلوم تھا کہ ان پڑھ قوم جس کو قوم کہنا بھی عجب لگتا ہے، ان کی باتوں کو سمجھ نہیں پائے گی اور عدلیہ بحال ہو جائے گی اور پھر کوئی ان سے پلٹ کر نہیں پوچھے گا کہ تم قوم سے کیا وعدے کررہے تھے؟ عدلیہ تو بحال ہو گئی مگر پھر اس عدلیہ کی طرف خود اعتزاز نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا مگر پھر بھی اعتزاز سے سوال تو بنتا ہے کہ افتخار چودھری کو قوم پر مسلط کر کے آپ نے اچھا نہیں کیا، پھر پانامہ کیس کی سماعت اعتزاز میڈیا پر اپنے کمنٹس سے آگ لگاتے رہے، ان کے قانونی مشورے بہت کم قانونی تھے تب سے اعتزاز نظر سے گر گئے، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے اپنا وقار خود کھویااور بلاول کی قیادت قبول کی اور پی پی پی کی بدمعاشیوں پر کبھی زبان نہیں کھولی، زرداری کے بارے میں ان کی خاموشی پر بھی ان کے اپنے مرتبے اور وقار کے خلاف تھی، اب کوئی سمجھا دے کہ ایسا شخص اپنا وقار نہ سنبھال سکا تو اوروں کی تو خیر اوقات ہی کیا۔
جب سے الیکٹرانک میڈیا منظر عام پر آیا ہے تب سے سارے نام نہاد لیڈروں کی قلعی کھل چکی ہے، ان کا اٹھنا بیٹھنا، طرزِ تکلم ان کی عادات، مکاری اور عیاری سب عیاں ہو چکی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی بھی، ان کے خوفناک چہرے بھی، میڈیا بھی ان کے رنگ میں رنگ گیا اور پاکستان کے باسیوں کو نظر آنے لگا کہ پرنٹ میڈیا پر بہت مہذب نظر آنے والے یہ لوگ کس قدر بھیانک ہیں، اس سے زیادہ سوچ ان کی بھیانک ہے جب سے الیکٹرانک میڈیا چلاہے اس نے نہ تو قومی نوعیت کے سوال اٹھائے، ایسا لگا کہ میڈیا کو قومی مسائل کا ادراک ہی نہیں کبھی لگتا ہے کہ شائد ان کو مسائل کا پتہ تو ہے مگر ان پر بات کرنا نہیں چاہتے کیونکہ ان کے رویوں سے لگتا ہے کہ ان کو معلوم ہے کہ ملک کو کس کس نے تباہ کیا اور ان کے پیٹ میں بہت سے راز بھی ہیں مگر یہ راز کبھی قوم کو نہیں بتاتے، سیاست دانوں کے اہم راز ان کو معلوم ہیں اور یہ راز کبھی عوام تک نہیں پہنچتے، الیکٹرانک میڈیا ان رازوں سے آگاہی کو سیاست دانوں کی بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے اور پیسے بٹورتا ہے، یہ سارے اینکرز اور تجزیہ کار مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، غربت سے نکل کر آئے ہیں لہٰذا ہمیشہ قابل فروخت ہوتے ہیں، ان کو قومی مفادات کا احساس کبھی نہیں ہوتا، بڑی رقم ملتی ہے تو یہ سیاسی جماعت کا بیانیہ بھی ذرائع ابلاغ پر بیچتے ہیں، جاوید جبار ایک ٹی وی پروگرام پر کہہ چکے ہیں کہ ٹی وی کے تمام اینکرز زیادہ تر کالج کے DEBATERSہیں ان کو بولنا آتا ہے مگر یہ لوگ سیاست کی درک نہیں رکھتے، یہی حال میڈیا ہائوسز کے مالکان کا ہے ان میں سے کوئی بھی صحافی نہیں ہے اور اخبار و ٹی وی چینل ان کا کاروبار ہے، یہ لوگ بھی اپنے میڈیا ہائوس کی پالیسی پیسے بنانے کے لئے تشکیل دیتے ہیں یہ پالیسی عام طورپر حکومتوں کو بلیک میل کرنے، اپوزیشن کا بیانیہ بیچنے یا حکومت اور اپوزیشن کی حمایت رقم کے عوض ہوتی ہے، لیڈرز اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ میڈیا کے در پر ہی کھڑے رہتے ہیں، سیاسی لیڈروں سے لے کر دینی رہنمائوں تک ان کے محتاج ہو گئے ہیں اور اب میڈیا ہائوس یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بادشاہ گر ہیں، حکومتیں بنواسکتے ہیں اور حکومتیں گرا بھی سکتے ہیں۔ ’’EXACT‘‘کا معاملہ اٹھا تھا تو اس کے مالک کو سزا ہو گئی مگر کامران خان اور افتخار احمد کو بچا لیا گیا۔
اس پس منظر میں اب سارے ٹی وی چینلز پر آنے والے نام نہاد لیڈروں کے چہروں پر نظر دوڑائیے تو آپ دیکھیں گے کہ ٹی وی سکرین پر بیٹھے ہوئے یہ سارے چہرے سیاست کے بد صورت چہرے ہیں اور سب کا جہالت، مکر، منافقت اور ریاکاری سے گہرا تعلق ہے یہ لوگ قرآن کی آیات پڑھ کر جھوٹ بولتے ہیں، یہ اس وقت تک کسی سیاسی جماعت کے بیانیے کے ساتھ رہتے جب تک ان کا مفاد ہوتا ہے، جماعت بدل لیتے ہیں تو دوسری جماعت کے گن گاتے ہیں ان کو سکھایا جاتا ہے کہ تمہارا لیڈر خدا اور رسول سے بھی بڑا ہے اور اس کے ہر ہر لفظ پر ایمان لانا ہے، یہی حال صحافیوں کا ہے جو نوکری بدلتے ہیں تو ان کا صحافتی مسلک بھی بدل جاتا ہے، ٹی وی سکرین پر نمودار ہونے والے ہر سیاسی لیڈر جس کا دامن کرپشن اور جرائم سے آلودہ ہے ان سے ہی قومی مسائل کا حل پوچھا جاتا ہے اور ان کی باتوں میں افلاطون اور سقراط کا فلسفہ بھی تلاش کر لیا جاتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کو ملک کے اہلِ علم، دانشور، فلسفی، ماہرین معاشیات اور ماہرین سماجیات ملتے ہی ہیں۔
صحافت میں دفاعی تجزیہ نگاروں کی ایک بڑی فوج بھی اتار دی گئی ہے یہ ریٹائرڈ جنرلز سیاست کی مبادیات سے تو واقف نہیں مگر فوج کا دفاع کرنا جانتے ہیں صرف اس بنیاد پر کہ فوج کی وجہ سے بائیس کروڑ عوام رات کو چین سے سوتی ہے اور جب فوجی بجٹ اور ملٹری آڈٹ کی باتیں کی جاتی ہے منہ سے جھاگ آنے لگتے ہیں، یہ سارے دفاعی تجزیہ نگار MILITARY BACKED GOVERNMENTSکا دفاع کرنے پر قادر ہیں اگر اعتراض کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ ہم بھی عوام کا حصہ ہیں اور ہمیں بھی سیاست کرنے کا حق حاصل ہے، واقعہ یہ ہے کہ سیاست دان، حکومت، فوج اور میڈیا کو ملک کے بنیادی مسائل سے آگاہی ہے ہی نہیں، ملک میں آٹھ بڑے دینی حلقے ہیں اور ان کے اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے مسلح جتھے، یہ ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں اور کسی بھی انقلابی قدم کو یہ غیر اسلامی کہہ کر رد کر دیتے ہیں، ملک میں ان کی گرفت اس قدر مضبوط ہے کہ انہوں نے اپنا الگ عدالتی نظام بنا رکھا ہے اور ایک متوازی حکومت، ان کو چیلنج کرنا حکومتوں کے لئے بھی مشکل ہے، ذرائع ابلاغ پر ان کا شدید دبائو رہتا ہے، ان کے خلاف زبان نہیں کھولی جا سکتی، ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کا ہتھیار اور تکفیری فتوے ان کی طاقت ہیں، میڈیاان سے خوفزدہ رہتا ہے۔
عمران کی نااہلیت نے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ان کی سب سے بڑی ترجیح افغان مسئلے کا حل ہے اور یہ مسئلہ مستقبل قریب میں تو حل ہوتا نظر نہیں آتا، عمران ملکی سیاست سے نابلد نظر آتے ہیں تو بین الاقوامی سیاست کو کیسے سمجھ سکتے ہیں چین کو جب تک پاکستان کی ضرورت ہے وہ پاکستان کو سپورٹ کرتا رہے گا مگر ایسا نہیں ہو گا کہ وہ اپنے مفادات قربان کر کے پاکستان کا ساتھ دے گا، عرب ممالک پہلے ہی اپنا قبلہ درست کر چکے اور رفتہ رفتہ اپنی معاشیات کو عالمی سماجیات کے ساتھ ہم آہنگ کررہے ہیں، ان کا رسوخ پاکستان کے اندر ہے اور ملک کی داخلی سیاست پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت چین، امریکہ، عرب ریاستوں اور افغان سیاست کا مرکز ہے سب اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور ہمارا تو کھیل ہے ہی نہیں۔