سینیٹ کے الیکشن میں ضمیر فروشوں کی خرید و فروخت ، شایدپہلے غلام بھی اس طرح نہ بکتے ہوں گے!!

365

پاکستان میں آج کل ضمیر فروشوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، سینیٹ کے الیکشن قریب ہیں، ضمیر فروشوں کا دلال آصف علی زرداری آج کل اسلام آباد آ کر بیٹھ گیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے میں ہر ایک کو خرید سکتا ہوں۔ میں نے بڑا حرام کا مال کمایا ہوا ہے۔ امریکنوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پاکستانی پیسوں کی خاطر ہر چیز کو بیچ سکتے ہیں۔ تاریخ بھری پڑی ہے حکمرانوں نے اپنے مفاد کی خاطر ملک کی ہر چیز پر سمجھوتہ کیا بلکہ ملکی غیرت اور عزت کو بھی بیچ ڈالا۔ نواز شریف نے ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر نے بن لادن کا سوداکیا، آصف زرداری نے بے نظیر بھٹو کے قتل پر سودا کیا۔ آج تک اس کے قاتل پکڑے نہیں جا سکے۔ مشرف نے پتہ نہیں کتنے لوگوں کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا۔ غرضیکہ ہم بکائو قوم ہیں اس سے پہلے ہر مرتبہ سینیٹ کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی جو ہر مرتبہ ڈھکے چھپے انداز میں ہوتی تھی سب سے زیادہ بکائو مال بلوچستان اور کے پی کے میں پائے جاتے ہیں۔ وہاں پر لوگ چھوٹے چھوٹے علاقوں سے سیٹیں جیت کر آتے ہیں۔ عوام کا ان پر کوئی دبائو نہیں ہوتا ہے۔ وہ مال بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ترقیاتی فنڈ میں تو شاید اتنے پیسے نہیں بنتے ہیں لیکن ہر مرتبہ سینیٹ کی سیٹیں سب سے چنگا سودا ہوتا ہے۔ بولی اربوں میں جا پہنچتی ہے۔ نہ پارٹی وفاداری کاخیال نہ سیاسی قدریں اور نہ اللہ کا خوف۔ صرف پیسہ ہی ایمان ہے اور وہی زندگی کا مقصد ہے۔ ضمیر بیچ دو، پارٹی بیچ دو، ایمان بیچ دو لیکن اپنے آپ کو بھی ضرور بیچ ڈالو اور مال کما لو۔
اس مرتبہ عمران خان نے پہلے سے اس کی پیش بندی کی کوشش کی اس بدترین ہارس ٹریڈنگ پر چار طرف سے حملہ کیا۔ سب سے پہلے کے پی کے کے پچھلے مرتبہ پیسہ لینے والے افرادکی ویڈیو لیک کی گئی تاکہ ایک ثبوت سامنے آجائے کہ اس طرح ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے اس میں کے پی کے کے ہی ممبران تھے پھر قومی اسمبلی میں اوپن بیلٹ کی قراردادپیش کی گئی حالانکہ عمران حکومت کو پتہ تھا کہ اس کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے پھر بھی اس نے یہ بل پیش کیا ہے۔ دنیا کو پتہ چل سکے کہ حکمران کیا چاہتے ہیں۔ تیسرے اس نے ایک صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش کر دیا کہ عدلیہ کو بھی اس میں شامل کیا جائے ۔ چوتھے عمران خان نے مزید بیان دینے شروع کر دئیے کہ کیسے جن پارٹیوں کے ممبران کی تعداد کم ہوتی ہے وہ کیسے سینیٹ کی زیادہ سیٹیں حاصل کر لیتے ہیں۔ عدلیہ نے بہت بہتری سے اس پر کارروائی کرنی شروع کی۔ چیف جسٹس نے فل کورٹ بنچ تشکیل دے دیا۔ پھر سماعت بہت جلدی جلدی رکھنی شروع کر دی۔ دوسری پارٹیوں اور چاروں صوبوں کے اٹارنی جنرل کو اس میں شامل کر لیا۔ پی پی پی کے رضا ربانی اور دوسرے لوگ اس میں شامل کر لیا۔ اب سماعت اپنے آخری مراحل میں چل رہی ہے۔ شاید چند دن میں اس ریفرنس کا فیصلہ آجائے۔ فیصلہ جو بھی آئے لیکن اب صوبائی ممبروں کو پیسہ لینا اتنا آسان نہیں ہو گا اور جو پیسہ دے گا اور جو پیسہ لے گا وہ ایک مرتبہ بہت دھیان سے سوچے گا کہ اس کا انجام کیا ہو گا اور اس کی چالاکی اب چھین نہیں رہ سکتی۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس پر کئی اہم سوالات اٹھائے اور متناسب نمائندگی کے قانون کی یاد دلائی کہ کیسے کم ضمیر ہوتے ہوئے بھی کسی پارٹی کو سینیٹ کی زیادہ سیٹیں کیسے مل جاتی ہیں۔ یقینا لوگ زیادہ بکتے ہیں اور ان کی بولی لگتی ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے اس کا جواب طلب کیا کہ اس ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لئے الیکشن کمیشن کیا کیااقدامات کر سکتا ہے اور کیا کررہا ہے۔ ایک تجویز یہ آئی کہ بیلٹ کے پیچھے اگر اس ممبر کا نام لکھ دیا جائے تو کسی بھی چیلنج کی صورت میں بیلٹ کو چیک کیا جا سکتا ہے۔
آئندہ آنے والے دن سپریم کورٹ کیا فیصلہ لے کر آتی ہے ،لیکن اب بات طے ہے کہ اب یہ ہارس ٹریڈنگ اتنی آسان نہیں ہو گی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بکنے والا چید نوٹوں کی خاطر اپنا ضمیر اور ایمان بیچ دیتا ہے اور خریدنے والا بھی۔ اپنی گندی ذہنیت کا اظہار کر دیتا ہے۔ بے ایمانی لوٹ مار اور بے غیرت کا ایسا بازار پاکستان کی سیاست میں گرم ہے کہ عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے۔ انسان شرمندہ ہے قانون شرمندہ ہے۔ ضمیر شرمندہ ہے لیکن کم ظرف سیاستدان شرمندہ نہیں ہوتے۔ آپ انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے زمانہ قدیم میں جب غلام بکتے تھے اور ان کی بولیاں لگتی تھی تب بھی اس کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ سب کو اصلیت کا پتہ ہوتاتھا لیکن اب اصول کی سیاست ہے اور خاص طور سے ایشیاء میں چاہے بھارت ہو یا بنگلہ دیش ہو سری لنکا ہو، برما ہو، نیپال ہو غریب ملکوں میں یہ کاروبار ہوتا ہی رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اس پر بہت سخت فیصلے دے تاکہ آئندہ کسی کو بھی سینٹ کے لئے خرید و فروخت کی ہمت نہ ہو۔