کیا جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے؟

232

سینٹ کے انتخابات اگلے مہینے کی تین تاریخ کو ہیں لیکن اس تاریخ کے آنے تک ہر دن پاکستان میں صورتِ حال ایسی ہوتی جارہی ہے جیسے کسی بڑی جنگ کی تیاری ہو رہی ہو!
لیکن اس جنگ پر بات کرنے سے پہلے ایک دلچسپ پیش رفت جو ملک کی ایک معروف ہستی سے متعلق ہے اور ہمیں غور و فکر کرنے مائل کرتی ہے!
مولانا طارق جمیل پاکستان کے مشہور اور بہت مقبول مذہبی اسکالر اور دانشور ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے نام سے کپڑوں کا ایک برانڈ رجسٹر کروایا ہے جو ان کے نام کے ابتدائی حروف سے مل کر بنا ہے، یعنی ایم ٹی جے۔ ظاہر ہے کہ مولانا کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا میں ہلچل کا بپا ہونا عین قرین از قیاس ہے۔ سو اس پیش رفت پر لوگوں کے تبصرے ہونے میں دیر نہیں لگی۔ تسلی کی بات یہ ہے، جو ایک طرح سے خوشگوار حیرت کے زمرہ میں آتی ہے، کہ زیادہ تر تبصرے مثبت انداز کے اور مولانا کے اس اقدام کے حق میں ہیں۔ ہم اسے خوشگوار پیش رفت اسلئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ایک بہت ہی منفی رجحان جو گذشتہ بیس تیس برس میں بہت قوی ہوچکا ہے ہر جائز کام کو بھی ہدفِ ملامت بنانے کا ہے۔ ہم اچھے کام میں بھی سوچے سمجھے بغیر کیڑے نکالنے لگتے ہیں اور معاملہ کی تہ میں جائے بغیر ایسی بہتان تراشی کو روا سمجھتے ہیں جو کردار کشی سے کم نہیں ہوتی!
لیکن مولانا طارق جمیل نے اپنے ناقدین کو بہت مسکت، انتہائی معقول اور مدلل جواب دیا ہے۔ انہوں نے ایک طرف تو یہ وضاحت کی کہ انہیں کاروبار کیوں کرنا پڑا۔ مولانا نے آج سے بیس برس پہلے الحسنین کے نام سے فیصل آباد میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا جس میں دینی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی تاسیس کے بعد سے ملک کے دس مختلف شہروں میں اس کی شاخیں قائم ہوچکی ہیں۔ ظاہر ہے کہ مدرسوں کے چلانے کیلئے، خاص طور سے ایسے مدارس جن میں طالبعلموں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی، وسائل درکار ہوتے ہیں۔ مولانا ملک میں بہت مقبول ہیں اور ان کے پرستاروں اور مداحوں کی ایک بڑی تعداد ان مدارس کو چلانے میں ان کے ساتھ مالی تعاون کرتی رہی ہے لیکن اتنے مدارس کومخیر حضرات کی دریا دلی پر تو نہیں چھوڑا جاسکتا اور بقول مولانا کے اس کووڈ کے عذاب نے بہت سے دینے والے ہاتھوں کو بھی تنگ دست کردیا ہے۔
سو مولانا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے اپنے وسائل خود پیدا کرینگے جوبہت مستحسن اقدام ہے۔ ناقدین کے اعتراضات کے جواب میں مولانا نے انہیں تاریخ کا سبق دہرانے کی طرف مائل کیا ہے اور تاریخ سے شناسا بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے فقہائے دین اور مکاتیبِ فکر کے امام بھی تجارت کیا کرتے تھے۔ امام ابو حنیفہ کے ضمن میں تو تاریخ گواہ ہے کہ وہ اپنے دور میں بغداد میں کپڑے کے سب سے بڑے کاروباری تھے۔ اور پھر ہر مسلمان جانتا ہے کہ اللہ کے پیغمبروں نے تجارت کے پیشے کو اپنا یا۔ ہمارے اپنے رسولِ اکرمﷺ تجارت کیا کرتے تھے ان کی تجارت لے لین دین میں بھی ان کی شہر ت صادق اور امین کی تھی۔
ہم تو بلکہ یہ کہیں گے کہ مولانا طارق جمیل نے ملک کے دوسرے مذہبی رہنماوٗں کیلئے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ آخر کیوں یہ فکر ہی ہم پر حاوی رہے کہ مذہبی پیشوا اور رہنما کوئی کام نہیں کرینگے اور اپنے معاش کیلئے دوسروں کے محتاج رہینگے؟ کشکولِ گدائی اس جاگیردارانہ فکر کی لعنت ہے جو اس قوم کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی لیکن مولانا طارق جمیل جیسے روشن ضمیر اور بالغ نظر مذہبی رہنما قوم کو خود داری اور عزتِ نفس کا سبق یاد کروانا چاہ رہے ہیں جو قوم کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے کیلئے ناگزیر ہے!
لیکن وائے اس قوم کی حرماں نصیبی کہ اس کے سیاسی کلچر پر بے ضمیر اور ضمیر فروش کب سے ناگ کی طرح کنڈلی مارے ہوئے بیٹھے ہیں اور اپنا زہر سیاسی جغادریوں اور طالع آزماؤں کے رگ و پے میں سرایت کرچکے ہیں۔
اس بے ضمیری کے مظاہرے کا سب سے بڑا سیاسی اکھاڑا برسوں سے ہماری سینٹ میں ہوتا آیا ہے اور یہ دنگل، جو ہر تین سال کے وقفہ سے لگتا ہے ایک بار پھر سیاست کے طالع آ زماؤں اور گماشتوں کے ضمیر آزمانے کیلئے اگلے ہفتے لگنے والا ہے جب تین مارچ کو سینٹ کی نصف نشستوں کو بھرنے کیلئے پھر سے انتخابی معرکہ ہوگا۔
سینٹ کے انتخابات، ایک عرصے سے عمران خان کے ایک ہوشمند اور زیرک وزیر اسد عمر کے بقول بکرا منڈی کا سماں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سینٹ کے ووٹوں کی بکری اور خریداری واللہ بالکل ایسے ہی ہوتی ہے جیسے بکرا پیڑھی میں بکرے خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔
سینٹ یا ایوانِ بالا کو پارلیمان کا جزو بنانے کے پسِ پشت جو تحریک تھی وہ جمہوری نظام میں برابری اور مساوات کو شامل کرنے کی تھی کیونکہ قومی اسمبلی میں صوبوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے اعتبار سے ہے اور سب جانتے ہیں کہ وفاق کے بڑے صوبے یعنی پنجاب کی آبادی بقیہ تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ لہذا 1973 کا آئین بنانے والے یہ چاہتے تھے کہ چھوٹے صوبوں میں یہ احساسِ کمتری نہ پیدا ہونے دیا جائے کہ ان کی نمائندگی وفاق کو چلانے میں پنجاب کے مقابلے پر کم تھی۔ اسی لئے آئین میں یہ شامل کیا گیا کہ سینٹ میں چاروں صوبوں کی برابر کی نشستیں ہونگی!
لیکن 1973کا آئین بنانے والوں سے دو بنیادی غلطیاں ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے سینٹ کے الیکشن کو بالواسطہ قرار دیا، یعنی صوبائی اسمبلیوں کو سینٹ کیلئے انتخابی کالج بنادیا جس سے بے ایمانی اور ہارس ٹریڈنگ کو ہوا ملی اور کرپشن کا عفریت ریاست اور وفاق کے دیگر اداروں کی مانند اس میں بھی در آیا!
دوسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے سینٹ میں ووٹ ڈالنے کیلئے شفاف طریقہ کو تج کر خفیہ ووٹنگ کو ترویج دی جس سے ہارس ٹریڈنگ کو بطورِ خاص مہمیز ملی اور کرپشن کا کاروبار بامِ عروج پہ پہنچ گیا۔ اس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ آئین میں یہ سقم جان بوجھ کر چھوڑے گئے تاکہ جاگیردارانی نظام کی دیگر لعنتوں کے ساتھ کرپشن کا عفریت بھی سینٹ میں راج کرسکے اور گزشتہ قریب قریب پچاس برس کی تاریخ گواہ ہے کہ سینٹ کے ہر انتخاب میں بکرا پیڑھی سجتی رہی اور وہی قبیح اور ناگوار عمل آج بھی پورے شدد و مد سے جاری و ساری ہے!
ہمارے سیاستدانوں کی نیتوں میں کس حد تک فتور ہے اس کا اندازہ بخوبی اس سے ہوجاتا ہے کہ 2002 میں اس وقت کے دونوں جلاوطن سیاسی جغادریوں، بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان جو ایک سمجھوتہ میثاقِ جمہوریت کے نام سے لندن میں ہوا تھا اس میں دونوں پارٹیوں نے یہ عہد کیا تھا وہ سینٹ کے انتخاب میں شفافیت کی خاطر آئین میں ترمیم کرکے اس کے انتخابی عمل کو کھلے ووٹ کا تحفہ دیں گی، لیکن باری باری جب ان دونوں منافق گروہوں کو پرویز مشرف کے زوال کے بعد اقتدار نصیب ہوا تو انہوں نے آئین میں ترمیم کرنا تو دور رہا کھل کر کرپشن کا بازار گرم کیا اور سیاست اور سیاسی عمل کو ایک گندی گالی بنادیا۔
ان بدطینت سیاسی شعبدہ بازوں کا یہ گھناوٗنا کھیل آج تک جاری ہے، عمران خان نے سینٹ کے انتخابی عمل کو بکرا پیڑھی بنانے سے محفوظ کرنے کا جو عمل شروع کیا ہے تو اس کی یہ دونوں پارٹیاں کھل کے مخالفت کررہی ہیں۔ ان کا یہ مفسدانہ کھیل محض عمران دشمنی میں نہیں ہے بلکہ ان کو خطرہ ہے کہ اگر سینٹ میں کھلی ووٹنگ ہوئی تو ان کی بکرا منڈی کا کیا ہوگا؟ کون پھر بکرے بیچے یا خریدے گا؟
عمران حکومت نے شفاف ووٹنگ کیلئے جو صدارتی فرمان جاری کیا ہے اس کی یہ دونوں منافق گروہ، جن کی پشت پر وہ شیطان کا چیلا ملا فضلو ہے، جم کے مخالفت کررہے ہیں۔ ان کی ابلیسی حرکتیں تو خیر تعجب کا باعث نہیں ہیں لیکن حیرت تو یہ ہے کہ ملک کی عدالتِ عالیہ کا عمل بھی اس ضمن میں ایسا ہے کہ اس سے طرح طرح کے شبہات اور وسوسے جنم لے رہے ہیں!
عمران حکومت نے از خود عدالتِ عالیہ میں شفاف ووٹنگ کیلئے ریفرنس دائر کیا ہوا ہے لیکن اس ریفرنس کی بارہا سماعت کے باوجود سپریم کورٹ اب تک فیصلہ سنانے سے قاصر رہا ہے۔ کیوں قاصر رہا ہے اس کا جواب فی الحال ہمارے یا کسی کے پاس بھی نہیں لیکن عدالتِ عالیہ میں ایک اور حوالے سے یوں لگتا ہے کہ جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے اور معزز جج صاحبان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ویسے ہی کوشاں نظرآرہے ہیں جیسے کہ ہمارے سیاسی پنڈتوں کی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی پرانی روایت ہے!
ہم نے شاید گزشتہ ہفتے کے کالم میں بھی اس کا ذکر کیا تھا کہ عدالتِ عالیہ کے سربراہ نے ایک عجیب و غریب فیصلہ سناتے ہوئے اپنے ہی ایک معزز رکنِ عدالت، جسٹس فائز عیسی کو وزیرِ اعظم عمران خان کے حوالے سے کسی بھی مقدمے یا ریفرنس میں عدالتی بنچ کا رکن بننے پر پابندی لگادی ہے کیونکہ، ان کے فرمان کے مطابق اس عدالت کی غیر جانبداری پر حرف آسکتا ہے۔ لیکن ایسا صوابدیدی اختیار انہیں کوئی قانون، کوئی روایت نہیں دیتی کہ وہ عدالتِ عالیہ کے کسی بھی جج کو کسی مدعہ کو سننے سے باز رکھ سکیں!
اس فرمان کے خلاف جسٹس سے کسی نے ایک اٹھارہ صفحات پر مشتمل اپنا اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے اور اپنے اس عمل سے ذرائع ابلاغ کو بھی آگاہ کردیا ہے کیونکہ، ان کے کہنے کے مطابق، عدالتِ عالیہ کے سربراہ نے جو فرمان جاری کیا تھا اس کی نقل ان کو تو بالکل نہیں بھیجی گئی ہاں نیوز میڈیا پر وہ پہلے الم نشرح ہوگئی اور انہیں بھی اس سے آگاہی ذرائع ابلاغ کے توسط سے ہی ہوئی!
یا مظہر العجائب! یہ عدالتِ عالیہ میں بھی کیا ایک طرح کا دنگل کھل گیا ہے یا رسہ کشی ہورہی ہے جج ایک دوسرے کے اختیار کو چیلنج کررہے ہیں اور پوری کہانی قوم کے سامنے الم نشرح ہورہی ہے یا دیدہ و دانستہ کی جارہی ہے؟ یہ ہو کیا رہا ہے؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟
سیاستدانوں میں تو ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور نیچا دکھانے کی رسم ہمارے جاگیردارانہ سیاسی نظام کی وہ لعنت ہے جس پر ہر بالغ نظر پاکستانی آٹھ آٹھ آنسو روتا ہے اور ماتم کرتا ہے ان بدنصیب قوم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتی ہے کہ سے نہ خود نجات پاتے ہیں نہ قوم کو اس عذاب سے آزاد ہونے دیتے ہیں لیکن عدالتِ عالیہ کے ججوں اور انصاف کی مسندوں پر بیٹھنے والے بھی اگر سیاست کی بساط کھول کے بیٹھ جائیں اور ایک دوسرے کی ٹانگ یوں کھلے عام گھسیٹنے لگیں تو پھر بدنصیب قوم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتی ہے کہ:؎
ہمیں امید تھی جن سے ستم کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ کشتہٗ تیغِ ستم نکلے,!!
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا!