دھند میں لپٹا ہوا الیکشن!!

223

ڈسکہ میں اس روز اگر دھند نہ ہوتی تب بھی دھاندلی ہونی تھی یہ صرف قومی اسمبلی کی ایک سیٹ نہ تھی بہت کچھ دائو پر لگا ہوا تھااس ایک سیٹ کی اہمیت کا پتہ اسوقت چلے گا جب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوگی اسی لئے تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون نے سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے حلقہ این اے 75کا انتخاب جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اس روز اس تحصیل کے ایک گائوں گوئند کے میں دو افراد قتل ہوے ان میں سے ایک کا تعلق تحریک انصاف اور دوسرے کا نواز لیگ سے تھا اسی روز مختلف مقامات پر پولنگ کے دوران دس افراد زخمی ہوے یوں نفرت اور انتقام کے سفاک ہاتھوں نے کئی خاندان اجاڑ دئے انتخابی قوانین کے مطابق الیکشن کے دن صوبائی انتظامیہ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتی ہے اس اعتبار سے پولنگ اسٹیشنوں پر امن و امان قائم کرنیکی تمام ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے لیکن انیس فروری کے دن ڈسکہ کے چودہ پولنگ سٹیشنز سے دو درجن کے لگ بھگ پریزائیڈنگ افسر ووٹوں کے تھیلوں سمیت اغوا کر لئے گئے اگلے روز الیکشن کمیشن نے جو پریس ریلیز جاری کیا وہ اس ادارے کی بے بسی اور مجبوری کا منہ بولتا ثبوت ہے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے اعلامیے کے مطابق انکی کوششوں کے باوجود رات بھر پریزائیڈنگ افسروں سے رابطہ نہ ہو سکاانکا پتہ لگانے کیلئے چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب‘ سیالکوٹ کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہ ملاراجہ صاحب نے کہا ہے کہ رات تین بجے انکا رابطہ چیف سیکرٹری سے ہوا‘ انہوںنے گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کو تلاش کرنیکی یقین دہانی کرائی اگلے دن صبح چھ بجے یہ دودرجن سرکاری افسر ووٹوں کے تھیلوں سمیت خود بخود پولنگ سٹیشنوں پر واپس آگئے اسوقت رات بھر غائب رہنے کی وجہ بعض نے یہ بتائی کہ دھند کی وجہ سے وہ گھر نہ پہنچ سکے تھے اس سوال کا انکے پاس کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے ٹیلیفون کا جواب کیوں نہ دیا دو روز بعد ان میں سے دو پریزائیڈنگ افسروںنے میڈیا کو بتایا کہ انہیں گن پوائنٹ پر اغوا کیا گیا تھاتصدق حسین کے بیان کے مطابق ان سے ووٹوں کے تھیلے چھینے گئے اور گولی مارنے کی دھمکی دی گئی دوسرے پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ اغوا کرنیوالے سپیشل برانچ کے افسر تھے جنہوں نے انکے بچوں کو بھی دھمکیاں دیں
ہم نے ووٹوں کے تھیلوں کے غائب ہونے کی خبریں تو اتنی مرتبہ سنی ہیں کہ اب اس قسم کی وارداتوں پر کوئی حیرانگی نہیں ہوتی مگر دو درجن پریزائیڈنگ افسروں کا اغوا ایک ایسا محیرالعقول واقعہ ہے جس نے ہماری انتخابی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیاہے تحریک انصاف کے وزرأ نے اس واردات کی صفائیاں پیش کرتے ہوے حسب توقع تمام تر ذمہ داری مسلم لیگ نون پر ڈال دی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ڈسکہ کی ضلعی انتظامیہ نواز لیگ کے ساتھ ملی ہوئی تھی پنجاب کی مشیرہ اطلاعات کے اس اتمام حجت نے عثمان بزدار کی اہلیت اور کارکردگی پر ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے اغوا کی اس واردات کے جواب میں کہا ہے کہ اس روز چار الیکشن ہوئے تین میں تو امن و امان کی صورتحال ٹھیک تھی ایک میں قانون شکنی ہوئی جس کی تحقیقات کی جائیگی یہ دلیل اسلئے کمزور اور مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف وزیر اعظم عمران خان سینٹ کے انتخاب میں سینیٹروں کے بکنے کی دہائی دیتے ہوے مطالبہ کر رہے ہیںکہ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کرایا جائے تا کہ کوئی اپنا ووٹ نہ بیچ سکے اور دوسری طرف انکی صوبائی حکومت دن دھاڑے پریزائیڈنگ افسروںکو ووٹوں کے تھیلوں سمیت اغوا کر رہی ہے ایسا انیائے تو انکی حکومت میں بھی کبھی نہیں ہوا جنہیں خان صاحب اٹھتے بیٹھتے چور کہتے ہوے نہیں تھکتے خان صاحب جو بھی کہیں اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ ہر چہ در کان نمک رفت نمک شداب صاف چلی شفاف چلی اور تبدیلی کا نعرے لگانے والوں کو کچھ دیر رک کر اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیئے بقول شاعر اصل بات یہ ہے کہ؎
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے!!
الیکشن کمیشن نے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں بیس پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کو متنازعہ قرار دیکر حتمی نتیجے کا اعلان تا دم تحریر نہیں کیا مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے بیس فروری کو ماڈل ٹائون میں دو گھنٹے کی طویل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے این اے 75 ڈسکہ کے 360 پولنگ سٹیشنوں میں دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے الیکشن کمیشن کے اعلامیے کو خان صاحب کی حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا ہے اس تحصیل سے فائل کی گئی میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کے دن پوری تحصیل میں خوف و ہراس کا سماں تھا سارا دن موٹر سائیکل سوار گنیں لہراتے ہوے پولنگ اسٹیشنوں کے ارد گرد منڈلاتے رہے اس دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ٹرن آئوٹ صرف پینتیس فی صد تھا اسکے باوجود پولنگ کی رفتار نہایت سست تھی اس تحصیل کے 335 پولنگ اسٹیشنوں کے مرتب شدہ نتائج کے مطابق نواز لیگ کی نوشین افتخار نے 97588 اور تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی نے 94541 ووٹ لئے ہیں ڈسکہ کے الیکشن کی طرح اس سوال کا جواب بھی دھند میں لپٹا ہوا ہے کہ مسلسل چھ برسوں سے جنہیں ببانگ دہل چور اور ڈاکو کہا جا رہا ہے انہوں نے ڈسکہ میں ستانوے ہزار سے زیادہ ووٹ کیسے لئے صرف یہی نہیں بلکہ مسلم لیگ نون نے تحریک انصاف کے قلعے خیبر پختونخواہ میں نوشہرہ PK63 جو کہ وزیر دفاع پرویز خٹک کا حلقہ ہے میں واضح اکثریت سے الیکشن جیت لیا ہے اس معرکے میں نون لیگ کے اختیار ولی نے 21,122 جبکہ تحریک انصاف کے میاں عمر نے 17,023 ووٹ لئے اسی طرح پنجاب اسمبلی کے حلقہ PP51 وزیر آباد میں ضمنی انتخاب کے نتائج کے مطابق نون لیگ کی طلعت چیمہ نے 53903 ووٹ لیکر اپنی خاندانی نششست دوبارہ حاصل کر لی انکے مقابلے میں پی ٹی آئی کے چوہدری یوسف نے 48484 ووٹ لئے دوسرے کئی سوالوں کی طرح یہ سوال بھی دھند میں لپٹا ہو اہے کہ اتنی ہوشربا مہنگائی ‘ غربت اور بیروزگاری کے باوجود پی ٹی آئی کے امیدوار ہزاروں ووٹ لینے میں کیسے کامیاب ہوے ڈسکہ کی دھند میں لپٹا ہوا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس حکومت کے دور میں پولنگ اسٹیشنوں سے درجنوں پولنگ افسر اغوا کر لئے جائیںوہ دو ڈھائی سال بعد ہونیوالے عام انتخابات کیسے منعقد کرائے گی فی الحال بہ زبان شاعر یہی کہا جا سکتا ہے کہ؎
کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں
کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا!!