ٹیکساس میں برف!!!

253

ہم ایک بہت لمبے عرصے نیویارک میں رہے ہیں۔ کراچی سے نیویارک آ کر کئی چیزوں کا تجربہ ہوا ہمیں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا الٹی طرف چلنا یعنی Left Hand Drive،لوگوں کا دوپہر بارہ بجتے ہی ایک دوسرے کو Good Nightکہنا، دو چار ڈالرز بچانے کے لئے لوگوں کا سیل کی لمبی لمبی لائنوں میں لگے رہنا، میکڈونلڈ، برگر کنگ جیسی فاسٹ فوڈ کی جگہوں پر پبلک جگہوں پر سوڈا کی مشینیں لگی ہونا جس میں جتنا چاہیں سوڈا Refillکر سکتے ہیں یعنی بہت سی نئی چیزیں لیکن سب سے نیا نیویارک آ کر ہمارے لئے تھا ’’برف باری‘‘ ۔
ہم نیویارک آئے اپریل کے مہینے میں تو سردی تقریباً ختم ہی ہو گئی تھی اور پھر فوراً Summerآگیا جس سے لگا کہ یہاں موسم تو بالکل کراچی جیسا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم کو پتہ نہیں تھا کہ نیویارک میں برفباری ہوتی ہے لیکن جب تک انسان پر پڑتی نہیں ہے اُس چیز کے ہونے کا خاص احساس ہو نہیں پاتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا، کئی مہینے آرام سے گزرے اور پھر نومبر آگیا۔ نومبر کے آتے ہی ہلکی ہلکی برفباری ہونے لگی، ہم کو لگا کہ یہ تو کوئی ایسی تکلیف دہ چیز نہیں، برفباری اس طرح دیکھنے کا کبھی اتفاق بھی نہیں ہوا تھا، اس لئے اچھا بھی لگا لیکن پھر جیسے جیسے سردی بڑھتی گئی وہ طوفانی صورت اختیار کرتی گئی اور برف ایک دو انچ سے ایک دو فٹ تک پہنچ گئی، مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب ساری رات برفباری ہوتی رہی اور تقریباً تین فٹ برف گر گئی تو صبح میں اپنی گاڑی پر گری برف دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ یا اللہ یہ کیسے ہٹے گی؟؟ ایسا لگا کہ یہ ہمیشہ کیلے جمی رہے گی!!!
حالات اور وقت انسان کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ کراچی میں جس نے کبھی برفباری دیکھی بھی نہیں نیویارک میں کچھ ہی برسوں میں برف کے موسم کے ایکسپرٹ ہو گئے۔ جب Black Iceپر گرے تو پتہ چل گیا، اس موسم میں جوتے کیسے ہونے چاہئیں اور قدم کیسے اٹھانے چاہئیں، گاڑی کے اندر کون کون سے اوزار اور سامان برفباری سے نمٹنے کے لئے ہونا چاہیے کس طرح کے Saltاور Snow Blowerپاس ہونے چاہئیں، جب برف گررہی ہو تو کتنی کتنی دیر میں اُسے صاف کر لینا چاہیے اور گھر کس طرح گرم اور محفوظ رکھا جاتا ہے، یہ سب کچھ وقت نے سکھا دیا۔
کئی سال نیویارک میں گزار کر ہم ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں Moveہو گئے۔ موسم کے اعتبار سے ڈیلس نیویارک سے بالکل مختلف ہے، سب سے بڑی بات کہ برفباری نہیں ہوتی اس لئے ہم برف صاف کرنے کا سامان خوشی خوشی نیویارک میں ہی چھوڑ آئے، خوشی اس بات کی ہے کہ اب ہمیں برف ہٹانے کے ناپسندیدہ اور تکلیف دہ عمل سے چھٹکارا مل رہا تھا، اب برف مصیبت زیادہ معلوم ہونے لگی تھی۔
ٹیکساس آئے ہم کو تین سال ہو گئے اور ایک بار بھی برف نہیں پڑی لگا کہ جیسے ہم برفباری کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں ہمیشہ کے لئے، جیسے وہ دوسری زندگی تھی لیکن پھر فروری 2021ء آگیا۔
فروری کے دوسرے ہفتے میں ٹیکساس میں سنا کہ برف پڑنے والی ہے۔موسم سے متعلق احوال دیکھا تو پتہ چلا کہ چار پانچ انچ برف پڑنی ہے، ہم کو لگا یہ تو کچھ بھی نہیں ہے، نیویارک میں تو چارفٹ پڑ جاتی تو بھی سکول بند نہیں ہوتے تھے یہاں چار پانچ انچ برف کیا بگاڑے لے گی؟؟ لیکن ہوا کچھ اور یعنی بگڑا!!! اور خوب بگڑا۔
نیویارک میں جیسے ہی برف گرتی تھی کچھ دیر بعد سٹی یا ٹائون فوراً برف صاف کر دیتے تھے۔ سالٹ کے ٹرک کے ٹرک سڑکوں پر بھر بھر کر سالٹ ڈال جاتے تھے جن سے برف فوراً پگھل جاتی تھی، ہر گھر میں برف صاف کرنے کا پورا پورا انتظام ہوتا تھا لیکن ٹیکساس میں برف پڑنا بالکل ایسا ہے جیسے کراچی میں برف گر جائے جیسے وہاں لوگوں کو بالکل پتہ نہیں کہ برف صاف کیسے ہو گی ایسے ہی ٹیکساس کے رہنے والوں کو بھی خبر نہیں کہ برف کیسے صاف کریں؟؟
سب سے پہلے تو یہ کہ ٹیکساس میں کسی بھی قسم کے اوزار یا سامان برف صاف کرنے والا نہیں ملتا، ملے گا بھی کیوں جبکہ یہاں برف ہی نہیں پڑتی نہ ہی سالٹ ملتا ہے جو کہ سڑک پر پڑی برف پگھلانے کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ سڑکوں پر لوگوں اور گاڑیوں کا پھسل جانا بے حد خطرناک ہوتا ہے۔
ان شہروں کے لوگوں کو پھسلوان سڑکوں پر گاڑی چلانا اور کنٹرول کرنا بھی نہیں آتا۔ اسی لئے ڈیلس میں جو ابھی برفباری ہوئی تو پہلے ہی صبح ہسٹری کا بدترین ایکسی ڈینٹ ہو گیا سڑکیں پھسلوان تھیں اور ڈرائیورز نارمل سپیڈ پر گاڑی چلارہے تھے۔اس صبح ایک ساتھ 130گاڑیاں حادثے کا شکار ہو گئیں ایک ساتھ۔ برف پڑتے ہی ساری سڑکیں بند ہو گئیں اور ٹیکساس کا الیکٹرک گرڈ بھی جواب دے گیا جس کی وجہ سے پورے ٹیکساس میں بجلی اڑ گئی۔ کچھ جگہوں پر یہ وقفے وقفے سے آجارہی تھی اور کچھ جگہوں پر تین چار دن تک غائب رہی، بجلی کے نہ ہونے سے پانی اور گیس کی سپلائی میں بھی تعطل پیدا ہوا۔ سڑکوں کے بند ہو جانے سے سٹورز بھی بند پڑے تھے جو کھلے تھے ان میں اشیاء ندارد تھیں، صرف چار دن کی برف سے ٹیکساس ایک ہفتے کیلئے بند ہو گیا۔ٹیکساس کی برف کے بعد ہم کو نیویارک کی برف اچھی لگی چاہیے چار فٹ برف بھی پڑ جائے نیویارک بند نہیں ہوتا چلتا ہی رہتا ہے۔