جمعیت علماء ہندنے بھارتی مسلمانوںکے ساتھ کیاظلم کیا؟

328

بھارت کے ساڑھے انیس کڑوڑ مسلمانوں کی قیادت لا محالہ مذہبی جماعتوں نے کی۔مذہب میں بھی اور قومی سیاست میں بھی ۔ ان میں سب سی بڑی اور پرانی مذہبی جماعت جمعیت علماء ہند تھی۔ بھارت کے مسلمان ہر مسئلہ کے حل کے لیے ان جماعتوں کے قائدین کی طرف ہی دیکھتے تھے۔ اور وہ قائدین اپنی قومی شناخت کو مسلمانوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ، حکومتوں کی چاپلوسی، کرنے ،مفاد پرستی اور معمولی فوائد حاصل کرنے میںلگاتے رہے ۔ان کی چاپلوسی کا اندازہ مولانا مدنی کے اس بیان سے لگا سکتے ہیں جو انہوں نے حال ہی میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوے کہا:
جمعیت علماء ہند، ا نڈیا کے سیکریٹری جنرل، مولانا محمود مدنی صاحب نے فرمایا: ’’ میں آپ سے یہاں کہہ رہا ہوں، یہ بہت کنٹرورشیل بات ہے، میں کہہ رہا ہوں، مودی کی حکومت کے باوجود، میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ ہندوستان میں، اگر آیندہ سو سال بھی مودی رہ جائے، تو بھی ہندوستان، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ، پاکستان سے ہمیشہ اچھا رہے گا’’۔تالیاں
نقی احمد ندوی نے ، ایک تعلیم یافتہ اوردردمند مسلمان کی حیثیت سے، مسلمانوں کے ایک جلسہ سے خطاب کیا اور کیا خوب کیا۔ اس کو من و عن پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کو بھی پسند آئے گا۔ آپکو ایسا لگے گا کہ انکی باتیں پاکستانی علماء پر بھی صادق آتی ہیں :’’ ناظرین، آج سے سو سال پہلے ہندوستان میںدو بڑی تنطیمیںقائم ہوئیں، ایک جمیت علمائے ہند اور دوسری تھی آر ایس ایس(RSS)۔ جمیت علمائے ہند کو مجاہدین آزادی نے اس جوش و جذبہ کے ساتھ قائم کیا تھا کہ دیش کی خدمت کی جائے اور جد و جہد آزادی میں حصہ لیا جائے۔ اس کی نمائیندگی اس وقت کے عظیم علماء اور اسلامک دھارمک ودوان کر رہے تھے۔دوسری طرف ایک تنظیم آر ایس ایس قائم ہوئی، جس کو ۱۹۲۵ میں ہردواڑے میں قائم کیا گیا تھا۔ آخرایسا کیا ہوا کہ سو سالوں میں آر ایس ایس دنیا کی سب سے عظیم الشان تنظیم بن گئی اور اس نے ہندوستان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنی حکومت بنانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اور آخر ایسا کیا ہوا کہ مسلمانوں کی تنظیم سکڑ کر رہ گئی اور مسلمانوں کی تنظیمیں کہیں خاندانی اجارہ داری کا شکار ہو گئیں تو کہیں ان کے اندر ویژن اور مشن غائب ہو گیا، اور وہ ایک محدود علاقہ تک محدود ہو کر رہ گئیں۔اس پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے پہلے ہم آر ایس ایس اور جمیت علماء ہند کی تنظیم پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔جمیت علماء ہند کے جہاں تک ممبران کا تعلق ہے تو ایک اردو ویب سائٹ کے مطابق، پانچ سے دس لاکھ ممبران بتائے جاتے ہیں۔آر ایس ایس کے ممبران پچاس سے ساٹھ لاکھ ہیں۔جہاں تک برانچز کا تعلق ہے تو آر ایس ایس کی برانچیں پورے ہندوستان میں 56,859 ہیں۔جمعیت علمائے ہند کی برانچز کی تعداد ویب سائیٹ پر نہیں ملے گی، مگر ہم مان لیتے ہیں کہ پورے ہندوستان میں انکی برانچز ۲۸ ہیں۔ اگر ڈسٹرکٹس کو بھی شامل کر لیا جائے توتقریباً ۱۰۰ اور ۲۰۰ سے زائدنہیں ہیں۔یہاں زیادہ سے زیادہ ۲۰۰ ہیں اور وہاں چھپن ہزار ہیں۔ چنانچہ آر ایس ایس نے پورے سو سال کے اندر ۲۱ affiliates ادارے بنائے۔ درجنوں سیاسی اور مذہب اداروں کے علاوہ تعلیم کے میدان میںبھی ادارے پوری دنیا میں بنائے۔جمعیت علمائے ہند پر نظر ڈالیںتو ان کے پاس کوئی سیاسی ادارہ نہیں ہے۔ انہوں نے جو کامیابی حاصل کی وہ یہ کہ ان کہ صدر مولانا مدنی تین دفعہ کانگریس کے ذریعہ ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں۔اسی طرح مولانا محمود مدنی صاحب تھوڑے سال پہلے پارلیمنٹ کا رکن بننے کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ سیاست کے میدان میں جمعیت کی یہی خدمات ہیں۔
عوامی رابطہ سے متعلق جمعیت کا کوئی ایسا دن، سیاسی ادارہ، یا تھنک ٹینک نہیں ہے وہ البتہ تحفظ شرعیہ، ختم نبوت، یا اصلاح معاشرہ کے موضوعات پر بہت زیادہ اور بہت سے شہروں میں کانفرنسز کرتے رہتے ہیں ۔اس میں مولانا مدنی اور مولانا محمود، دونوں کی جمعیت علمائے ہندمیں برابر کی شرکت رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میںجہاں انکے پاس کئی بڑی بڑی آرگنائزیشن ہیں، جمعیت کے پاس کوئی سکول نہیں ہے، کوئی ادارہ نہیں ہے۔ ہاں اگر آپ یہ مان لیں کے جمعیت علماء کے ذمہ داران دالعلوم دیو بند کے سر براہان کی حیثیت سے ہمیشہ رہے ہیں اور ہم ان علماء کی تعلیم کے سلسکے میں ان خدمات کو بھی شامل کریں تو ہم ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں۔آر ایس ایس کا ادارہ بھارتی وچارہ کندرا ان کا تھنک ٹینک ہے۔ مسلمانوں کے پاس کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے۔ البتہ ایک ادارہ Institute of Objective Studies Think Tankکے نام سے ڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب نے قائم کیا تھا وہ بھی زوال کا شکار ہے اور خاندانی اجارہ داری کی طرف رواں دواں ہے۔اسی طرح آر ایس ایس نے سو سالوں میں نہ صرف اپنے ہندو بھائیوں کے لیے بہت بڑی بہت ساری آرگنائزیشن بنائی ہیں، بلکہ انہوں نے دوسری کمیونٹیز کے لئے بھی بنائی ہیں۔آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہوں نے سکھوں کے لیے بھی ادارہ بنایا ہے راشٹریہ سکھ سنگت۔اور مسلمانوں کے لیے بھی۔یعنی وہ مسلمانوں سے بھی گفتگو کرنا چاہتے ہیں، جیسے سکھوں سے۔تو نہ صرف وہ سو سالوں میں اپنے لیے ادارے بنانے میں کامیاب ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کے پاس ایسے ادارے نہیں ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ سو سالوں میں آر ایس ایس نے اتنا بڑا انقلاب کیسے پیدا کر دیا؟اور آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ ہماری تنظیمیں سکڑ کر رہ گئیں یا وہ محدود ہو کر رہ گئیں؟یہ غور کرنے کی بات ہے۔مگر آپ کو یہ جان کر شاید تعجب نہ ہوکہ آر ایس ایس نے وہی فارمولا استعمال کیا جو اسلام آپ کو سکھاتا ہے۔یعنی تعلیم۔
آج سے چودہ سو سال پہلے قران پاک مکہ کے اندر نازل ہوا تھا۔اس کی پہلی آیت تھی ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے‘‘ مسلمانوں نے جس پر عمل کیا اور تعلیم کوترجیح دی، دینی اورعصری، یہ دین کی تعلیم ہے اور یہ دنیا کی ۔ دنیا کی آدھی آبادی پر مسلمانوں کی حکومت قائم تھی، دنیا کی آدھی آبادی پر مسلمانوں کا پرچم لہرا رہا تھا۔یہی طریقہ آر ایس ایس نے اپنایا۔ایک ادارہ ودیا بھارتی جو پورے ہندوستان میں کام کرتا ہے وہ سارے ہندوستان میں سکولوں کا جال پھیلانے کے لیے آر ایس ایس کا کام کرتا ہے۔چنانچہ ۱۹۹۰ میں پانچ ہزار سکول، ۲۰۰۳ میں ۱۴ ہزار سکول، جس کے اندر دس لاکھ سے اوپر بچے پڑھتے تھے۔اور یہ بڑھ کر ۲۰۱۸ میں 24,396 سکول ہو گئے جن میں ساڑھے چار کڑوڑ بچے پڑھتے تھے۔ اور ۰۰۰،۹۳ استاد کام کرتے تھے۔آپ مان لیں کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں، شاید دو کڑوڑ پڑھتے ہوں گے۔اگر دو بھی نہیں، ایک کڑوڑ تو پڑھتے ہیں؟ یہ بچے آر ایس ایس کے سکولوں سے پڑھ کر کہاں جاتے ہیں؟ کوئی آئی ایس بنتا ہے، کوئی آفیسر بنتا ہے، کوئی منسٹر اور چیف منسٹر بنتا ہے۔کوئی وکیل بنتا ہے ، کوئی جج بنتا ہے۔گزشتہ پچاس سالوں میں آر یس ایس کے سکولوں کے پڑھے ہوئے بچے ہندوستان بھر میں حکومت کے تمام شعبوں کے اندر موجود ہیں جو آر ایس ایس کے نظریات کے نہ صرف حامی ہیںبلکہ انہیں آر ایس ایس سے محبت ہے۔
اور آر ایس ایس سے محبت کیوں نہ ہو؟آپ کو اپنے دین سے محبت ہے۔ ان کو اپنے دین سے محبت نہیں ہونی چاہیے؟اس پر تو میں بحث نہیں کرنا چاہتا مگرجب کوئی آدمی کسی اچھے سکول سے پڑھ کر باہر آتا ہے تو اسے اس سے محبت ہونا لازمی ہے۔چنانچہ آر ایس ایس نے سو سالوں میں اپنے تمام اداروں کے ذریعہ اور اپنے تمام اداروں اور سکولوں کے ذریعہ کیا کیا پیدا کیا؟ منسٹر، ہوم منسٹر، پرائم منسٹر، آئی ایس آفیسرز، الیکشن کمیشن کے عہدے دار، اور فوج کے افسر۔یعنی ہندستان میں کوئی شعبہ نہیں جس میں آر ایس ایس کے اداروں اور سکولوں کے طالب علم موجود نہ ہوں۔
اب آئیے، جمعیت علماء ہند کی کار کردگی کو دیکھتے ہیں۔ ان کے مدرسوں نے مدرسوں کے اساتذہ پیدا کیے، امام، موزن، جنازہ پڑھانے والے، سودا فروخت کرنے والے، فیکٹریوں کے مزدور۔ دہاڑی دار مزدور، وغیرہ پیدا کئے۔اب مقابلہ کر کے دیکھیں کہ ہمارے مدرسوں کے پڑھے کیا کرتے ہیں اور انکے سکولوں کے پڑھے کیا کرتے ہیں؟اقتصادیات میں جمعیت کے علماء کا فوکس یہ رہتا ہے کہ جو فساد میں لوگ مارے گئے ہیں، جن کے گھر جلائے گئے ہیں،جو زلزلہ سے متاثر ہوئے، جو سیلاب زدگان ہیں، ان لوگوں کی مدد کے لیے راشن کیسے بانٹا جائے۔لیکن آر ایس ایس والے اپنے سکولوں کے ذریعے اپنے پائوں پر کھڑا کرتے ہیں۔کہ آپ نہ صرف خیرات دینے کے لائق ہوں، بلکہ ملک کی تعمیر اور ترقی میں بھی حصہ ڈالیں۔اس سر سری مقالہ سے آپ پر یہ بات واضح ہوگی کہ آر ایس ایس کے ویژن اور مشن میں ہمارے ویژن اور مشن کے مقابلے میںکیا فرق ہے؟ہم ہمیشہ گورنمنٹ سے بھیک مانگنے پر فوکس کرتے ہیں، ہم ہمیشہ جو مجبوراور بیکس ہیںان کو سہارا دینے پر فوکس کرتے ہیں،ہم سکالرشپ دینے کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں کہ تعلیم دے دو وہ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں گے۔جب کوئی مصیبت آتی ہے، سیلاب آتا ہے یا زلزلہ، تو یہ لوگ خود ان کا مقابلہ کریں گے اور اپنے علاقوں کے لوگوں کی خدمت کریں گے۔ ہمیں وہاں جانے کی ضرورت نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ویژن اور مشن میں ان کے ویژن اور مشن میں کتنا زیادہ فرق ہے۔یہ وہی فرق ہے جو شروع اسلام میںکفار اور مسلمانوں میںتھا۔آج سے چودہ سو سال پہلے دنیا کی قومیں فوکس کرتی تھی پیوند کاری پر اور ہم نے فوکس کیا تعلیم پر۔اور آج وہ قومیں فوکس کرتی ہیں تعلیم پر اور ہم فوکس کرتے ہیںامدادپر۔
اگر ہم ان دونوں تنظیموں کے انتظامی ڈھانچہ پر بھی نظر ڈال لیں تو آپ کو چند مفید معلومات حاصل ہو نگی۔آر ایس ایس کا چیف بننے کے لیے آ پ کو دنیا کے سب کام چھوڑ کر صرف آر ایس ایس پر کام کرنا ہو گا۔ان کے قائدین نے یہی کیا۔ ادھر جمعیت کے قائدمولانا حسین احمد مدنی بنے اور اس کے بعد ان کے خاندان کی میراث بن گئی۔اب یہ دیکھیں کہ دونوں تنظیموں میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ مسلمانوں کی تنظیم اپنے خاندان کی ترقی اورکامیابی کے لیے کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اور جب وہ ایسا کرنا شروع کرے گی تو اس کی ویژن اور مشن اس بات پر مذکور ہو گی کہ کس طرح اس کے پریذیڈنٹ یا پوزیشن ہولڈر کو دنیا میں نام و نمود اور شہرت ملے ۔ ہمارے قائدین ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے حکومت کی بڑی بڑی تنظیموں اور اداروں کا استعمال کرتے ہیں۔آپ اور ہم ان کو اپنا قائد مانتے ہیں، انہیں شناخت دیتے ہیں، انکو صدقہ، ذکات اور خیرات دیتے ہیں، اور انکو پوری طرح سپورٹ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے قائد ہیں۔جب انہیں ہماری سپورٹ ملتی ہے تو وہ اسے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس میں غلطی ہماری ہے ۔ عوام کی ہے۔ہماری اور آپ کی ہے۔ اس کا حل کیا ہے؟ اس کا حل آسان بھی ہے اس لیے کہ آج بھی آپ اپنی مالی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔مگر اس سے آپکے ذاتی مفادات پر اثر پڑے گا۔یہ مشکل اس لیے ہے کہ اس سے آپ کے نظریات پر اثر پڑے گاجن کو ان علماء نے اور پچھلی صدیوں میں آپ کے دماغ میں بٹھا دیا گیا ہے۔ آیئے انقلاب برپا کرتے ہیں، پچاس سال میں آپکے حالات بدل جائیں گے۔ہندوستان میں جتنی مساجد ہیں ان کو مدرسوں میں تبدیل کر دیجئے۔اور اس میں سکول اور مدرسے کا فرق مت کیجئیے۔اس کے اندر کوچنگ سینٹر کھولیے۔اس کے اندر سرکاری نصاب کے مطابق سکول چلائیے۔نرسری سکول چلائیے۔اس کے علاوہ میٹریکولیشن سکول چلائیے۔آپ کمپیوٹر کے سینٹر مسجدوں میں کھول دیں۔یعنی کہ مساجد کا جو اتنا بڑا نظام ہمارے پاس ہے اگر ان ساری مساجد کو تعلیمی مرکز کے طور پر کام شروع کر دیں تو تھوڑی سی مالی امدد اور زیادہ خرچ کیے بغیر سارے ہندوستان میں ایک انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔جتنے مدارس آپ کے پاس ہیں ان کے نصاب میں تبدیلی پیدا کی جائے۔چاہے ا سکے لیے اس کے ناظم حضرات ریڈی ہوں یا نہ ہوں، اگر وہ تیار نہ ہوں تو ان کو چندے اور ذکات دینا آج سے بند کر دیجیئے۔ہم ان کو چندے دیتے ہیں۔ ہم ان کی خدمت کرتے ہیں۔اور وہ ہمارے ساتھ اور ہماری قوم کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟جب تک ہم اور آپ آگے نہیں بڑھیں گے اور جو لوگ تعلیم کے میدان میں کام نہیں کرتے، انکے پاس اپنی ویژن اور مشن نہیںاور صرف ذاتی مفادات کے لیے کام کرتے ہیں، ان کو اٹھا کر نیچے پھینکیئے۔ہمیں دیش کے لیے اور قوم کے لیے کام کرنا ہے۔ جب ان کو آپ چندہ اور ذکات دینا بند کریں گے تو جلد ہی تبدیلی آنی شروع ہو جائے گی۔کیا ہم اور آپ یہ سارے کام کرنے کے لیے تیار ہیں؟ سوچئے، اور سوچتے رہئے۔یقیناًایک دن ایسا آئے گا کہ سوچنے کا وقت نہ ہمارے پاس ہو گا اور نہ آپ کے پاس۔اللہ ہمیں اور اپ سب کو توفیق عطا فرمائے۔‘‘