اور ٹرمپ بچ گیا!!

242

گزشتہ سال تین نومبر 2020ء میں امریکی صدارتی انتخاب میں پہلی مرتبہ ایسا خودساختہ اور من گھڑت تنازعہ پیدا ہو گیا کہ جو چھ جنوری 2021ء میں امریکی دو ایوانوں کے سامنے الیکٹرول ووٹوں کی گنتی کے وقت شدت اختیار کر گیا کہ جس وقت ٹرمپ کی شہ پر ان کے جتھے بازوں اور بلوائیوں نے کانگریس کے گھر کیپیٹل ہل پر حملہ کر دیا جو صدر ٹرمپ کی تقریر سے متاثر ہوئے تھے کہ ان کانگریس مینوں اور سینیٹروں کا گھیرائو کرو جو جوبائیڈن کے انتخابی نتائج کا اعلان کرنے جارہے ہیں جس کے بعد کانگریس پر حملہ ہوا جس میں امریکی قانون سازوں کو کیپیٹل ہل کے تہہ خانوں میں چھپ کر جانیں بچانا پڑیں۔ بعدازاں ٹرمپ کے ان ہی بلوائیوں نے20جنوری 2021ء کو وائٹ ہائوس پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں جس کی حفاظت اور دفاع کے لئے چالیس ہزار سے زیادہ نیشنل گارڈز لگانے پڑے جس کی وجہ سے نومنتخب صدر جوبائیڈن کو بڑی مشکلات اور مصائب میں حلف اٹھانا پڑا جو امریکی روایات کے مکمل طور پر مختلف تھا۔ جوبائیڈن کے حلف وفاداری میں سابقہ صدر ٹرمپ نے دعوت نامے کو رد کر کے امریکی روایات کی دھجیاں بکھیر دیں جس کی مثال نہیں ملتی ہے جبکہ امریکی تاریخ میں لاکھوں کی تعداد میں زیادہ ووٹ لینے والے امیداروں الگور اور ہیلری کلنٹن نے پانچ لاکھ اور تیس لاکھ زیادہ ووٹ لیئے مگر الیکٹرول ووٹ کم تھے جس کی وجہ سے وہ صدر منتخب نہ ہو پائے جنہوں نے صدر جارج بش اور صدر ٹرمپ کی حلف وفاداری میں شرکت کی تھی چونکہ ٹرمپ اور ان کے حامیوں نے صدر جوبائیڈن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے کانگریس پر حملہ کیا اور وائٹ ہائوس پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں ٹرمپ کے نظریات اور تقریر دونوں شامل ہیں جس کی بنا پر کانگریس نے مواخذے میں صدر ٹرمپ کو ملزم قرار دیا تھا جس کی بنا پر سینیٹ میں سزا دینا مقصود تھا مگر سینیٹ کے 57سینیٹروں نے سزا کی حمایت کی جبکہ 43نے منع کیا جس کے لئے 2 تھرڈ اکثریت 67سینیٹروں کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے ٹرمپ سزا سے بچ گیا۔ جو امریکی تاریخ کے لئے ایک سانحہ سے کم نہیں ہے وہ شخص جس کے اشارے پر کانگریس پر حملہ ہوا۔ کانگریس مینوں کے دفاتر کو تہس نہس کیا گیا قانون سازوں کو اپنی جانیں بچانا پڑیں جو گیارہ ستمبر کے ہولناک اور دردناک سانحہ سے کم نہ تھا مگر ریبپلکن سینیٹروں نے سابقہ صدر ٹرمپ کو بچا کر ایک ایسی روایت کی بنیاد رکھ دی ہے کہ آئندہ کوئی بھی ہارنے والا جیتنے والے صدر کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گا جس کے حامی کانگریس کو الیکٹرول کی گنتی نہیں کرنے دیں گے یا پھر وائٹ ہائوس میں نومنتخب صدر کو ٹارگٹ کریں گے یہی وجوہات ہیں کہ میڈیا پر الٹی سیدھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ چار مارچ کو واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کے حامی دوبارہ جمع ہورہے ہیں جو ٹرمپ کو اپنا صدر تسلیم کرتے ہیں جس کے تحت وہ حلف اٹھائیں گے کہ آج کے بعد وہ امریکہ کے صدر ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب امریکہ کے دو صدر ہوں گے۔ دو کمانڈر انچیف ہوں گے۔ دو الگ الگ حکومتیں ہونگی جس کے بعد امریکہ دو حصوں میں بٹ جائے گا جو کسی بڑے سانحے سے کم نہ ہو گا کہ امریکہ کو پھر کسی سول وار میں دھکیل دیا جائے۔ پھر کسی ابراہم لنکن کو سول وار کے خلاف یونین فوج کی قیادت کرنا پڑے اور باغی کنفیڈریسٹ کو شکست دینا پڑے یہ جانتے ہوئے کہ 1861 سے 1865ء تک سول وار کے وقت امریکہ کی 34ریاستیں تھیں جو اب پچاس ریاستوں کا ملک کہلاتا ہے اگر آج ایسا ہوا تو امریکہ نارتھ، سائوتھ، ایسٹ، ویسٹ میں تقسیم ہو جائے گا جس کے بعد امریکہ وہ عالمی طاقت نہیں رہے گا جو آج ہے یا پھر سابقہ سوویت یونین جیسا حشر ہو سکتا ہے تاہم امریکہ دنیا بھر کے ہجرت کرنے والوں اور آباد کاروں کا ایک ملک ہے جو دنیا بھر کی قوموں کی ایک قوم کہلاتا ہے جس کے اتحاد جمہوریت اور قانون کی حکمرانی نے اُسے دنیا کی واحد طاقت بنا دیا ہے۔ یہاں کروڑوں کی تعداد میں سفید فام، سیاہ فام، لاطینو، ایشین، نیٹو اور امریکن آباد ہیں جن کو نسل پرست سفید فام سخت گیر اور شدت پسند تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ ملک میں اکثریت، اعتدال پسند جمہوریت پسند اور ترقی پسند رہتے ہیں جو ملک کو متحد اور طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں یہی وجوہات ہیں کہ امریکی جمہوریت اعتدال اور ترقی پسندوں نے ایک نسل پرست صدارتی امیدوار جو نسلاً اور عقلاً جرمن نازی ذہن کا حامل شخص ٹرمپ کو تمام تر مصائب اور مشکلات کے باوجود 81ملین ووٹ دے کر ایک عادم آدمی جوبائیڈن کو جتوایا جس کا مخالف ایک بہت بڑا کاروباری ارب پتی ٹرمپ تھا اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو شاید پورا امریکہ یونین اور کنفیڈریشن میں تقسیم نہ ہو جائے جس کے اثرات پیدا کئے جارہے ہیں جس میں خون کی ندیاں بہہ سکتی ہیں۔ اللہ بچائے ایسے دنوں سے (آمین)