مریم نواز کو اپنے ’’ضمیر‘‘ کی سرجری کروانی ہے،وہ تو شوکت خانم میں بھی ہوسکتی ہے

248

پیارے پاکستانیوں تمہارا محب وطن لیڈر، تم سے والہانہ پیار کرنے والا، گلے لگا کر جیب کاٹنے والا لیڈر، لندن میں بیٹھا تمہاری زبوں حالی پر خون کے آنسو بہارہا ہے۔ اس نے خودیہ بیان دیا ہے کہ ’’میرا دل خون کے آنسو بہارہا ہے‘‘ لندن کے ڈاکٹر جنہیں اس نے دکھایا بھی نہیں پریشان ہورہے ہیں کہ یہ کون سی بیماری ہے جس کا علاج اس سیارے پر ممکن ہی نہیں۔ یہ عوام اب ایسے ہو گئے ہیں کہ ’’اِن تلوں میں تیل نہیں رہا‘‘ سو یہ دعا کیا مانگیں گے۔ آپ کیا نچوڑ کر تیل نکالیں گے؟۔
پھولن دیوی کے ٹبر میں کوئی بیمار ہوتا ہے تو وہ دھڑ سے عوام سے دعائے صحت کی اپیل کر دیتی ہیں۔ دیوی جی ان عوام میں اب دم درود کہاں۔ البتہ یہ سنا گیا ہے کہ خون دل کے اوپر اجتماعی بددعا کا اہتمام لندن میں کیا جارہا ہے۔ ہو سکے تو شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ یہاں لوگوں کے پاس گائوں سے شہر کا کرایہ بھرنے کی استطاعت نہیں وہ لندن کہاں جائیں گے۔ ہو سکتا ہے فضلو یہاں پر کوئی انتظام کریں یا چودھری برادران ( جو کہہ رہے تھے اگر اس رہزن کو لندن نہ بھیجا گیا تو اس کی موت حکومت پر کلنک کا ٹیکہ ہو گا) عوام اجتماعی بددعا میں بھرپور حصہ لیں، پتہ نہیں یہ خفیہ پیغامات کس نے دئیے ہیں؟ (دروغ بہ گردن راوی) ویسے تو یہ عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر کے اجتماعی قتل کے مرتکب ہوئے ہیں اس لئے اجتماعی بددعا کا اہتمام جائز ہے۔ ایک درخت کی شاخ پر ایک چڑیا اورچڑا رہتے تھے۔ اچانک چڑیا نے چڑے سے سوال کیا’’ آج کا انسان اس قدر پریشان کیوں نظر آتا ہے؟‘‘ چڑے نے جواب دیا ’’رزق کی تلاش میں‘‘ چڑیا بولی ’’رزق کی تلاش میں تو ہم بھی رہتے ہیں ہم تو پریشان نہیں رہتے‘‘ چڑا بولا ’’ہم دراصل اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ رزق اس کی طرف سے ملتا ہے اور انسان اپنے آپ پر بھروسہ کرتا ہے‘‘ ایک بات اور ہمیں پیٹ بھرنے کو تھوڑا بہت مل جاتا ہے اور ہم اسے پا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں لیکن انسان زیادہ سے زیادہ پانے کی لالچ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وقت پریشان رہتا ہے۔ چڑیا بولی’’اللہ کا شکر ہے ہم انسان نہ ہوئے‘‘۔
پھولن دیوی کی بھی سرجری کا معاملہ آگیا ہے۔ پاکستان میں تلوے سے لے کر سر تک ہر جگہ کی کامیاب سرجری ہو جاتی ہے۔ اس لئے آپ اپنی سرجری پاکستان میں ہی کروائیں لیکن سرجنز کے بارے میں چھان پھٹک کر لیجئے کہ کوئی سر پھرا محب وطن نہ ہو۔ ویسے یقین تو نہیں کہ آپ صاحب فراش ہیں۔ آپ کے دورے، تقاریر اس کی نفی کرتی ہیں۔ ویسے شیطان کے فضل و کرم سے آپ کا ٹبر جھوٹ بولنے میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔
پاکستانیوں آپ جو امریکہ میں رہائش پذیر ہیں انہوں نے تو مجسمۂ آزادی ضرور دیکھا ہو گا۔ بقیہ لوگوں نے تصاویر تو ضرور دیکھی ہونگی۔ یہ مجسمہ فرانس نے امریکہ کو تحفے میں دیا تھا۔ یہ مجسمہ آزادی بہت مشہور ہے۔ تو کیوں نہ پاکستان میں بھی ایسا کوئی مجسمہ بنوایا جائے۔ لاہور DHAمیں ایک اہم چوک ہے جسے گھوڑا چوک کہتے ہیں۔ اس چوک کو ختم کر کے پھولن یوی کا ’’مجسمہ سچائی‘‘ نصب کیا جائے کیونکہ محترمہ نے اپنی جائیداد کے بارے میں، قطری خط کے بارے میں، کیلبری فونٹ کے بارے میں، جج ارشد ملک کی ویڈیوز کے بارے میں بہت سارے سچ بولے ہیں۔ لندن کی جائیداد کے بارے میں ان کے بھائی حسین نے ایک انٹریو میں کہہ دیا کہ ’’اس جائیداد کی ٹرسٹی ہماری باجی ہیں‘‘ اور باجی غریب کو کچھ پتہ ہی نہیں۔ سچی کھری عورت تو پھر کیوں نہ ان کا’’مجسمۂ سچائی بنایا جائے اور اس سلسلے میں ایک یونیورسٹی کا قیام بھی ضروری ہے جس میں نئے نئے طریقے کے کرپشنز خزانے کو خاموشی سے شفٹ کرنے کے طریقے، ناجائز قبضے، وکلاء کا انتخاب، ججوں کی تقرری، سنگین جرائم کی پردہ پوشی، مجرمان کی رہائی، ایک خیال یہ بھی ہے کہ پاکستان کو بہت شہرت مل جائے گی کیونکہ دنیا کے سنگین جرائم میں ملوث مجرم قاتل اب لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے والے ہیں اور وہ بھی سچائی کے مجسمے کی زیارت کرنے ضرور آئیں گے تو یہ بھی دنیا کا ایک نایاب عجوبہ ہو گا۔ اگر عوام چاہیں تو لاہور کے ہر چوک پر اس محب وطن ٹبر کے مجسمے ایستادہ کر دیں۔ آئندہ نسلیں اس سے فیض یاب ہوں گی، اس تاریخی چوٹٹوں کی ہسٹری بھی درج ہونی چاہیے۔
والد صاحب نے 1997ء میں عدلیہ پر حملہ کیا تھا، اب صاحبزادی بھی نیب کے دفتر گاڑیوں میں پتھر اور غنڈے بھر کے لے گئیں۔ ایک عورت سے جو اچھی خاصی عمر رسیدہ بھی ہو وزیراعظم بننے کی توقع بھی رکھتی ہوں (یہ حسرت تو دل کی دل میں ہی رہ جائے گی) یہ کون سے معرکے سر کر چکی ہیں۔ سیاست کے بارے میں کیا جانتی ہیں۔ ملک کس طرح چلایا جاتا ہے، ان کے پرکھوں کو بھی نہ آیا تو یہ کیا تیر مار یں گی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ حکومت سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں یہ لوگ، نواز نہیں چاہتا کہ سیاست اس کے خاندان سے چلی جائے تو نانی کو آگے کردیا ہے۔ وہ اچھی خاصی دہشت گردی کر لیتی ہے۔
اسی طرح دوسرے بڑے ڈاکو زرداری نے حکومت کو زبردستی پکڑ کر اپنے ٹبر میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک جھوٹے وصیت نامے پر بیٹے کو پارٹی کا چیئرمین بنایا۔ جس کے دماغ میں بھوسا بھرا ہوا ہے۔ آئیں بائیں شائیں بکتا رہتا ہے۔ لوگ بچہ بچہ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ جی حضور اس عمرمیں اس کا نانا وزیر خارجہ بن گیا تھا اور ماں وزیراعظم بن چکی تھی۔ دوسرا مہرہ زرداری کے آصفہ کو تیار کرنے شروع کر دیا ہے لیکن نواز اور زرداری دونوں کی لٹیا ڈوبنے والی ہے۔ عوام اللہ سے دعا کریں کہ یہ عفرتیں ان کے سروں سے ٹل جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ عوام اس وقت بہت بڑی آزمائشوں سے گزررہے ہیں لیکن ان پریشانیوں سے چھٹکارہ پانے کے لئے صبر کرنا ہو گا کیونکہ ملکی خزانہ خالی ہے۔ عوام کو ریلیف ملنا مشکل ہے۔ یہ ڈاکو غدار دہشت گرد پیسہ لوٹانے کے موڈ میں نہیں اوپر سے مکاریوں سے بھرپورتقریریں ہورہی ہیں۔ نواز کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے وہ قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں جو خود اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھاتیں۔ ’’حقوق نہ ملیں تو چھین لو‘‘ حقدار کو اس کا حق ملنا چاہیے۔