رَب کی قسم رَب چلا رہا ہے!!

252

اس مملکت خداداد کو رب کی قسم رب ہی چلا رہا ہے۔پاکستان‘‘ لیڈر شپ‘‘ نہ ہونے کے سبب ستر سال سے مار کھا رہا ہے۔ قرآن پاک میں رب فرماتا ہے کہ اس نے کعبہ میں کشش رکھ دی ہے تم بار بار آئو گے، رب العزت نے پاکستان میں بھی کشش رکھ دی ہے،بار بار آئو گے، زندہ نہ آ سکے تو ڈبے میں بند آئو گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی کی بھرتی کے لئے نیا شعبہ تعمیر کرنا پڑا ،بشری بی بی کی سہیلی اور بہن کو نوازا جانے کے معا ملات ہوں، معمولی خبریں سمجھی جاتی ہیں، بڑی خبر یہ ہے کہ کچھ نہیں بدلا۔۔۔‘‘ انا ونڈے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنیاں نوں‘‘۔۔۔ حالات پہلے سے بھی بدتر ہو رہے ہیں،ضمنی الیکشن کی آڑ میں ڈسکہ میں غنڈہ گردی ہو یا وزیر آباد میں جگا بازی، کچھ تبدیل نہیں ہوا نہ ہو گا بلکہ روز بروز صورتحال شرمناک ہوتی جا رہی ہے۔سیاست بدمعاشی اور کرپشن کی علامت بن چکی ہے۔ سینیٹ الیکشن میں اس مرتبہ بھی‘‘ پارٹی ہو رہی ہے‘‘۔نیب کہتی ہے اس کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہیں، فوج کا بھی یہی دعوی ہے جبکہ خود سیاسی جماعتوں کا بھی سیاست سے تعلق نہیں، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج ہے۔ پاکستان میں ہر بیماری کی سرجری موجود ہے سوائے ضمیر کی سرجری کے ورنہ مریم نواز کو بھی یہ نہ کہنا پڑتا کہ ان کی ایک ایسی سرجری ہے جو پاکستان میں ممکن نہیں۔ اس طبقہ کا بہتر علاج فرنگی ہی کر سکتے ہیں، تندرست ہو جائیں تو فرنگیوں کے مستقل غلام ناقابل علاج ہیں تو ڈبے میں بند کر کے پاکستان کے حوالے کر  دئیے جاتے ہیں۔محب وطنی کی اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ اس طبقہ کا اقتدار اور قبر پاکستان میں ہے۔۔دنیا میں پاکستان واحد بد نصیب ملک ہے جس کو اس کے اپنے ’’اپنا‘‘ ماننے کے لیئے تیار نہیں۔ لوٹ مار، چور بازاری، دھوکہ دہی اور ضمیر فروشی کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ اس دوڑ میں کوئی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ جب دیکھتا ہے کہ یہاں سب گھات لگائے بیٹھے ہیں تو ’’میں کیوں پیچھے رہ جائوں‘‘ کی دلیل اسے ’’بے شرم‘‘ بنا دیتی ہے۔ بد عنوانی کا پیمانہ چھوٹا ہو یا بڑا، خود کو قائل کرنے کے لئے ہر شخص نے اپنے ضمیر میں ایک ٹیپ نصب کر رکھی ہے جو ہر موقع اور مقام پر بجنے لگتی ہے ’’پاکستان کو بچانے کا صرف میں نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا، جب سب کھا رہے ہیں، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا رہے  ہیں، بیرون ملک اثاثے چھپا رہے ہیں، پاکستان کی تکہ بوٹی بنا رہے ہیں، نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں تو پھر میں کیوں شرافت کی چادر اوڑھ کر بیٹھ جائوں؟ ’’میں پیچھے کیوں رہ جائوں‘‘۔۔۔ضمیر کو دلائل کی گھٹی دے کر سلا دیا جاتا ہے۔ اس چار دن کی زندگی کے لیئے لوگ جی بھی رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں۔ موت اور بعد از موت کی نا ختم ہونے والی زندگی کے بارے میں نہ کسی کو خوف ہے اور نہ فکر، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر شعبہ اور ادارہ ’’بد چلن اور بد کردار‘‘ ہو چکا ہے۔سرکاری ہو یا نجی ہر ادارے میں کرپشن جاری ہے۔ تعلیمی اداروں میں شرمناک بد عنوانی ہو رہی ہے۔ سکیورٹی اداروں میں بھی دو نمبر بھرتیاں اور ترقیاں کی جا تی ہیں۔ماشا اللہ سیاست اور صحافت نے تو ’’انھّی‘‘ مچا رکھی ہے۔ فقط اپنے سگے ہیں،ملک کے سگے قبروں میں جا سوئے اور جو چند ایک ایماندار نسلیں موجود ہیں، انہیں بھی ملک سے زیادہ اپنی عزت کی فکر ہے۔اکثر ایماندار لوگ بزدل ہوتے ہیں، ورنہ پاکستان میں لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ ’’اس ملک میں بے ایمانی کے بغیر گزارا نہیں۔’آج حکومت ہے کل نہیں، ہاتھ آیا موقع کیوں جانے دیں، پہلوں نے شرم نہیں کی تو ہم شرم کیوں کریں، کیا ہم نے ہی اس ملک کو بچانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، اس عوام کا کیا ہے،کل ہمارے ساتھ تھے، کل کسی اور کو ووٹ دیں گے اقتدار کا فائدہ اٹھائو،کھائو اور کھلائو،آج کے بنائے تعلقات کل کام آئیں گے وغیرہ، حکمرانوں کے ضمیر میں نصب اس ٹیپ کی بازگشت نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ  میں لے رکھا ہے اور اب ہر طرف سے یہی گونج سنائی دیتی ہے کہ ’’جب سب لوٹ رہے ہیں تو پھرمیں کیوں پیچھے رہ جائوں‘‘‘۔سب کو اپنے گھر کا جہنم بھرنے کی فکر لاحق ہے۔ بے حس ضمیر نے سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے کہ اگر خاکم بدہن پاکستان نہ رہا تو مسلمانوں کے لیئے یہ دنیا جہنم بنا دی جائے گی۔عمران خان آخری امید سمجھے جاتے ہیں، امید ٹوٹ رہی ہے۔؎

آواز میں تو آپ کی بے شک خلوص ہے

لیکن ذرا نقاب تو رخ سے ہٹائیے

ہم مانتے ہیں آپ بڑے غم گسار ہیں

اب قافلے کے لوگ بھی ہم آوازہیں  !