سندھ کے بھوکے ننگے عوام! بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی!!

256

حال ہی میں جیو ٹی وی کے ایک مزاحیہ اور طنزیہ پروگرام میں معروف تجزیہ نگار ارشاد بھٹی غریب عوام کی بات کررہے تھے کہ جنہیں سیاسی پارٹیاںاپنے جلسوں میں ٹرکوں اور بسوں میں بھر کر لاتی ہیں اور وعدہ کرتی ہیں کہ انہیں یا تو کھانا پانی یا پھر پیسے ادا کئے جائیں گے۔ اسی تسلسل میں انہوں نے سندھ کے عوام کے حوالے سے کہا کہ اندرون سندھ پیپلز پارٹی اپنے جلسوں کو بھرنے کیلئے سندھ کے بھوکے ننگے عوام کو لالچ دے کر لاتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جلسے کے بعد انہیں ایسے ہی ٹرخا دیا جاتا ہے۔ ارشاد بھٹی کے ان ارشادات کے بعد سندھ حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ گوٹھوں اور گائوں سے ان بھوکے ننگے عوام کو ٹرکوں اور بسوں میں بھرکر کراچی لایا گیا اور جیو نیوز اور ان کے دوسرے ادارے روزنامہ جنگ کے دفاتر پر حملے کئے اور ان کے آفس میں توڑ پھوڑ کی اور ملازمین کو زدوکوب کیا جس کے مناظر براہ راست دکھائے گئے۔یہ بات حق پر مبنی ہے کہ سندھ میں گزشتہ پندرہ سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہے اور یہ حکومت نہ تو اندرون سندھ کوئی کام کر سکی بلکہ کراچی شہر کو تو پیپلز پارٹی بالکل ہی کھا گئی۔ پچھلے دنوں جب کراچی پانی میں ڈوب گیا تھا اور وفاقی حکومت نے فوج اور دیگر اداروں کو حالات کنٹرول کرنے کے لئے بھیجا تھا ان ہی دنوں اندرون سندھ کے ایک بچے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ بلاول بھٹو کا نام لیکر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ہر طرف پانی پانی ہے اور میری مرغی بھی پانی میں ڈوب کر مر گئی۔ بلاول بھٹو کیا کررہا ہے میں کس سے فریاد کروں۔ اس ویڈیو کے بعد شاید بلاول کو شرم آگئی اور اس نے اس بچے کی مدد کی۔ یہ سچ ہے کہ سندھ میں لوگ کتوں کے کاٹے سے مررہے ہیں، تھر میں ہزاروں سے زائد بچے پیدا ہونے کے بعد غذائی قلت اور صاف پانی کی نایابی کے باعث ہر سال مر جاتے ہیں مگر مجال ہے کہ اس پارٹی کے حکمرانوں کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔ انہیں بھوکے ننگا نہ کہا جائے گا تو پھر کیا کہا جائے گا؟ ہم آج ہی بی بی سی کی ایک رپورٹ دیکھ رہے تھے کہ کراچی سے سو میل دور مکلی میں ایک پانچ سو سال پرانا تاریخی قبرستان ہے جسے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے ایک ثقافتی ورثہ قرار دے کر کروڑوں روپے کے فنڈز فراہم کئے تاکہ اس کو اس کی اصل حالت میں برقرار رکھا جائے۔ جرمنی کی حکومت نے بھی کروڑوں ڈالرز کی امداد دی اور اپنے ماہرین وہاں بھیجے مگر تف ہے اس سندھی حکومت پر جس نے قبرستان کے پیسے بھی لوٹ کر کھا لئے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جرمنی کی حکومت امداد روکنے پر غور کررہی ہے جبکہ اقوام متحدہ سندھ حکومت کی بے ایمانیوں اور کرپشن کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو بند کرنے والی ہے۔ یعنی زندہ تو زندہ یہ لوگ تو مرے ہووئوں کے پیسے بھی کھانے سے باز نہیں آرہے ہیں اب پتہ نہیں کہ یہ کرپشن کا ہاتھی کیسے قابومیں آئے گا۔
دفاتر پر ان حملوں کے پیچھے سندھ حکومت ملوث ہے چونکہ لگتا ہوں ہے کہ ان ریمارکس پر سخت دھچکہ لگا ہے اگر آپ کو یاد ہو تو یہ ہی سندھی سیاستدان بشمول ذوالفقار مرزا اور آصف علی زرداری ماضی میں یہ بیانات دیتے آئے ہیں کہ ہندوستان سے آنے والے مہاجر بھوکے ننگے آئے تھے انہیں سندھ نے روٹی اور کپڑا دیا تھا۔ چلیں کم از کم اب انہیں یہ تو پتہ چل گیا کہ اگر آپ کسی کو بھوکا ننگا کہتے ہیں تو اگلا کیسے محسوس کرتا ہے مگر یہ لوگ بے شرم، بے حس، بے غیرت، بے حیا اور ڈھیٹ نسل ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ دل کو ارشاد بھٹی کے ریمارکس پر کچھ تسکین سی پہنچی جس کی وجہ سے احسان فراموشوں کو بھی غیرت آگئی اور پسِ پردہ ہی سہی رجوع تو کیا آخر۔