اس تصویر میں 25,000 ’’بڑے بڑے بلیک ہولز‘‘ ہیں!

58

کراچی: بظاہر معمولی سی دکھائی دینے والی اس بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں ہر سفید نقطہ ایک بہت بڑا بلیک ہول ہے… اتنا بڑا کہ ایسے ہر بلیک ہول کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں ایک لاکھ گنا سے 50 ارب گنا تک زیادہ ہوسکتی ہے۔ یعنی اس تصویر میں ہر نقطہ ایک ’’سپر میسیو بلیک ہول‘‘ ہے!

یہ تصویر یورپی ماہرینِ فلکیات کی ایک وسیع ٹیم نے کئی سال محنت کے بعد تیار کی ہے جسے بنانے کےلیے انتہائی کم تعدد (low frequency) والی ریڈیو لہروں کے علاوہ سپر کمپیوٹر کی زبردست طاقت بھی استعمال کی گئی ہے۔

اگر آپ اب بھی اس تصویر کو معمولی سمجھ رہے ہیں تو اس کامیابی کا پس منظر سمجھنا آپ کےلیے ضروری ہوگا۔

واقعہ یہ ہے کہ زمین کے گرد لپٹا ہوا ’’کرہ رواں‘‘ (آئنو اسفیئر) کسی فلٹر کا کام کرتے ہوئے صرف 5 میگا ہرٹز سے 30 گیگا ہرٹز (30,000 میگا ہرٹز) فریکوینسی کی ریڈیو لہروں ہی کو زمینی سطح تک پہنچنے دیتا ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے ’’ریڈیو کھڑکی‘‘ (ریڈیو ونڈو) کہا جاتا ہے۔

تاہم جب یہ لہریں کرہ ہوائی (ایٹموسفیئر) سے گزرتی ہیں تو اِن میں انتشار پیدا ہوتا ہے جس کا انحصار اُس وقت اور مقام پر کرہ ہوائی کی کیفیت پر ہوتا ہے۔

کم فریکوئنسی والی لہروں کےلیے یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے جس کے باعث ان کے ذریعے اب تک آسمان کی ریڈیو تصاویر حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

اگرچہ بڑے بڑے ڈش انٹینا جیسی زمینی ریڈیو دوربینیں پچھلے پچاس سال سے اُن آسمانی مناظر کی عکاسی کر رہی ہیں جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے، لیکن اس کےلیے وہ زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں سے ہی استفادہ کرتی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.