ایران جوہری توانائی کے عالمی معائنہ کاروں سے تعاون کرے، یورپی ممالک کا انتباہ

216

جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی سے باز رہے ورنہ اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ جوہری توانائی سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائے اور ایسے تمام اقدامات سے باز رہے جو جوہری پروگرام سے متعلق شفافیت میں کمی لا سکتے ہیں۔

جرمنی، فرانس اور برطانوی وزرائے خارجہ نے یہ بیان اُس وقت جاری کیا ہے کہ جب ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی اپنے جوہری مراکز تک رسائی محدود کر دی ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی جوہری معاہدے کی تمام شقوں کی مکمل پاسداری کے بغیر ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران جوہری پروگرام کی تکمیل کے لیے کسی کا محتاج نہیں، ایک مکمل آزاد ملک ہونے کی حیثیت سے اپنے دفاع میں جو بہتر لگا وہ کریں گے۔

واضح رہے کہ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عالمی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر کے ایران پر سخت اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کردی تھیں۔