یو اے ای میں ہتھیاروں کی نمائش میں اسلحے کی خرید و فروخت کے بڑے سودے

18

عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بڑے اسلحہ ساز مشرق وسطیٰ کی فوجوں سے معاہدے کرنے کی اُمید میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابو ظبی کے ایک کنوینشن سینٹر پہنچے ہیں۔

یو اے ای نے جنوبی افریقہ کے ڈرونز سے لے کر سائبیرین آرٹلری تک ہر چیز اپنی افواج کو فراہم کرنے کے لیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر کے مقامی اور غیر ملکی معاہدوں کا اعلان کیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے عالمی وبا اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں کمی کے باعث خلیج فارس کے ممالک کے سکڑتے بجٹ کے باعث فوجی اخراجات میں کمی کا اندازہ لگایا تھا۔

ابو ظبی کے انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس کے عنوان سے ششماہی تجارتی میلہ وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کی پہلی بڑی تقریب تھی جس میں لوگوں نے شرکت کی اور یہ بات اس کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔

نمائش میں شریک 70 ہزار افراد اور 900 ایگزیبیٹرز کے لیے زوم (آن لائن ویڈیو کانفرنس کیلئے استعمال ہونے والی ایپلیکیشن) کافی نہیں تھا جو ممکنہ خریداروں کی تلاش میں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی اس نمائش پر انحصار کرتے ہیں۔

ابو ظبی کے طاقتور ولی عہد محمد بن زید النہیان سمیت اعلیٰ اماراتی حکام رائفلز، راکٹس اور بموں کے ڈسپلے کے درمیان گھومتے ہوئے نظر آئے۔

ہر جگہ موجود سینیٹائزرز اور ڈرون سے جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کے ساتھ عالمی وبا کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دے رہے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.