غربت!!

22

غربت کے بارے میں اہل علم نے بار ہا اظہارِ خیال کیا ہے، کہا جاتا ہے جب طاقتور افراد نے زمین کے وسائل بزورِ طاقت قبضہ کرنا شروع کیا تو افراد کی محنت جس کو جسمانی محنت کہنا زیادہ بہتر ہو گا، طاقتور افراد کے زیر اثر آگئی اور اسی صورت نے جاگیرداری کو جنم دیا، شروع سے ہی محنت کی قوتِ خرید بہت ہی کمزور رہی اور جسمانی محنت کو بہت آسانی سے سستے داموں خریدا جاتا رہا، آبادی جوں جوں بڑھتی رہی جسمانی محنت میں اضافہ ہوتا رہا، اور محنت کی bargaing powerکم ہوتی چلی گئی، انسانوں کے اس ہجوم میں جو ہنر مند بن گئے انہوں نے اپنا ہنر طاقتور لوگوں کو ہی بیچا، جو زیادہ ہنر مند تھے، وہ امیروں کو اپنا ہنر بیچتے تھے، جب بادشاہتیں وجود میں آئیں تو بادشاہ اس ہنر کو سستے داموں خریدتے رہے بہت جی خوش ہوا تو ان کو نوازا بھی گیا مگر یہ بھی ہوا کہ عظیم ہنر مندی سے جب بادشاہ ششدر رہ جاتے اور معمار کوئی ایسی تخلیق کر جاتے جس کی مثال نہ مل سکتی تو معمار کے ہاتھ بھی قلم کرا دئیے جاتے اور اس بارے سنگدل مورخ لکھتا ہے کہ بادشاہ نے فنکار کے ہاتھ تو قلم کرا دئیے مگر تاحیات وظیفہ جاری کر دیا، ایسا برصغیر میں بارہا ہوا، مگر ایسے ہنر مندوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی اور انسان عام طور پر بار برادری کا کام ہی کرتے رہے کچھ اسی ماحول نے غربت کو جنم دیا، جاگیرداری، زمینداری نظام بن گیا تو محنت کو خوب خوب EXPLOITEکیا گیا، اور مزدور اپنی محنت کو اس نظام میں کبھی کیش نہ کرا سکا، اور محنت کو اس کا قرار واقعی معاوضہ کبھی نہ مل سکا۔
انقلابِ فرانس کے بعد اہلِ دولت کو کچھ ہوش آیا، مگر کارل مارکس نے محنت کو منظم کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا، اور غربت کو ختم کرنے اور کم کرنے کے لئے ایک سنجیدہ علمی کوشش کی گئی، یہ ایک باضابطہ کوشش تھی، کارل مارکس کے دئیے ہوئے نظام نے بہت سے ملکوں میں کامیابی سے اس فلسفے کو آزمایا گیا اور طبقاتی نظام پر کاری ضرب لگائی گئی اور دنیا کو یہ پیغام گیا کہ غربت ختم کی جا سکتی ہے، جن علاقوں میں کمیونزم نے قدم جمائے وہاں سرمایہ اور تکنیک کم تھی، اس کے مقابلے میں مغرب کے سرمایہ دار کے پاس سرمایہ ، تازہ علم، سائنس اور ٹیکنالوجی تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی، چونکہ اشتراکیت کی بنیاد تو معاشیات پر تھی لہٰذا سرمایہ داری کو اس کے مقابلے میں معاشیات کا ہی سہارا لینا پڑا، مارشل سے کینز کے معاشی فلسفوں نے اس کی مشکلات حل کیں اور کئی عشروں کے غور و خوض کے بعد حل یہ نکالا گیا کہ بنیادی ضرورتیں پوری کر دی جائیں تو عام آدمی سرمایہ دار کی طرف نظر نہیں اٹھائے گا، یہی معاشی فلسفہ معاشرہ کو CONSUMER ECONOMYتک لے آیا اور اب کہا جاتا ہے کہ مغربت نے غربت ختم کر دی ہے اور مغرب میں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔
افریقہ اور ایشیا غربت سے نہیں نکل سکے، اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا گیا، مگر بنیادی بات یہ ہے کہ افریقہ اور ایشیا کی غربت کی ذمہ داری جہالت، سائنس اور ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت اور ذمہ دارانہ قیادت کا فقدان ہے، مگر اس کے علاوہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے افریقہ اور ایشیا کو اپنے مالی اور مالیاتی نظام میں ایساجکڑا ہے کہ افریقہ اور ایشیاء کے وسائل اور افرادی قوت مغرب کے کام آتی رہے گی اورا فریقہ اور ایشیا سے غربت ختم نہیں ہو سکتی، ایسی کوئی امید ہے نہیں کہ افریقہ اور ایشیا میں کوئی انقلاب برپا ہو گا اور ان کی معاشی کایا پلٹ جائے گی، افریقہ اور ایشیا کی سیاسی قیادت بھی کسی کسی طرح مغرب کی رکھیل ہے اور عالمی طاقتوں کے TOUTSہر چند سال کے بعد ایک لیڈر پیدا ہوتا ہے جو اپنے عوام کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کی حالت بدل دے گا مگر کچھ عرصے کے بعد وہ EXPOSEہو جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو عالمی طاقتوں کو PLANTEDتھا، یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ افریقہ اور ایشیا کے ممالک میں جمہوریت کا بہت پرچار کیا جاتا ہے اور مغرب کو معلوم ہے کہ جمہوریت کے نام پر افریقہ اور ایشیا کے عوام کو غربت میں باقی رکھا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ شعور کوئی شے نہیں ہے جو بازار سے خرید لی جائے یہ شعور آتے آتے آتا ہے صدیاں لگ جاتی ہیں اور جمہوریت کے لئے فرد کا سیاسی شعور بہت ضروری ہوتا ہے جو تعلیم اور تربیت کے بغیر نہیں آسکتا، یہ تو لازمی شرط ہے نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ POVERTY IS A MAN MADE DESEASEاس بات میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ یہ بیماری اور لوگوں نے جاہل عوام کو دی ہے ۔
دنیا کو مذہب نے اعتقادات تو دئیے مگر غربت اور عسرت سے نکلنے کا مذہب نے کوئی ایسا راستہ نہیں دیا یہ سمجھا گیا کہ رزق خدا کی طرف سے دیا جاتا ہے مل جائے تو شکر ادا کرو اور نہ ملے تو صبر کرو اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، جاگیردار نے ملاؤں کیساتھ مل کر عوام کو یہ بھی پٹی پڑھائی ہے کہ جو تم کو یہاں نصیب نہیں وہ تم کو مرنے کے بعد مل جائے گا، مذہب کی جب عمل داری تھی اور بڑی بڑی حکومتیں قائم ہو گئی تھیں مگر ان حکومتوں نے بھی غلاموں کی تجارت کی حوصلہ افزائی کی اس کو معیشت کا اہم جز قرار دیا، ایک طرف اخلاق اور پارسائی کا درس دیا جاتا ہے اور دوسری طرف معاشرے کے بااثر افراد غلاموں کی تجارت سے پیسہ بناتے رہے پوری تاریخ میں طاقتور عام لوگوں کا استحصال کرتے رہے، ظاہر ہے کہ غربت نہ ہوتی تو غلاموں کی تجارت کیسے ہوتی۔
پاکستان کے عوام کی غربت کی وجہ اس پر مسلط جاگیردار زمیندار اور طالع آزما ہیں، ایک سازش کے تحت انہوں نے ملا کو اس قوم پر مسلط کر دیا ہے، اور وہ عوام کو گمانوں میں ڈالے ہوئے ہے اور اس سازش میں مغرب شامل ہے، جب تک اس ملک میں ملائیت اور جمہوریت کا راگ اس ملک سے غربت ختم نہیں ہونے دینگے اور جمہوریت کا شعور مذہب، علاقائیت، صوبائیت اور لسانیت آنے نہیں دے گی، جو اس ملک کے جونک کی طرح چمٹ چکی ہے اور فی الحال اس کا کوئی علاج نہیں، ہاں اگر غربت مٹ جائے تو ان چیزوں میں کمی آسکتی ہے، معاشی فراغت اس خلیج کو پاٹ دے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.