یہ پلڑا کس طرف جھک رہا ہے؟

17

یہ کہنا نہ غلط ہوگا نہ مبالغہ آمیز کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے تلخ حقیقت جس کا ادراک ہر اس پاکستانی کو ہے جسے اپنے وطن سے محبت ہے کہ پاکستان کے ہر طالع آزما نے، وہ چاہے وردی والا ہو یا کوئی عوامی نمائندہ ہونے کا زعم رکھتا ہو،اپنی ہوسِ اقتدار کی تسکین کیلئے ان اداروں کوتباہ و برباد کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کی ہے جو کسی جمہوری ریاست کے ستو ن تصور کئے جاتے ہیں۔!
اس تخریبی کارروائی کا نتیجہ وہی نکلا ہے جو ہونا چاہئے تھا۔ ریاستی ادارے اگر پوری طرح برباد نہیں ہوسکے تو کمزور ضرور ہوگئے ہیں اور اس کا اعتراف ہر پاکستانی کرتا ہے سوائے ان طالع آزماوٗں کے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ کو ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی نفسیات کو بھی بگاڑا اور مسخ کیا ہے!
نفسیات اس قوم کی کس بری طرح سے بگڑی ہے اس کا ایک انتہائی تکلیف دہ مظاہرہ تو اسلام آباد میں گذشتہ ہفتے ہوا جب کالے کوٹ والے وکیلوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ پر دھاوا بولا! وکیل اس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں جسے معزز سمجھا جاتا ہے اور جنہیں قانون کا محافظ اور رکھوالا کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں طالع آزماؤں کے کالے کرتوتوں کے ہاتھوں ریاستی ادارے کمزور ہونا اپنی جگہ لیکن پھر بھی عوام الناس کا اب بھی یہ ایمان ہے کہ عدالتیں کام کررہی ہیں، ان میں انصاف ہورہا ہے اور انصاف کے حصول میں سب سے بڑا سہارا وکیل ہیں جن تک عوام کی رسائی ممکن ہے اور داد رسی کیلئے ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے!
یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے سب ہی وکلاء کا دماغ خراب ہوچکا ہے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ گذشتہ دس بیس برس میں وکیلوں کی برادری میں ایسا زوال آیا ہے جس نے عوام کے اعتقاد اور بھروسہ کو زک پہنچائی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں ایک وہ واقعہ رونما ہوا، آج سے کوئی چودہ برس پہلے جب پاکستان کے ایک رسوائے زمانہ طالع آزما، پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کرنا چا ہا کیونکہ وہ زعم میں مبتلا مشرف کے راستے کا پتھر تھے اور مشرف کو خوف تھا کہ وہ جو کرنا چاہ رہا تھا اس میں چوہدری صاحب روڑے اٹکا ئیں گے۔ لہٰذا اس نے طاقت کے نشہ میں انہیں برطرف کرنا چاہا جس کے جواب میں وکلاء تنظیم نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا۔ نتیجہ میں مشرف کو منہ کی کھانی پڑی۔ لیکن اس کامیابی نے بہت سے کم ظرف وکلاء کا دماغ خراب کردیا۔ ظرف کا امتحان تو قدم قدم پر ہوتا ہے لیکن سب سے کڑا امتحان کسی کامیابی کے بعد ہوتا ہے، کچھ مل جانے کے بعد ہوتا ہے۔ جب شہرت مل جائے، لوگ واہ واہ کرنے لگیں اس کے بعد ممدوح کیا کرتا ہے اس سے ہی تو اندازہ ہوتا ہے کہ سیر کے برتن میں سوا سیر سہنے کا ظرف ہے یا نہیں!
تو ہوا یہ ہے کہ مشرف کا تکبر اور زعم خاک میں ملادینے کے بعد و کلاء برادری کی کالی بھیڑیں یہ سمجھنے لگیں کہ وہ جو چاہے کرسکتے ہیں کوئی انہیں روکنے یا ٹوکنے والا نہیں ہے اور جو ان کے سامنے آنے یا انہیں عاقبت سجھانے کی کوشش کرے اسے وہ مٹادیں گے، پامال کردیں گے اسے!
سو ان تیرہ چودہ برس میں پاکستان کی وکلاء برادری نے بارہا اپنا لوہا منوانے کی جو قبیح کوششیں کی ہیں ان سے یہ ثبوت مل گیا کہ نواز اور زرداری جیسے چوروں نے اس معزز پیشے میں بھی اپنے ہی جیسے کم ظرف اور قانون کی دھجیاں اڑانے والے شر پسند اور غنڈہ عناصرکو اپنی سرپرستی میں جگہ بھی دی ہے اور ان کے شر کو ہوا بھی دی ہے! کسے یاد نہیں ہے کہ نواز شریف کی دوسری وزارتِ عظمی کے دور میں، انیس سو ستانوے میں وزیرِ اعظم کی شہ پر مسلم لیگ نواز کے غنڈوں اور شر پسندوں نے عدالت عالیہ پر دھاوا بولا تھا کیونکہ نواز جیسا کرپٹ وزیر اعظم اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو سبق سکھانا چاہتا تھا!
اسلام آباد ہائی کورٹ پر 8 فروری کی صبح حملہ کرنے والے کوئی ایک دو دن نہیں بلکہ پورے کوئی ڈیڑھ سو کالے کوٹ والے تھے جنہوں نے نہ صرف عمارت پرسنگ باری کی، اس کے شیشے توڑے بلکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو ان کے دفتر میں تین گھنٹے تک یرغمالی بنائے رکھا۔ وہ تو شاید چیف جسٹس کے ستارے ان کے حق میں تھے کہ حملہ آور غنڈے وکیل ان کے دفتر میں داخل نہ ہو سکے ورنہ وہ غنڈے ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے اس کا تصور ہی تکلیف دہ ہے۔ شدید لائقِ مذمت جو بات ہے وہ یہ کہ حملہ کرنے والوں میں خواتین وکلاء بھی شامل تھیں جو، ٹیلی وژن کے کیمروں نے دکھایا نہ صرف نعرہ بازی کررہی تھیں بلکہ سنگ باری میں بھی برابر کی شریک تھیں!
لیکن یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا جو یوں دھڑلے سے غنڈہ گردی کی کالے کوٹ والوں نے۔ اس سے پہلے متعدد واقعات ایسے ہوئے کہ عدالتوں پر وکیلوں نے دھاوا بولا اور انصاف کی عدالت لگانے والے جج صاحبان کو زد و کوب کرنے کی کوشش کی گئی۔ لاہور میں ایسے ہی ایک واقعہ میں تو بے غیرت وکیلوں نے جج کے کپڑے اتارنے کی مذموم کوشش بھی کی تھی!
یہ تکلیف دہ اور انتہائی ناخوشگوار واقعہ کسی گمنام جگہ پہ نہیں بلکہ ملک کے دارالحکومت میں ہوا جہاں کہنے کو حکومت کا تمام تام جھام موجود ہے لیکن حکومت کی رٹ کو وہیں تمام دنیا کی آنکھوں کے سامنے بے خوفی سے چیلنج کیا گیا لیکن حیرت ہے کہ حکومت نے آجتک اس کے جواب میں کچھ نہیں کیا جبکہ اس کے دو دن بعد جب اسی اسلام آباد میں، اسی ہائی کورٹ کی عمارت سے، جس پر دھاوا بولا گیا تھا، سرکاری ملازمین کے ایک پر امن احتجاج کے جواب میں حکومت نے بیجا طاقت کا قابلِ مذمت کام کیا جب پُر امن مظاہرین پر، سرکار کی خدمت بجا لانے والے ملازمین پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا اور آنسو گیس بھی استعمال کی گئی اوراُس کے بعد جب وزیر داخلہ شیخ رشید سے اس پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کو مذاق میں اڑادینے کی ناکام کوشش کی لیکن جو کہا وہ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات تھی جن پر آنسو گیس پھینکی گئی تھی۔ شید ا ٹلّی، جی ہاں راولپنڈی میں شیخ رشید آج سے نہیں برسوں سے اسی نام سے جانے جاتے ہیں، نے یہ بھونڈا مذاق کرنے کی کوشش کی کہ آنسو گیس تو یہ دیکھنے کیلئے استعمال کی گئی تھی کہ اس کے شیل، جو بہت عرصہ سے رکھے ہوئے تھے، اب بھی کارآمد ہیں یا نہیں!
امریکہ میں آپ نے دیکھا کہ پچھلے مہینے ٹرمپ کی شہ پر شرپسندوں اور غنڈہ عناصر نے جو کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولا تھا اس کے جواب میں کانگریس نے ایک سابقہ صدر کا مواخذہ کرنے سے احتراز نہیں کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ری پبلکن پارٹی نے امریکی سینٹ کو اپنے سابقہ صدر کو مجرم گردانے سے محروم رکھا لیکن کم از کم کسی کو یہ کہنے کی گنجائش تو نہیں رہے گی کہ امریکی جمہوریت اپنا دفاع نہیں کر سکتی!
عمران حکومت کے ضمن میں ان کے حمایتی یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ اس حکومت نے اپنا فرض پورا کیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا!
امریکی کانگریس کو اس کا شعور اور بھرپور ادراک تھا کہ ریاستی اداروں پر حملہ پوری جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش ہوسکتا ہے اور شر کا سدِ باب اسی وقت ممکن ہے جب شر کو پنپنے کا موقع دئیے بغیر اس کا پھن کچل دیا جائے۔ گربہ کشتن روزِاوّل محض ایک کہاوت نہیں ہے، ایک ضرب المثل ہی نہیں ہے بلکہ ایک رہنما اصول ہے۔ شر اور برائی کا قلع قمع اسی وقت ہوتا ہے جب اسے بڑھنے سے پہلے ہی روک دیا جائے ورنہ یہ زہریلی بیل بڑی تیزی سے پروان چڑھ سکتی ہے اور نتائج کسی کے بھی حق میں اچھے نہیں ہوتے!
پاکستان میں سیاسی نظام بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے اور اس نظام کے دونوں ستون،انتظامیہ اور مقننہ، یعنی قانون بنانے والے اور اسے نافذ کرنے والے دو ادارے اپنے فرائض بجالانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ریاست کا ایک ستون، یعنی فوج وہ واحد ادارہ ہے جو مستحکم ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے عوام کو اپنی حفاظت کیلئے اس پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے جو غلط نہیں ہے۔ فوج کے بعد جس ادارہ پر عوام کو کچھ اعتماد ہے وہ عدلیہ ہے اور ظاہر ہے کہ اسے کمزور کرنے کی ہر کوشش عوام کے اس پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے بلکہ مجروح کرنے کے مترادف ہے۔!
لیکن عدلیہ یوں لگتا ہے کہ خود اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے پھونک دینا چاہتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ کرنے والے اور اس کے چیف جسٹس کو یرغمالی بنانے والے کوئی اور نہیں عدلیہ کے نظام کے رکھوالے وکیل تھے۔ تو اب عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں!
لیکن صرف وکیل ہی عدل و انصاف کی عمارت ڈھانے کی کوشش نہیں کررہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ خود عدالت بھی اس کام میں پیچھے نہیں ہے۔
عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ ایک عرصہ سے ہدف بنے ہوئے ہیں ان کے جن کو ان کی صاف گوئی پرمبنی پُرعدل فیصلے پسند نہیں آتے۔ انہوں نے اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے مذہب کا چولا پہنے ہوئے شرپسندوں کے مقدمے میں ان کے اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جو فیصلہ صادر کیا تھا اس کے بعد سے وہ بہت سوں کے نشانے کی زد میں ہیں لیکن وہ با اصول انسان ہیں، خاندانی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ با ضمیر ہیں! لیکن ایک جاگیر دارانہ معاشرہ میں ضمیر کا زندہ ہونا تو دشمن پالنے والی بات ہے۔ سو جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ان کے فیصلوں نے دشمنی کو جنم دیا۔ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس عدالتِ عالیہ میں کیا گیا جو سراسر بد نیتی پر مبنی تھا سو عدالت نے اسے خارج کردیا لیکن اس کے پردے میں حکومتی اداروں نے انہیں اور ان کے کنبہ کو جی بھر کے ہراساں کیا۔ جاگیرداری کلچر میں یہ بھی دشمن کو زیر اور مطعون کرنے کا ایک آزمودہ ہتھیار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا میڈیا ٹرائل بھی خوب خوب ہوا ان ضمیر فروش لفافہ صحافیوں کے قلم اور زبان سے جو ہر زردار کے دسترخوان کے ٹکڑوں پر پلا کرتے ہیں۔! لیکن سچ کو آنچ کہاں آخر کارجسٹس عیسیٰ کا دامن صاف نکلا۔
لیکن غیر تو پھر غیر ہوتے ہیں ان سے کیا گلہ۔ مگر اب کچھ یوں ہے کہ نظر یہ آرہا ہے کہ عدالتِ عالیہ کی اپنی دیوار میں دراڑ پڑ رہی ہے یا پڑچکی ہے! فائز عیسیٰ صاحب نے حال ہی میں وزیرِ اعظم کے اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو کٹہرہ میں کھڑا کردیا تھا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حکومتی اراکین کو اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی مد میں، بظاہر فلاحی کاموں کیلئے، پچاس کروڑ روپے دئیے جائینگے! ایک غریب، مفلوک الحال ملک میں جس کا بال بال بیرونی قرضوں میں بندھا ہوا ہے، اس طرح کی حکومتی سخاوت اور دریا دلی رشوت کا دوسرا نام ہے تاکہ وہ اپنی پارٹی کے وفادار رہیں۔ اس وقت اس کی ضرورت شاید حکومت کو یوں اور پڑی کہ سینٹ کے انتخاب قریب ہیں اور حکومت یہ چاہتی ہے کہ سینٹ میں اسے اکثریت مل جائے!
لیکن چیف جسٹس صاحب نے نہ صرف ان کے اس اقدام کو، جو صرف ریاست کے کاموں میں شفافیت کے حق میں تھا، خارج کردیا بلکہ یہ حکم بھی نافذ کیا کہ چونکہ فائز عیسیٰ صاحب نے از خود وزیر اعظم کئے خلاف ایک مقدمہ کیا ہوا ہے لہٰذا وہ کسی ایسی بنچ پر بیٹھنے کے حقدار نہیں ہیں جن کا تعلق وزیرِ اعظم سے ہو!
ویسے تو یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں سے غیر آہنگ نہیں ہے لیکن ہماری عدلیہ کی اس تاریخی روایت کے خلاف ہے جو برسوں سے قائم ہے اور جس کا ایک اہم سنگِ میل ہماری اسی عدا لتِ عالیہ کا انیس سو نوے کی دہائی کا ایک متفقہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی مقدمے میں اگر کسی فریق کو کسی جج کی غیر جانبداری پر شبہ ہے تو وہ اعتراض کرسکتا ہے لیکن یہ فیصلہ کرنا اسی جج کا استحقاق ہوگا جس کی نیت پر شک کیا گیا ہے کہ وہ اس مقدمے میں منصف رہنا چاہتا ہے یا اس سے علیحدگی کو پسند کرتا ہے! بہ الفاطِ دیگر ججوں کی نیت پر، خاص طور پہ عدالتِ عالیہ کے ججوں کی نیت پر شک کرنا پورے نظامِ عدل پر شبہ کرنا ہے! لیکن اس تازہ ترین پیش رفت میں یہ امر غور طلب ہے کہ عدالتِ عالیہ کے سربراہ اپنے ہی ایک سینئیر جج کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں جن کی شخصیت کو حکومتی اداروں سے متعلق لوگوں نے متنازعہ بنادیا ہے!
عدالتِ عالیہ کے سربراہ کی نیت پہ شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن ان کا یہ حکم اس وسوسہ کو تحریک دے رہا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ از خود ہے یا اس کی تحریک کہیں اور سے آئی ہے؟
عدل کی ترازو کے دونوں پلڑے اگر ایک خطِ مستقیم میں رہیں تو انصاف پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن اگر ایک پلڑا کسی کی طرف جھکنے لگے تو شبہات جنم لیتے ہیں اور ان سوالات کو شہ ملتی ہے جو پورے نظامِ عدل پر پہرا بٹھادیتے ہیں!

Leave A Reply

Your email address will not be published.