یہ ریڈیو پاکستان ہے!

18

انسان جب بڑا ہو رہا ہوتا ہے جو ماحول اس کے اردگرد ہوتا ہے اور جو کچھ وہ دیکھتا ہے، سمجھتا ہے کہ بس یہی دنیا ہے پھر جیسے جیسے ماہ و سال گزرتے ہیں دنیا کو exploreکرتا ہے سوچ کے زاویے بڑے ہوتے ہیں لیکن بچپن کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں چاہے ہم دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں۔
میری پیدائش پاکستان کے نامور براڈ کاسٹر قمر علی عباسی اور نیلوفر عباسی کے گھر ہوئی، ان دونوں کا گہرا تعلق ٹیلی ویژن سے بھی تھا، میری پیدائش سے کئی سال قبل ہی ابو ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر اور امی ریڈیو ٹیلی ویژن کی مقبول ترین فنکارہ تھیں اس لئے ہمارے گھر میں ان دونوں اداروں سے متعلق ہمیشہ ذکر رہتا تھا۔
آرٹسٹ، سکرپٹس، ریکارڈنگز، ریہرسلز ان سب کا ذکر اور وقوع پذیر ہونا میرے بچپن کا حصہ تھے مجھے لگتا تھا کہ شاید تمام ہی لوگ ریڈیو اور ٹی وی میں کام کرتے ہیں پھر میں بڑا ہوا تو پتہ چلا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، لیکن ٹی وی اور خاص طور سے ریڈیو ہمیشہ میری زندگی اور یادوں کااہم ترین حصہ رہا۔
ریڈیو پاکستان وہ ادارہ ہے کہ جو دوسرے ابلاغ کے ذرائع اور اداروں پر ہمیشہ حاوی رہا، اس کی وجہ تھی اس کی دور بہت دور تک رسائی تھی یہ وہاں تک پہنچتا تھا جہاں ٹی وی نہیں پہنچ سکتا تھا، پاکستان کاایک بڑا علاقہ جہاں بجلی کی سہولت میسر نہیں تھی ان کے لئے تفریح اور معلومات کا واحد ذریعہ بیٹری سے چلنے والا ریڈیو ہوتا تھا۔
آج بھی پاکستان میں پچاس ملین سے زیادہ ایسے خاندان ہیں جو بجلی کی سہولت سے محروم ہیں وہ بیٹری سے چلنے والے ریڈیو پر گزارہ کرتے ہیں، ساتھ ہی ایسے لوگ جو باہر کام کرتے ہیں جیسے پان کی دوکانیں، ڈھابے اور کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتے کسان وہ اسی سہولت کو استعمال کرتے ہیں، کسان اپنے بیل کے گلے میں ٹرانسسڑ لٹکا دیتا ہے۔ بیل بھی موسیقی کے سرور میں زیادہ چکر لگا تاہے، فوجی جوان بھی جب کبھی فارغ وقت ملتا ہے ریڈیو کے ذریعے کیمپس وغیرہ میں باہر کی دنیا سے باخبر رہتے ہیں۔
لمبے روٹس پر جانے والے ٹرک اور کاروں کے ڈرائیورز بھی ریڈیو ہی کے ذریعے طویل سفر طے کر ڈالتے ہیں۔ریڈیو سے نشر ہونے والی کرکٹ کمنٹری بھی نہ صرف تفریح کا ذریعہ تھی بلکہ لوگوں کو قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھی، ڈھابہ ہو یا کافی شاپ بزنس کرنے والے ہوں یا دفتروں کے بابو کرکٹ کی کمنٹری شروع ہوتے ہی ریڈیو کے گرد جمع ہو جاتے، ذوق و شوق سے کمنٹری سنتے اپنی ٹیم کی جیت کی دعائیں کرتے، ہم خیال ہو جاتے، ریڈیو ہمیشہ زندگی کا اہم حصہ بنا۔
دنیا میں اس وقت بھی 13فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے پاس بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے یعنی آج بھی بیٹری سے چلنے والا ریڈیو ہی ان کی معلومات اور تفریح کا ذریعہ ہے لیکن 87فیصد لوگوں کا کیا؟ کیا ٹیکنالوجی بدل جانے سے ریڈیو کا کوئی مستقبل نہیں رہا؟؟ یا پھر ریڈیو بھی کبھی کچھ بیتی باتوں، بیتے زمانوں کی صف میں شامل ہو جائے گا؟؟ اس کا جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ ریڈیو کا مستقبل تابناک ہے۔
امریکہ میں ایک کمپنی ہے XM radio، یہ کوئی 2002ء کے آس پاس شروع ہوئی تھی، اس کو بہت جلد اندازہ ہو گیا تھا کہ مستقبل کی ضرورت کیا ہو گی، اس نے سیٹیلائٹ HD Radioشروع کیا۔ آسان لفظوں میں اِ س کمپنی نے سیٹلائٹ ریڈیو متعارف کروایا جس کے ذریعے آپ امریکہ میں کسی بھی جگہ ہوں آپ کو بہترین آواز سننے کو ملے گی۔ یہ XM Radioہے جبکہ اس سے پہلے FMاور AMریڈیو محدود علاقے تک پہنچ سکتے تھے۔
اس وقت امریکہ میں بننے والی ہر کار میں XMریڈیو لگا ہوتا ہے جس کی سروس آپ کو باقاعدہ فیس دے کر لینی پڑتی ہے یعنی FMاور AMکے علاوہ لوگ رقم خرچ کر کے XMریڈیو بھی سن رہے ہیں۔
دنیا میں ایک نئے طرز کا ریڈیو بھی آگیا ہے جسے PodCastکہتے ہیں، فون پر ایک ایپ ہوتی ہے جس پر مختلف شوز موجود ہوتے ہیں، تبصرے جائزے سب ہی ہوتے ہیں ، محض ایک کلک سے آپ سب کچھ سن سکتے ہیں۔ صرف Appleکے آئی فون، ڈیوائس پر 43ملین Pod cast Episodesموجود ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ جیسے ٹی وی پر مختلف APPsآگئی ہیں جیسے ڈزنی پلس، Sling, hotstar وغیرہ، اسی طرح ریڈیو بھی ایپ اور Satellite basedہو جائے گا۔
1970ء میں ATDTپکچر فون لایا تھا جس میں آپ کسی کو بھی فون کر کے ایک چھوٹے سے سکرین پر بلیک اینڈ وائٹ تصویر دیکھ سکتے تھے، اس کے لئے دونوں طرف پیکچر فون ہونا ضروری تھا لیکن تصویر کا رزلٹ بہت ہی برا ہوتا تھا اس کے بعد ایک ایڈ آیا Atdtکا جس میں ایک لڑکی کو اپنی والدہ کو Pcoسے فون کرتے دکھاتاہے وہ دونوں ویڈیو کال کررہی ہیں، اشتہار کے آخر میں Atdtکا پیغام آتا تھا کہ ’’ابھی تو ہم یہاں تک نہیں پہنچے لیکن جب بھی پہنچیں گے Atdtآپ کے ساتھ ہو گا۔ 2010ء میں فیس ٹائم جب آئی فون میں آیا تو Atdtاپیل کا سب سے بڑا موبائل سروس کیئریئر تھا۔
وہ کمپنیاں جو ٹیکنالوجی کے ساتھ Growکرتی ہیں ان کو کوئی روک نہیں سکتا اور جو ایسا نہیں کرتے ہو فیوجی فلمزیا Polorid کی طرح ہو جاتے ہیں، وہ دو کمپنیاں جنہوں نے پورٹ ایبل کیمرے سے پکچر کھنچناسکھایا، آج وونوں بینک کرپٹ ہیں جبکہ ان کے پاس ڈیجیٹل ڈیوائس ہیں، امیج شیئرنگ کے پینٹٹ تیس سالوں سے موجود تھے یعنی جو آج فیس بک اور انسٹا گرام کررہے ہیں لیکن انہوں نے خود کو Grow نہیں کیا۔
ریڈیو بھی رہے گا، دس سال بعد بھی اور دوسو سال بعد بھی بس formبدل جائے گی، ٹرانسسڑ میں نہ سہی یہ آواز آپ کے فون یا صرف چھوٹے سے ہیڈ فون سے گونجے گی!!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.