خیر پور کا محل اور پشاور کے بوسیدہ مکان

21

ایک طویل عرصے تک اسکے کالم پڑھنے کی وجہ سے مجھے اسکے شہر سے محبت ہو گئی تھی میںسوچتا تھا کہ جب بھی پاکستان گیا اسکے شہر ضرور جائوں گا اب میں شائد ایسا نہ کر سکوں اسکی وجہ آگے چل کر بیان کروں گا ایک قومی اخبار کا کالم نگار ہونے کے باوجود وہ زیادہ تر اپنے علاقے کے مسائل کے بارے میں لکھتا ہے اسکا پیرایہ اظہار اتنا دلچسپ ہے کہ اسکے بیان کردہ قصے کہانیوں میں قاری کی دلچسپی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اسکے شہر میں یوسف رضا گیلانی‘ شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی جیسے نامور مخدوم رہتے ہیں وہ انکے سیاسی ہتھکنڈوں اور چالوں سے اپنے قارئین کو آگاہ کرتا رہتا ہے وہ ان اکابرین کی سیاسی ضرورتوں‘ مجبوریوں اور مصلحتوں کے بخیئے ادھیڑتا ہے اسکے ساتھ ساتھ وہ وسیب کے وزیروں کے کرتوتوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے وہ افسروں کے تبادلے‘ وزیروں کی سفارشیں اور سرکاری کارندوں کی نا اہلی پر بھی دل کھول کر طبع آزمائی کرتا ہے وہ اپنے شہر کی ٹوٹی ہوئی سڑکوںپر وزیروں کی دوڑتی ہوئی قیمتی کاروںاور ان پر گھو منے والی نیلی اور سرخ بتیوں کی منظر کشی بھی کرتا ہے اور پھر ابلتے اور دہکتے ہوے ناکارہ سیورج سسٹم ‘ پینے کے صاف پانی کے عنقا ہونے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر بھی رقمطراز ہوتا ہے فردوس عاشق اعوان کے چرچے بھی اسکے کالموں میں پڑھنے کو ملتے ہیں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی پریشانی‘ نا اہلی اور ناکامی اسکا پسندیدہ موضوع ہے وسیب کے معاملات کے علاوہ وہ کبھی کبھار سندھ اور بلوچستان کے بکھیڑوں پر بھی نکتہ سنجی کرتا ہے
نو فروری کے اخبار میں اس نے ’’ خیر پور کے فیض محل سے پشاوری حویلیوںتک‘‘ کے عنوان سے ایک کالم باندھا ہے اس نے لکھا ہے کہ فیض محل سابقہ ریاست خیر پور کے میروں کی سوا دو سو سال پرانی رہائش گاہ ہے اسے تالپوروں کی حکومت کے بانی میر سہراب خان تالپور نے 1798 میں بنوایا تھا اس سے پہلے اس نے سات فروری کو ’’ کوٹ ڈیچی کے محلات اور چنیوٹ کا عمر حیات محل‘‘ کے عنوان سے بھی ایک کالم لکھا ہے یہ دونوں تحریریں تالپوروں کے شکستہ حال محلوںکی حالت زار کا نوحہ ہیں ان کالموں کو پڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں سندھ ڈے تو بڑے طمطراق سے منایا جاتا ہے مگر اس صوبے کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی کسی کو بھی فکر نہیں یہاں تک تو سب ٹھیک ہے مگر نو فروری کے کالم کے آخری تین جملے ایسے ہیں جنہوں نے خالد مسعود خان کی انسان دوستی‘ درد مندی اور کشادہ دلی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے ان تین سطروں کو پڑھنے کے بعد مجھے انکے رشحات قلم پر جھوٹ اور تصنع کی ملمح کاری نظر آنے لگی ہے مجھے لگتا ہے کہ ملتان کی سیاست‘ اپنی انصاف پسندی اور ہمہ گیر مساوات پر یقین کامل کا جو طلسم کدہ انہوں نے بنا رکھا ہے اسکی تہہ میں کار عالمانہ اور ناصحانہ کی بجائے لفظوں کی جادو گری چھپی ہوئی ہے پشاور شہر کے بارے میں لکھے ہوے یہ تین زہریلے جملے پڑھ کر مجھے یہ شعر یاد آگیا ؎
سرِ منبر وہ خوابوں کے محل تعمیر کرتے ہیں
علاج ِغم نہیں کرتے فقط تحریر کرتے ہیں!!
کاش وہ یہ تین جملے نہ لکھتے انکا کالم تو انکے بغیر بھی ادھورا نہ تھا خالد مسعود نے ان تین جملوں میں میرے شہر کی دو عظیم اور عالمی شہرت یافتہ شخصیتوں کے بارے میں نہایت تضحیک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں انہیں پڑھ لینے کے بعد اب مجھے ملتان اور اسکے مخدوموں کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں رہی میرے ذہن میں بنے ہوے اس لکھاری کا بت پاش پاش ہو گیا ہے میں نے آج تک کوئی ایسی تحریر نہیں پڑھی جس میں قلمکار نے اپنے ہی کسی ملک کے شہر کے بارے میں نفرت اور حقارت کا اظہار کیا ہومیرا خیال تھا کہ ہر صاحب قلم کیلئے اسکے ملک کا ہر شہر اور ہرگائوں اسکا جگر گوشہ ہوتا ہے اسکی اپنے شہر سے محبت اسکا پیدائشی حق ہے مگر اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسرے شہروں کے بھی گن گائے گا خالد مسعود نے پشاور جیسے قدیم ترین‘ تاریخی اور مشہورو معروف شہر پر طنز و تحقیر کے نشتر چلانے میں ذرہ بھر بھی ہچکچا ہٹ محسوس نہیں کی اس نے حقائق کو مسخ کرتے ہوے پشاور کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ نزلہ بر عضو ضعیف کے زمرے میں آتا ہے علامہ اقبال نے اس صورتحال کے بارے میں کہا ہے
واعظوں میں یہ تکبر کہ الٰہی توبہ
اپنی ہر بات کو آواز خدا کہتے ہیں!
آئیے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ان تین سطروں میں کیا چاند چڑھایا ہے لکھتے ہیں ’’ دوسری طرف ایک اور صوبائی حکومت پشاور چھوڑ کر بمبئی جانیوالے اور پاکستان بننے پر ہندوستان کی شہریت اختیار کرنیوالے یوسف خان اور راج کپور کے گھر خرید کر انہیں عجائب گھر بنانے کیلئے کڑوڑوں روپے کے فنڈز مخصوص کر رہی ہے جو فکرو تردد اور خرچہ فیض پور کے محل پر ہونا چاہئے وہ پشاوری حویلیوں کی نذر ہو رہا ہے‘‘ صاف نظر آرہا ہے کہ ان سطور میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ فسانہ طرازی اور بہتان بازی سے زیادہ کچھ بھی نہیںخالد صاحب نے ان رہائش گاہوں کو سرنامے میں حویلیاں لکھا ہے پھر آخری تین جملوں میں انہیں ایک مرتبہ گھر کہاہے اور دوسری مرتبہ انہیں حویلی ہونیکی خلت فاخرہ سے نوازا ہے صاحب تحریر نے ان گھروں پر بھی اگر فیض محل کی طرح تحقیق کی ہوتی تو انہیں پتہ چلتا کہ جنہیں وہ حویلیاں کہہ رہے ہیں وہ شکستہ‘ منہدم اوربوسیدہ مکان ہیں یہ اجڑی ہوئی رہائش گاہیںستر برس پہلے دلیپ کمار اور راج کپور کے گھر نہ ہوتے تو آج ان دونوں کی قیمت ڈیڑھ دو کروڑ سے زیادہ نہ ہوتی ‘ ایک صدی پہلے کی کہانی بیان کرتے ہوے پھیکے رنگ و روغن‘ ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں‘ شکستہ چھتوں‘ سیلن زدہ دیواروںاور اکھڑے ہوے دروازوں والے گھر اگر خالد مسعود خان کوحویلیاں نظر آتے ہیں تو اسے انکی داستان طرازی اور قصہ گوئی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے میرے شہر کے لوگوں کو جن گھروں سے والہانہ محبت ہے خالد مسعود نے بڑے تکبر کیساتھ انکا مذاق اڑایا ہے میں پشاور کی بے حرمتی کے جواب میں لکھے ہوے اس پہلے کالم کا اختتام منیر نیازی کے اس شعر پر کرتاہوں؎
گل ِجدی اک وار شروع ہو جاوے
تے فیر اے ایویں مک دی نئیں!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.