100دن کا وعدہ!!

41

اگر امریکی صدر جوبائیڈن اور پاکستانی حکمران عمران خان کے 100دن کے وعدوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ کرنا، پورا کرنا، وفا کرنا ،نبھانا انسانی زندگی کے لئے کتنا اہم اور لازمی ہوتا ہے، جس پر انسان بھروسہ، اعتماد اور اعتبار کرتا ہے، جو انسانی امیدوں کا دارومدار ہوتا ہے جس کا مذہب اسلام حکم دیتا ہے کہ وعدہ کرو تو اُسے پورا کرو۔ وعدہ خلافی مت کرو جبکہ عمران خان نے پاکستانی غریب عوام سے حسب معمول لن ترانیوں پر مبنی 100دن کا وعدہ کیا تھا کہ وہ 100دن میں کرپشن ختم کرے گا۔ 200ارب ڈالر بیرون ملک سے واپس لائے گا۔ قرضہ لے گا تو خودکشی کر لے گا۔ قیمتوں میں آدھی کمی کرے گا۔ ڈالر 60روپے پر لائے گا۔ ایک کروڑ نوکریاں دے گا۔پچاس لاکھ مکان غریبوں کا بنوا کر دے گا۔ پاکستان کا دنیا میں نام روشن کرے گا۔ پاکستانی پاسپورٹ کی دنیا میں عزت بحال ہو گی اور نہ جانے کیا کیا بولتا رہا جس کا ذکر کرنا مشکل ہے مگر سب کچھ ان کے وعدے کے الٹا ہوا کہ ان کے ڈھائی سالہ دور بربریت میں چینی، آٹا، ادویات، بی آر ٹی، مالم جبہ، بلین ٹری اور دوسرے معاملات میں اربوں اور کھربوں کی کرپشن ہوئی۔ بڑے بڑے فارن فنڈنگ، براڈشیٹ، جہازوں کی قرقی اور دوسرے سکینڈلز سامنے آئے۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ ڈالر 164روپے پر چلا گیا۔ قرضوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل ہو گئی۔ ترقیاتی منصوبے روک دئیے گئے جس سے پنجاب بری طرح متاثر ہوا۔ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ پاکستانی کرنسی افغانستان سے بھی نیچے چلی گئی جبکہ عمران خان کی وعدہ خلافیوں اور قلابازیوں سے پاکستان کا وہ حشر ہو چکا ہے جس سے ملک دنیا کی کمزور ترین اور غریب ترین ریاست بن کر سامنے آیا ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی کہ پاکستان 1965ء اور 1970ء کی جنگوں میں بھی اس حالت میں نہ تھا جو آج ہے۔ برعکس امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی انتخابی مہم میں جو 100دن کا وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے ملکی حالات کو نقصان پہنچانے کی بڑی کوشش کی، خاص طور پر صدر ٹرمپ نے کرونا وباء کو قابو کرنے کے لئے سنجیدگی کی بجائے مذاق اڑایا جس سے کروڑوں امریکی بیمار اور تقریاً پانچ لاکھ افراد جان دے بیٹھے مگر جوبائیڈن صدر کا حلف لیتے ہی اپنے وعدوں کا خیال رکھا جنہوں نے کرونا وباپر قابو پانے کے لئے ایمرجنسی کے طور پر کام شروع کر دیا ہے جو نظر آرہا ہے۔ مسلمانوں کی آمدروفت کی پابندیوں کو ختم کر دیا۔ بچھڑے ہوئے امیگرینٹس خاندانوں کو آپس میں ملا دیا۔ پندرہ ڈالر فی گھنٹہ معاوضہ لاگو کر دیا، کورونا متاثرین کی مدد میں اضافہ کر دیا ہے۔ دنیا میں بگڑے ہوئے تعلقات بحال ہوچکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی تمام حماقتوں اور خباثتوں کو دور کیا جارہا ہے۔ تقسیم شدہ امریکہ کو متحد کیاجارہا ہے۔ ملک میں بے چینی اور کشیدگی کو دور کیا جارہا ہے جس سے پتہ چل رہا ہے کہ جوبائیڈن کا 100دن کا وعدہ ان کے پہلے 10دن میں پورا ہونے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں تاہم حکمرانوں کی نسلوں میں دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایک آمر، جابر، ظالم، غاصب، فاشسٹ ہوتے ہیں جو بہروپیوں کی شکل میں ملک پر قبضے کرتے ہیں، بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں۔ بڑی بڑی بھڑکیں مارتے ہیں۔ عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ جس کی نسل پاکستان میں غیر قانونی اور غیر آئینی جنرل حکمرانوں کی ہے جنہوں نے پاکستان کوموجودہ حالت میں پہنچا دیا ہے جن کی نسل آج عمران خان کی شکل میں ملک پر قابض ہے جس سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ دوسری نسل امریکی زیادہ تر حکمرانوں کی ہے جنہوں نے قوموں کی قوم ،تارکین وطنوں کی قوم، دنیا بھر سے آ کر آباد ہونے والی قوم، سینکڑوں نسلوں، لسانوں، مذہبوں کی قوم کو متحد کیا ہوا ہے جو دنیا کی عالمی طاقت ہے جس کے حکمران اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے نظر آتے ہیں جس کی مثال موجودہ صدر جوبائیڈن ہے کہ جنہوں نے نہایت ہی مشکلات اور مصائب میں اقتدار سنبھالا ہے کہ جس میں کورونا وباء سے ملک معاشی اور مالی طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے، یہاں اب تک چار ٹریلین ڈالر عوام پر بیروزگاری میں خرچ ہو چکے ہیں جو گزشتہ ایک سال سے عوام کو گھروں میں بیٹھے روٹی کھلارہے ہیں، عوام کو کھانے، پینے، صحت، تعلیم میں کوئی کمی نہیں ہونے دی ہے جبکہ پاکستان میں کورونا سے پہلے ہی ملک کا بیڑہ غرق کر دیا گیا جو اب کورونا کے بعد مزید بدحالی اور بے حالی کا شکار ہو چکا ہے چونکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے طے کر لیا ہے کہ ملک کو چلنے نہیں دینا ہے۔ عوام کو آزادی اور جمہوریت سے محروم رکھنا ہے۔ ملک میں لوٹ کھسوٹ کا نظام قائم رکھنا ہے۔ ریاست کے اوپر ریاست کا وجود ہر طرح برقرار رکھنا ہے۔ ملکی وسائل پر قابض رہنا ہے، زرعی ،رہائشی، مالی، تجارتی کاروبار پر اجارہ داری قائم رکھنا ہے لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے عمران خان جیسے حکمران ملک پر مسلط کرتی ہے جس سے پاکستان موجودہ حالت میں پہنچ چکا ہے۔ بہرحال عمران خان نے پاکستان کے 22کروڑ عوام کو کرکٹ کا میدان بنا رکھا ہے ،میچ جیتنے کے لئے جو کچھ بھی کیا جائے وہ جائز ہے جبکہ عوام اور کھلاڑیوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ عوام زندگی کی سہولتیں چاہتے ہیں وعدوں کی وفا چاہتے ہیں جو عوام طاقتور ہوتی ہے جو جھوٹے اور دھوکے باز اور فریبی حکمرانوں کو اپنے بیلٹ یا بلٹ سے ہٹا دیتے ہیں اس لئے پاکستانی حکمرانوں کو اس دن سے ڈرنا چاہیے کہ ان کا حشر ترکی، بنگلہ دیش، ایران اور برما جیسا نہ ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.