اردو کالم نویس کیا ’’روایت شکن ‘‘ہیں یا غیر ذمہ وار؟

13

آواز ٹوڈے ((AwazToday.pk پاکستانی اردو صحافت کی ویب سائٹ ہے جس میں ملک بھر کے صحافیوں کے کالم شائع کئے جاتے ہیں۔ سید محمد رضا اس کے رابطہ منتظم ہیں۔ اس سائٹ پر پاکستان اور بیرون ملک کے اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں اور اُردو کالم کے علاوہ وڈیوز بھی وافر تعداد میں ہوتی ہیں جیسے ٹاک شوزاور دیگر مواد۔ اس سائٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر کالم نگار کے پڑھنے والوں کی تعداد کا میٹر ہر روز کے حساب سے تازہ ترین نمبر بتاتا ہے۔اس نمبر سے کسی بھی کالم نگار کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ یہ مقبولیت ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی اور بڑھتی گھٹتی رہتی ہے۔ غالباً کالم کے عنوان سے قارئین اندازہ لگا لیتے ہیں کہ وہ ان کے مطلب کا ہے یا نہیں ۔ممکن ہے کہ اگر کوئی کالم نگار ان کی پسند کے سیاسی خیالات رکھتا ہے تو اس کے قارئین اسی تناسب سے اسے پڑھتے ہیں۔ راقم نے اس کالم میں یہ کوشش کی ہے کہ ایسے کالم نگار صحافیوں کی تحریروں پر ایک مختصر تاثر پیش کرے کہ جس کا مرکزی خیال اس مصنف کے حکومت وقت کے بارے میں عموماً مثبت، یا منفی یا ملے جلے خیالات ہوتے ہیں۔اس جائزہ کا مقصدیہ ہے کہ جو کالم نگارسب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں ان کے سیاسی خیالات کیا ہیں؟ دوسرے لفظوں میں ہمارے قارئین کس سیاسی روش کو پسند کرتے ہیں؟ کسی صحافی کی اہلیت اور قابلیت یا انداز نگارش پر ہلکی سی تنقید ضمناً ہے۔
صحافت میں ایک بہت اعلیٰ اور قابل صحافی کا نشان ایک مقبول عام حاکم وقت پر اس کی تنقیدہوتی ہے، انگریزی میں اسے (iconoclast ( اور اردو میں، روائیت شکن کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ایسے مصنفین ان انسانوں اورشخصیتوں پر تنقید کرتے ہیں جو معاشرے میں ایک بُت کی طرح جانی پہچانی اور پُوچھی جاتی ہیں۔ یہ بڑا مشکل کام ہے کیونکہ ایسا کرنے سے آپ ان شخصیتوں کے پرستاروں کے دل دکھاتے ہیں اور اپنے اوپر ان کا غیض و غضب لانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ شمالی کوریا میں کوئی صحافی وہاں کے مقبول عام صدر کیم یانگ اُن پر تنقیدی فکاہیہ لکھ دے۔ ایسی تنقید اگر تعمیری بھی ہو تو پرستار پسند نہیں کرتے۔پاکستان میں عمران خان کی، کم ازکم ابھی، وہ حیثیت تو نہیں کہ لوگ ان کا بُت بنا کر اسے پُوجیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کڑوڑوں لوگ عمران خان کو گذشتہ حکمرانوں کی نسبت کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ، کورپٹ حکمرانوں کے مقابلہ میں ، پاکستان کی آخری امید بھی سمجھتے ہیں۔عمران خان نے کرپشن کے خلاف جنگ کر کے بڑوں کی روزی اور آمدن پر حملہ کیا ہے۔ اگرچہ نوکر شاہی نے بجائے سبق سیکھنے کے، اپنے نرخ اور بڑھا دیے ہیں۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔راقم بھی پُرامید ہے کہ ہمارے میڈیا کے مقبول مشاہیر کبھی نہ کبھی پاکستان کے حقیقی مسائل کو سمجھیں گے اور حکمران جماعت کے لتے لینے کے بجائے، اس کو صحیح مشوروں سے نوازیں گے۔ اور عامیانہ نشانے بازی سے اجتناب کرنا شروع کر دیں گے۔
محترم جاوید چودھری پاکستان کے اُردو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالم نویس ہیں۔ ان کے 28 جنوری کے کالم جس کا عنوان ہے: ’’وزیر اعظم کا المیہ‘‘ اور جسے 12,448 قارئین نے دیکھا،میں فرماتے ہیں :’’وزیر اعظم نے اپنے آپ اور اپنی کابینہ کو انتہائی چھوٹے اور غیر اہم کاموں میں الجھا لیا ہے۔ وہ دن رات ترجمانوں کی ٹریننگ میں مصروف رہتے ہیں۔ اور اہم ترین وزراء بھی سارا سارا دن لگ کر اپنی غلطیوں کی جڑیں پچھلی حکومتوں میں دفن کرتے رہتے ہیں ۔ بجلی کی قیمتیں آج دگنی ہوئی ہیں، گیس آج نہیں ملتی، پی آئی اے جہاز آج کوالا لمپور میں ضبط ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ اس شخص کی بے سرو پا بکواس قارئین کیسے برداشت کرتے ہیں؟ وہ غالباً ایسے کے قارئین نون لیگ کے حمائیتی ہوں گے یا دوسری مخالف سیاسی خیالات کے حامل۔اگر کوئی بھی ذی شعور اس شخص کے کالم پڑھے تو توتعجب کیے بغیر نہیں رہ سکے گا کہ کیا کھلم کھلا جھوٹ، اور الزام تراشی کے پلندے سپرد قلم کیے جا رہے ہیں۔ اتنا جھوٹ تو مریم کی ڈو ڈو چارجرزبھی نہیں بولتیں ، اگر چہ وہ پراپیگنڈے کی ملکائیں ہیں۔لیکن جاوید صاحب کی کالم نویسی کی خوبی یہ ہے کہ وہ تقریباً ہر کالم کا آغاز کسی دلچسپ کہانی سے شروع کرتے ہیں اور کہانی کے اختتام کو اصل سیاسی موضوع سے جوڑ دیتے ہیں۔جس دلجمعئی کے ساتھ چودھری صاحب نون کی نمک حلالی کرتے ہیں،جو نقد ، فوائداور مراعات لے چکے ہیں اور لے رہے ہیں ، اس کے لیے ننگا تو ہونا پڑتا ہی ہے۔ لیکن ہماری درخواست ہے کہ حقائق کو اتنا مسخ تو نہ کریں کہ کل کا مورخ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ پاکستان کے مقبول عام صحا فی نے ایک تاریخ ساز حکومت کے ساتھ کھلی زیادتی کی۔ یہ ملک کے ساتھ بد دیانتی اور غداری نہیں تو اورکیا ہے؟
29 جنوری کے کالموں میں، دوسرا سب سے زیادہ پڑھا جانا والا کالم اوریا مقبول جان کا تھا۔ کالم کا عنوان تھا:’’یاجوج ماجوج کے آخری معرکے کی تیاریاں‘‘۔ جان صاحب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ صحافی ہیں اور انہیں پاکستان کی سول سروس کا تجربہ بھی ہے۔ لیکن معلوم نہیں کب سے ان کے ذہن پر طالبان سوار ہو گئے۔ لہذا انہیں کیطرح بے سر و پا کہانیاں لکھ کر قارئین کا دل بہلاتے ہیں، جیسے یہ ان کا تازہ کالم یاجوج ماجوج پر ہے۔اس کالم میں جان صاحب نے راکٹ سائنس پر اپنی معلومات کے خزانے لٹا دیے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ چینی در اصل یاجوج ماجوج ہیں جو دنیا پر قبضہ کرنے کے لیے آخری مراحل میں ہیں۔ اس مفروضہ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے انہوں نے احادیث کا سہارا بھی لیا ہے اور دیوار چین کی وجہ تعمیر بھی احادیث سے ثابت کی ہے۔ اگر وہ ذرا گوگل کر کے دیوار چین بنانے کی وجہ دریافت کر لیتے تو شاید یاجوج ماجوج چینیوں کے بجائے منگولوں کو بناتے۔ لیکن وہ تو قیامت سے بہت پہلے قیا مت ڈھا کر ایک پسماندہ ریاست میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور چینیوں کو دنیا میں غلبہ پانے کا شوق تو ہے، لیکن جنگ سے نہیں بلکہ اقتصادی برتری، صنعت اور تجارت سے۔ان کا مقابلہ اگر ہے تو امریکہ سے ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی ملک ایٹمی جنگ نہیں کرے گا۔ورنہ وہی قیامت ہو گی۔
اوریا صاحب کے بعد تیسرے نمبر پر مقبول ترین کالم نگار قبلہ ہارون الرشید ہیں، جو کہ جان صاحب کی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار صحافی ہیں۔ آج کل ایک خاصے مقبول عام ٹی وی ٹاک شو :’’مقابل‘‘ کے تجزیہ کار ہیں۔ ان کے ٹاک شوز اکثر سنسی خیز خبروں سے بھرے ہوتے ہیں جن پر ان کی تجزیہ کاری سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہے۔ اکثر بڑے پتہ کی خبر یں لاتے ہیں، اور ان کا تبصرہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ کم از کم حکومت وقت پر تنقید کرنے سے پہلے دو دفعہ سوچتے ہیں اور احمقانہ تنقید سے عموماً گریز کرتے ہیں ۔ ان کے کالم بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ ہارون صاحب کا10فروری کے کالم کا عنوان ’’صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے۔ پا بہ گِل بھی ہے‘‘ پاکستان کی دو دہائیوں کی مختصر اور بے ربط تاریخ بھی ہے۔ میٹرو بس،یا اورینج ٹرین، جو بھی ہے اس نے عوام کوآرام دہ مقامی سواری دی ہے۔ لیکن اس سواری کو برا بھلا کہنے کے بجائے مسئلہ در اصل ان کے کرائے ہیں جو سستی شہرت اور عوام میں مقبولیت کے شوق میں اتنے ارزاں رکھے ہیں کہ یہ سواریاں کبھی بھی خود اپنا بوجھ نہیں سہار سکیں گی۔ہارون صاحب ، کم از کم آپ کو تو عام پاکستانی سے بہتر معلوم ہو گا کہ مشرقی پاکستان کو بھارت نے نہیں ذوالفقار بھٹو اور عسکری قیادت نے علیحدہ کیا تھا۔ اگر یہ نہ چاہتے تو انڈیا کی مجال نہیں تھی کہ مشرقی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھتا۔ خیر ہر کالم نگار کی خواہش مقبول عام بننے کی ہوتی ہے۔ اگر اس تگ و دو میں کچھ عوام کے ذہن میں پھیلائی ہوئی جھوٹی باتیں دہرانی بھی پڑ جائیں تو کیا مضائقہ ہے؟ آخر جاوید چودھری صاحب تو پورا کالم ہی ایسے ہذیان سے بھر دیتے ہیں اور لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ کہنے کا طریقہ ہونا چاہیے۔
روف کلاسرا، ٹی وی کے شہرت یافتہ تجزیہ کار، بھی اپنے اُردو کالموں کی وجہ سے بھی جانے پہچانے ہیں۔ اکثر تحقیق کردہ واقعات پر کالم نگاری کا شغف رکھتے ہیں۔ ان کا تازہ ترین کالم ’’ نئے ہائی جیکرز‘‘ (29 جنوری)میں پاکستان کی کرپشن کی سیاسی تاریخ کو ایک کالم میں نہایت خوبصورتی سے رقم کر دیا ہے۔ جس کا لب لباب یہ نظر آتا ہے کہ ہر حکومت نے اُن سیاست دانوں کوجو انتخاب جیت جاتے تھے، نوازشوں سے مالا مال کیا اور اس عمل میں ایک نمایاں کردار ٹھیکیدار برادری کا رہا اور اب بھی ہے۔ وہ ایسے کے ارکان اسمبلی کو جو ترقیاتی فنڈز دئیے جاتے تھے ان سے جو کام کروائے جاتے تھے ان میں لا محالہ ٹھیکیدار حضرات کی ضروت پڑتی تھی۔ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ہر رکن قومی اسمبلی کو پچاس کڑوڑ روپے برائے ترقیاتی فنڈ دئیے جائیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ رقم براستہ ٹھیکیدار حضرات ترقیاتی کاموں پر کم اور ارکان کی جیبوں میںزیادہ جاتی ہے۔ان فنڈز کے لیے روپیہ کہاں سے آتا ہے؟ رئوف صاحب کا کہنا ہے کہ اس کے لیے حکومت گیس اور بجلی کی قیمتں بڑھاتی ہے۔’’ پیپلز پارٹی کے دور میں چند سینیٹرز اور ایم این ایز ، جن میںخواتین بھی شامل تھیں، نے ترقیاتی فنڈز لکی مروت کے ٹھیکیداروں کو بیچے۔ ایک کڑوڑ پر بیس لاکھ۔ واٹر سکیم کے نام پر چند لاکھ لگا کر بقیہ اسی نوے لاکھ روپے ٹھیکیدار اور ایم این ایز نے بانٹ لیے۔نواز شریف کی باری آئی، تو اس نے اپنے داماد کیپٹن صفدر کو بیس ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی رکھوالی پر بٹھا دیا۔ایم این ایز سے کہا روکڑا چاہیے تو کیپٹن صفدر کو راضی کرو۔‘‘
رئوف کلاسرا کہ یہ کالم پاکستان کی اقتصادی کاموں کے ماضی اور حال پر ناقدانہ بلکہ قدرے طنزیہ تجزیہ نظر آتا ہے، جو ضروری نہیں کہ موجودہ حکومت پر مخالفانہ رویہ ہو۔ان کی باتیں اکثر ایسی ہی کھٹی میٹھی ہوتی ہیں۔ جناب نصرت جاوید کے کالم نوائے وقت میں شائع ہوتے ہیں۔ ان کا تازہ ترین کالم29 جنوری کا ہے جس کا عنوان ہے: ’’براڈ شیٹ معاملہ: رات گئی بات گئی‘‘۔ نصرت صاحب کا کالم براڈ شیٹ سے متعلق انکشافات سے متعلق ہے جسکے جواب میں موجودہ حکومت کی حکمت عملی پر پھبتیاں کسنے کے علاوہ انہوں نے قارئین کو اس سارے واقع کے تاریک پہلوئوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے، جو ان کے پرستار قاری پڑھ کر واہ واہ کرتے ہوں گے۔نصرت صاحب نے کاوے موسوی کو ایرانی نوسر بازقرار دے کر اپنے تعصب اور سمجھ بوجھ کے فقدان کا بر ملا اظہار کر دیا۔ اگر وہ واقعی ایک نوسر باز ہوتا تو کیا سارا کیس لیکر برطانوی عدالت میں جاتا اور وہاں مقدمہ جیت بھی لیتا اور اتنا بڑا ہر جانہ بھی حکومت پاکستان کے خلاف کروا لیتا؟ نہیں جناب۔ ایسا نہیں ہے۔ برطانوی عدالت نے اس کیس میں، مسٹر موسوی کے فراہم کردہ سارے شواہد دیکھے ، جن کا سوچ کر نصرت صاحب اور ان کے لندن میں براجمان، پاکستان سے بھاگے ہوئے،سزا یافتہ مجرم ، نون لیگی قائد کی راتوں کی نیند تو حرام ہو گئی ہے۔ اب اگر وہ نون لیگیوں کا زر خرید جج نہیں ہے جو اس کمیشن کی سر براہی کرے گا، تو تکلیف تو ہونی ہی ہے۔ اور قبلہ اگر یہ بھی بتا دیتے کہ لندن کورٹ کا ہر جانہ کن کی نالائیقیوں اور بد عنوانیوں کی وجہ سے اس حکومت کو دینا پڑا اور اگر نہ دیتے تو اس کے کیا نقصانات ہوتے، تو بھی عمران خان کی حکومت کو ہی بُرا کہا جاتا۔
تو صاحبو! یہ مثالیں فقط بطور نمونہ پیش کی گئیں کہ مشتے از خروارے ہیں۔ ان سے ایک نتیجہ نکالنا تو آسان ہے کہ ہارون الرشید اور رئوف کلاسرا جیسے کالم نویس بھی مقبول ہیں اور جاوید چودھری، اوریا مقبول جان اور نصرت جاوید جیسے بھی۔ قارئین بیشک ایک جمہوری مزاج رکھتے ہیں اور ضروری بھی نہیں کہ وہ ہر کالم نگار کی ہر بات سے اتفاق بھی کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.