سینیٹ کی ویڈیو کو بکرا منڈی کہا جائے، ہیرا منڈی کہا جائے یا ضمیر فروشوں کی منڈی کہا جائے؟

9

ٹی وی کی سکرینوں پر ویڈیو چل رہی ہے جو بے شرم سیاستدانوں کی ہے جس میں قائداعظم کی تصاویر والے نوٹوں کی گڈیاں ٹریولنگ بیگ سے نکال کر میز پر رکھی جارہی ہیں جس طرح سے ووٹوں سے بھرے ہوئے پلاسٹک کے بھرے ہوئے بکسوں سے سیل توڑ کر ووٹس الٹے جاتے ہیں اور لوگ انہیں گنتے ہیں۔ کیا مرد اور کیا عورتیں سب ضمیر فروش ۔ ایم پی اے ان نوٹوں کی تھبیوں کو باقاعدہ گن کر اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ ان کی ضمیر کی بولی کی صحیح قیمت کی ادائیگی بھی ہورہی ہے کہ نہیں۔ ہولناک بات یہ ہے کہ اس سودے میں مرد و عورت برابر کے شریک اور حصے دار ہیں۔ اسی نوعیت کے بے غیرتی کے واقعے کے بعد عمران خان اپنی پارٹی کے اٹھارہ اراکین اسمبلی کو 2018ء میں پارٹی سے نکال باہر کیا تھا۔ جس کے بعد ہمارے غصے کی انتہا نہ رہی کہ کس قماش کے ڈاکو ہماری اسمبلیوں میں پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر ہم نے ایک غزل کہی تھی جس کا مطلع بھرپور غصے سے بھرا ہوا تھا اور کچھ لوگوں کیلئے قابل اعتراض بھی ہو سکتا تھا چونکہ ہم زہریلے حقائق اور منافقوں کی باتوں کو برداشت نہیں کر پاتے اور یہ ہی مسئلہ سعادت حسن منٹو کیساتھ بھی تھا جن کو حقائق کی نشاندہی کرنے پر عدالتی کیس کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا ہم نے آج تک اس غزل کو کسی مشاعرے میں نہیں پڑھا مبادا کسی کو ناگوار نہ گزرے مگر آج یہ طے کیا ہے کہ ہم اُسے یہاں تحریر ہی کر دیتے ہیں چونکہ اس ویڈیو میں جو سارے نشریاتی اداروں بشمول غیر ملکی نشریاتی اداروں کے ہر جگہ بار بار نشر کی گئی ہے اور یوں محسوس ہوا ہے کہ من حیث القوم ہر مرتبہ ہمیں برہنہ کر دیا گیا ہے اور ہمارے قومی کردار کی چندبے ضمیروں کے اقدام کی وجہ سے دھجیاں اڑا دی گئی ہیں، ہمارے اس غزل کا مطلع کچھ یوں ہے؎
یہ دنیا ہیرا منڈی ہے
ہرشخص یہاں پہ رنڈی ہے!
کبھی موقع ملا تو پوری غزل بھی پیش کریں گے کیونکہ اس کا ہر شعر غیر معمولی قافیے کے باوجود اشعار طنزیہ نشتر سے بھرپور ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری سیاست واقعی ایک ہیرا منڈی ہے، ایک طوائف کا کوٹھا ہے جہاں پر تماش بین بالکل اسی طرح سے نوٹوں کی تھبیاں پھینکتے ہیں جیسا کہ اس مسلسل نشر کی جانے والی ویڈیو میں ہمارے سیاستدان کررہے ہیں۔ یہ مرد اور عورت سیاستدان بھی ان کوٹھوں کی طوائفوں سے کم نہیں بلکہ ہم تو کہیں گے کہ ان سے بھی بدتر ہیں چونکہ وہ مظلوم عورتیں تو اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے مجبوری میں گانا گارہی ہیں رقص کررہی ہیں اور جسم بیچ رہی ہیں۔
کروڑوں روپے کی گڈیاں حاصل کرنے کے لئے آپ کی کیا مجبوری ہے؟ دراصل آپ بے غیرت اور بے شرم ہوس زر کے بجاری ہیں جو اپنے اپنے ضمیر کی بولیاں وصول کررہے ہیں۔ ہم ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ جو لوگ سب سے زیادہ ہر بات پر مذہب کو استعمال کرتے ہیں، قسمیں کھاتے ہیں اور قرآن پاک اٹھاتے ہیں وہ ہی سب سے بڑے منافق اور جھوٹے ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں نوٹوں کی گڈیوں کے ساتھ وہ صاحب بھی موجود ہیں جن کی ایک پرانی ویڈیو اس ویڈیو کیساتھ ساتھ میڈیا دکھارہا ہے جس میں وہ دونوں ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر حلفیہ بیان کررہا ہے کہ اس نے سینیٹ کے الیکشن کیلئے کبھی اور کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے۔ کیا اس سے بھی بڑا اور بھونڈہ مذاق قرآن اور اسلام کیساتھ ہو سکتا ہے شاید یہ وجہ ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ تعداد اور تواتر کیساتھ لفظ منافاق اور منافقت آیا ہے۔ آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ قصور میں زینب بچی کی آبروریزی کرکے قتل کرنے کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا تو جو قاتل پکڑا گیا تھا اس نے بھی مذہب کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور وہ ایک نعت خواں تھا اور اس آڑ میں پتہ نہیں کتنی بچیوں کیساتھ زیادتی اور پھر قتل کر چکا تھا۔ پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے معروف اداکار اور ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی اسی موضوع پر بنی ہوئی فلم ’’زندگی تماشہ‘‘ سنسر سے پاس ہونے کے باوجود نمائش کے لئے نہیں پیش کی جا سکی ہے، سینما ہالوں میں چونکہ خادم رضوی کی جماعت والوں نے کہا ہے کہ وہ آگ لگا دیں گے اور اجتماع کریں گے وہی بات آگئی کہ لوگوں کو حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی وہ ہی مووی جب انٹرنیٹ پر ریلیز ہو جائے گی تو پھر کس کو آگ لگائو گے دیکھنے والوں کے گھروں کو؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.