دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ویلینٹائن ڈے دھوم دھام سے منایا گیا

17

ناجائز محبت کو جائز بنا کر میرا جسم میری مرضی کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ماں باپ کی عزت کو داؤ پر لگایا گیا ایک گناہ بے لذت کے لئے جسمانی رشتوں کو نوچا گیا- پیار کے نام پر محبت کا مذاق اْڑایا گیا ۔زندگی ایک کھیل ہے اور پیار اس کھیل میں کامیابی پر ملنے والا تمغہ ہے۔ اگر آپ کے پاس پیار کرنے والے لوگ ہیں تو آپ ایک کامیاب زندگی کے مالک ہیں اور یہ پیار کے حصول کے احساسات انسان میں اعتماد پیدا کرتے ہیں جو انسان کی کامیابی میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اتنا بڑا تمغہ اور اعتماد بھری زندگی کا حصول کیاآسان ہے؟ یقینا نہیں کیونکہ زندگی کا یہ کھیل وہی جیت سکتا ہے جو خود کو غصے میں زیر کرنے کے داؤ جانتا ہو۔ جو عزت، اہمیت، رویے جیسے ہتھیاروں کے ماہرانہ استعمال سے اپنوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اپنا بنانا جانتا ہو۔ جو اپنی خواہشوں کی قربانیاں دے کر دوسروں کی امیدوں پر پورا اترنے کی طاقت رکھتا ہو۔ جو اپنے فرائض اور اپنوں کے حقوق پر عقابی نگاہ رکھتا ہو۔ جس کا دل ایک بڑا قبرستان ہو جہاں منفیت کو دفن رکھتا ہو۔ جو ایمانداری سے اپنے باس (اپنے ربّ) کے تمام احکامات پورے کرنا جانتا ہو۔ جو تمام اپنوں کو ان کی اہمیت دینا جانتا ہو۔ ایسا شخص ہی اس پیار نام کے تمغے کو حاصل کرنے کا اہل قرار پاتا ہے کیونکہ وہ اس پیار کو بانٹنا جانتا ہے۔ لیکن! اتنی قربانیاں کون دے؟ اپنے آپ سے نکل کر دوسروں کے بارے میں کیوں سوچوں؟ عزت اور اہمیت پر تو صرف میرا حق ہے اور میں یہ حق دوسروں کو مفت میں کیوں دیتا پھروں؟ کیوں؟ جبکہ میرا کام چند جھوٹے جملے بول کر دوسروں کو دھوکا دے کر ان کا اعتبار حاصل کر کے بھی ہو جاتا ہے۔آج چند روپوں کے ایزی لوڈ، چند روپوں کی شاپنگ اور چند جھوٹے وعدوں کے بدلے ایک وقت میں بہت سے مختلف ذرائع سے پیار حاصل کیا جاسکتا ہے تو میں اتنی ذمے داریاں کیوں نبھاؤں؟
محبت! دراصل احساسات کا ایک ایسا پیچیدہ نام ہے جو جذبات، طرز عمل اور عقائد کا مرکب ہے۔ یہ کسی دوسرے کے لیے احساس، حفاظت، گرم جوشی اور احترام کے سخت جذبات سے و ابستہ ہے۔
محبت! جو ماں اپنی اولاد سے کرتی ہے۔ محبت! جو باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے۔ محبت! جو بہن بھائی میں پائی جاتی ہے۔ محبت! جو اولاد اپنے والدین سے کرتے ہیں۔ محبت! جو میاں بیوی آپس میں کرتے ہیں۔ محبت جو ہمارے نبی کی ہم سے ہے۔ محبت! جو ہمارا ر ب ہم سے کرتا ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو پاکیزگی، حفاظت اور احترام سے بھر پور پایا جاتا ہے۔
لیکن!آج ہمارے معاشرے میں ایک سستی محبت کا نشہ پروان چڑھ رہا ہے اور معاشرے میں بہت مہنگے نتائج مرتب کر رہا ہے۔ یہ سستی محبت ایک غیرت سے عاری مرد اور حیا سے نا بلد عورت کے درمیان پرورش پانے لگی ہے۔ یہ محبت احترام اور احساس کی پیکنگ میں بند ایک ایسا ناسور ہے جس نے معاشرے میں اپنے پنجے جما لیے ہیں اور یہ معاشرتی برائیوں کی ماں بنی ہوئی ہے۔ ان محبتوں سے ملنے والے تحفے جاندار پھولوں کی شکلوں میں اکثر کچرے دانوں میں نظرآتے ہیں اور پچھلے دنوں تو محبت کے تحفے سے پریشان لڑکی اس تحفے سے جان چھڑانے کے چکر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ اس خبر کو غیرت مند میڈیا اور باوقار عوام نے لائک، شیئر اور کمنٹس کی صورت میں خوب پروموٹ کیا۔ دو غیر محرموں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جب سوشل میڈیا پر اس خوفناک خبر کو دیکھا تو بہت دکھ کا اظہار کیا اور دوسری طرف اس قسم کی خبروں میں اضافے کے لیے کوششیں بھی جاری رکھی۔
یہ محبت کیا ہے؟ جسے ناجائز رشتہ، حرام تعلقات سمجھا جاتا تھا۔ آج معاشرے میں شرف قبولیت کیوں پاگئی ہے؟ شرف قبولیت ملنا درکنارآج عالمی سطح پر اخلاقیات اور تربیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ویلنٹائن ڈے کے نام سے عالمی یوم بے غیرتی منایا جانے لگا ہے۔ ثقافت، تہذیب، دین سے دور ہو کر معاشرے میں ہوس کا زہر گھولنے کے لیے اس دن کو نوجوان نسل بڑی چاہت سے مناتی نظر آتی ہے۔ جہاں لڑکے اس دن اپنی محبوبہ سے ملنے کے انتظار میں ہوتے ہیں وہاں انہی لڑکوں کی بہنیں بھی اپنے عاشقوں سے ملاقات کے لیے بے چین ہوتی ہیں اور اس محبت کے نام پر منائے جانے والے دن پر وہ کام سر انجام پاتا ہے جس کا محبت سے دور دور تک تعلق نہیں۔ اس دن عزت احترام جوتی کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔ اس دن عصمت کی حفاظت کو پیروں تلے روندہ جاتا ہے۔ اس دن احساس کو شہوت اور ہوس کی چادر میں چھپا کر خود کو حیا کی چادر سے بے پردہ کیا جاتا ہے اور نام دیا جاتا ہے ’’محبت‘‘۔
ویلنٹائن کی تاریخ اور اس کی تہذیب سے پرے میں صرف اس کے نتائج پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ آج بظاہر عقل مند قوم جو ہر کام پر فیصلہ نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔ ان کی عقل اس وقت کہاں ہوتی ہے جب عزتوں کو لٹانے کے مقابلے میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں؟ میرا جسم میری مرضی والی خواتین کسی اور کی مرضی پر اپنا جسم پیش کیوں کر دیتی ہیں؟ مردانہ انا کے علم بردار مرد کیسے ایک عورت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے ہیں؟ یہاں عقل مندی، ڈگریاں، ترقی یافتہ سوچ، تعلیم یافتہ ذہن، بلند معیاری خاندانی خون اور حیثیت سب کہاں چلے جاتے ہیں؟ اگر یہ فرسودہ محبت، نقلی چاہت، بے غیرت انسیت اور کھوکھلے تعلقات ایک اچھے احساس اور جذبے کا نام ہیں توآؤ ویلنٹائن مناتے ہیں۔ آؤ اپنی عزتیں لٹاتے ہیں۔ آؤ باپ، ماں کا سر جھکاتے ہیں۔آؤ معاشرے میں داغ لگاتے ہیں۔ آؤ دین اسلام اور نبی کی محبت کی دھجیاں اڑاتے ہیں، آؤ اپنے ربّ کے غصے اور ناراضی کا مزہ اٹھاتے ہیں۔ اپنی بہنوں بیٹیوں کو بھی اس طرف لگاتے ہیں کیونکہ جو حق میرا ہے وہ ان کا بھی ہے۔ جو محبت آپ کسی لڑکی سے کرتے ہو وہ محبت کسی کوآپ کی بہن بیٹی سے بھی کرنے کا حق ہونا چاہیے یا پھر شعور کے دامن تھامیں اور معاشرے کے اس زہر سے خود کو بچائیں۔ کہیں یہ زہرآپ کی اخلاقی اور تہذیبی موت کی وجہ نہ بن جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ترقی کہ آگ اگلتے پہاڑوں کو سر کرنے کے شوق میں آپ معاشرتی لعنتوں کی گہری کھائی میں جا گریں اور واپسی کا کوئی راستہ نہ ملے۔ اگر نہیں آؤ ویلنٹائن مناتے ہیں؎
باپ کے ہاتھ تھک گئے اولاد کو کپڑے پہنانے میں
اولاد کپڑے اْتارتی رہی، اپنے یار کو منانے میں!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.