سانسوں کا سودا ڈالروں میں!!گرکرسکو تو کرلو!

16

زہے نصیب! پھولن دیوی آج بیٹی کی زندگی کے لئے عوام سے دعائیں مانگنے کی درخواست کررہی ہے، تو عرض ہے یہ اندھے، بہرے گونگے عوام کیا دعا مانگیں گے؟ یہ تو اپنے لئے بھی دعائیں مانگنا بھول گئے ہیں۔ بے حس ہو گئے ہیں بیچارے: لیکن اتنے خودغرض بھی نہیں کہ بدعائیں کرنے لگیں۔ اب تو خوشی ،غم سب ان کے سر سے گزر جاتا ہے ’’پہلے آتی تھی حال دل پہ ہنسی، اب کسی بات پر نہیں آتی‘‘ رہی سہی کسر کرونا نے نکال دی ہے۔ موت کالی آندھی کی طرح سروں پر مسلط ہے۔ ’’مرگ انبوہ جشن ندارد‘‘ والی کیفیت ہے۔ اب پرسا دینے والے نہ لینے والے۔ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں تو بتائیں آپ کے لئے کس زبان میں دعا مانگیں۔ زمین الگ شکوہ کناں ہے۔ اپنی زمین سے غداری؟ اپنی مادر وطن کی بے حرمتی، دشمنوں سے سازباز، اپنے مفاد کی خاطر ضمیروں کا سودا، اپنے لوگوں کو بھی دولت کا چسکا لگا دیا اور ہر طریقے سے اس ملک کو لوٹا ہے تو بی بی کس منہ سے کہہ رہی ہیں کہ عوام تمہارے لئے دعا کریں؟ جن کے اپنے تمہارے کرم فرمائوں کی وجہ سے بنیادی ضرورتوں کو ترستے ہوئے قبروں میں جا سوئے تو ایسے بے حس لواحقین کسی کے لئے کیا دعا مانگیں گے۔ آپ کے پاس دولت ہے، محلات ہیں آپ ان غریب لوگوں سے کیا مانگتی ہیں۔ ہر چیز خرید سکتی ہیں زندگی بھی خرید لیجئے، سانسوں کا سودا ڈالروں میں کر لیجئے کون روکے گا؟ تو یہ پیسہ اگر آپ کو چند سانسیں نہ دے سکا، کسی بیماری سے شفا میسر نہ ہو سکی تو کس کام کا یہ پیسہ؟ کیا یہ قیمتی لباس، زیورات باعث عزت ہیں اب تو عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سب ان کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کیا گیا ہے۔ ان کی جائیدادوں کو اونے پونے خرید کر ہتھیا لیا گیا۔ دلوں کو دکھایا، کتنے لوگ ایسے ملیں گے جنہوں نے زندگی بھر کی جمع پونجی ایک چھوٹا سا ٹھکانہ بنانے میں لگا دی اُسے تک آپ لوگوں نے چھین لیا۔ آپ اپنے محلوں میں آرام کرتے رہے۔ وہ مائیں جن کے سر کا سائیں اٹھ گیا، ان کے پاس تعلیم تھی نہ ہنر، تو انہوں نے اپنے بچوں کو روتا بلکتا دیکھ کر عصمت ہی ایک چیز تھی جو انہوں نے فروخت کر دی۔ جب قحبہ خانوں پر چھاپے پڑے تو ان باعصمت خواتین نے اپنی روداد سنائی۔ کیا زرپرست، ہوس کے غلام نوکروں خدا یاد نہیں آتا، روز مرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر انہیں اپنی موت کیوں یاد نہیں آتی؟۔
بنیادی ضروریات پانی تک بھی فراہم نہ کر سکے نوازی، دوا، تعلیم بعد کی چیزیں ہیں اور غیر ضروری بھی( ان کے نزدیک) سڑکیں ہاں جی ماڈل ٹائون سے جاتی امرا تک کروڑوں خرچ کر کے بڑی پختہ سڑک بنی ہے۔ مسافروں کو جائے رہائش میسر نہیں، یہ لوگ جو دوسرے علاقوں سے فکر ِمعاش میں آتے ہیں تو پھر یہ جو اربوں کھربوں کا قرضہ لیا گیا یہ کون سے کھو کھاتے میں گیا؟ تمہارے پاس کوئی جواب ہے؟ یا صرف جھوٹے قطری خط ہی جمع کر رکھے ہیں۔
لیجئے صاحب، شوباز اور ہونہار کپوت حمزہ کی عدالت میں طلبی ہو گئی، شوباز اپنی سانپوں کی پٹاری لے کر آگئے پر وہی سوال گندم جواب چنا۔ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں کی رٹ۔ سانپوں کا زہر پٹاری میں مر چکا ہے۔ اب خالی پھنکار رہ گئی ہے۔ گاڑی پر ونڈ سکرین پر تھوڑے پھول ضائع ہوئے۔ پیچھے تلنگوں کی ٹولیاں جو کچھ بریانی، قیمے والے نان، چند سکوں کی خاطر ساتھ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے مراثیوں کی برأت جارہی ہے۔ کوئی دونوں باپ بیٹے سے پوچھے ’’اب کون سا نکاح کرنے جارہے ہو‘‘
پتہ نہیں ان دو خاندانوں کو پاکستان سے کیا دشمنی تھی کہ ہر جگہ سے لوٹا اور اب تیسرا یہ اژدھا فضلو بھی شامل ہو گیا۔ اس کی بھی اربوں کی جائیداد دریافت ہوئی ہے۔ لوٹا ہوا مال ان سے نکلوانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ فضلو تمہیں معلوم ہے کہ یتیموں، بیوائوں کا مال کھانا کتنا بڑا گناہ ہے۔ بجائے اس کے چوروں کو تم اس فعل قبیح سے روکتے تم نے بھی اس بہتے دریا میں تیرنا شروع کر دیا۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں میں گھلتا ملتا ہے۔ جہاں پر دونوں کا مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہوتا ہے۔ شرابی شرابی سے ملتا ہے۔ جواری جواری، چور چور سے، ڈاکو ڈاکو سے اور اس ملک میں ان گروہوں کی بڑی مضبوط دوستیاں ہیں اور یہ سب ملکر اس کے خلاف اکٹھا ہوتے رہیں گے جو ان کے لوٹے ہوئے مال کا حساب کتاب کرے۔ حساب تو لینا پڑے گا۔ ہر محب وطن انگارے چبارہا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ ان کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دے۔
عوام سے پھر ایک استدعا ہے کہ ان لٹیروں کے جلوسوں میں شامل نہ ہوں۔ حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پاک آرمی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں، سرحدوں پر کھڑے ہمارے یہ پاسبان، نگہبان، ان کے لئے ہمیں ہمیشہ دعا گو رہنا چاہیے۔
اسلام آباد میں ایک شرمناک واقع پیش آیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ پر وکلاء نے حملہ کر دیا چونکہ ان کے حکم پر وکلاء کے وہ دفاتر جو انہوں نے غیر قانونی طور پرچیمبر بنا لئے بلڈوز کر دئیے گئے۔ یہ وکیل جو قانون کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، کیا انہیں قانون توڑنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ے؟ یہ خونخوار بھیڑیوں کی طرح ایک چیف جسٹس کا محاصرہ کرتے ہیں، قانون ان کے لئے کیا کہتا ہے، ان وکلاء کی لگام کسنی ہو گی۔ کیا یہ ڈگری انہوں نے غنڈہ گردی کرنے کے لئے حاصل کی ہے۔ سب سے پہلے ان کی ڈگریاں کینسل کی جائیں۔ ان کا وکالت کا لائسنس چھین لیا جائے، انہیں عدالت سے باہر نکالا جائے۔ پہلے بھی انہوں نے لاہور میں ہسپتال پرحملہ کر کے مریضوں کے لئے آکسیجن ماسک تک نکال کر انہیں زندگی سے محروم کر دیا، توڑ پھوڑ سے ہسپتال کا نقصان الگ ہوا تھا، ان کوکڑی سزائیں ملنی چاہئیں، چیف جسٹس ایک بہت بڑا باوقار عہدہ ہے، اس کی یہ تذلیل ناقابل معافی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.