نیٹو نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کو مؤخر کردیا

248

امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت 30 ممالک پر مشتکل شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے یکم مئی تک تمام غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بارے میں اپنے فیصلے کو مؤخر کردیا ہے۔

تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ کی جانب سے ورچوئل نیوز کانفرنس میں اس فیصلے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل، امریکی صدر نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کو یقین دلایا کہ واشنگٹن کوئی حتمی فیصلہ لینے سے پہلے کابل سے مشورہ کرتا رہے گا۔

امریکا کے سیکریٹری خارجہ انٹونیو بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلیفون پر اسٹولٹن برگ کے اس بیان کے بعد کہا کہ فوجی اتحاد تب ہی افغانستان سے نکلے گا جب سیکیورٹی حالات اجازت دیں گے۔

انہوں نے نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع کی کانفرنس کے پہلے روز کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم صرف اس وقت وہاں سے نکلیں گے جب وقت صحیح ہوگا اور اب اس بات پر توجہ دی جارہی ہے کہ ہم کس طرح سے امن مذاکرات کی حمایت کرسکتے ہیں’۔

توقع کی جارہی تھی کہ ورچوئل کانفرنس میں یکم مئی کو واپسی کی آخری تاریخ پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا جو گزشتہ سال کے اوائل میں طے شدہ امریکا-طالبان معاہدے کے تحت طے ہوا تھا۔