اقوام متحدہ کے ماہرین کا مقبوضہ کشمیر میں مجوزہ بھارتی قوانین پر اظہار تشویش

254

اقوام متحدہ کے دو ماہرین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو سیاسی عمل سےدور کرنے والے قوانین متعارف کروانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کردیا۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے اقلیتی امور فرنانڈ ڈی ویرینس اور آزادی مذہب یا عقیدے کے نمائندہ خصوصی احمد شہید کی جانب سے دو درجن کے قریب ممالک کے سفارت کاروں کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے کے بعد بیان جاری کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ‘ریاست جموں وکشمیر کا قیام خصوصی خود مختاری کی ضمانت پر عمل میں آیا تھا جہاں ہر نسل، زبان اور مذہبی شناخت کا احترام کیا جائے گا اور یہ بھارت میں واحد ریاست تھی جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی’۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو بغیر کسی مشاورت کے خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اور مئی 2020 میں نام نہاد ڈومیسائل قانون متعارف کروایا گیا، جس سے مقبوضہ علاقے کو دیا گیا تحفظ ختم ہوگیا۔