نیٹو سربراہ کا افغان انخلا میں تاخیر کا اشارہ

230

برسلز: نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ وزرا دفاع کے تعیناتی کے حوالے سے بحث سے قبل اور ‘صحیح وقت آنے تک’ اتحاد فوجی انخلا نہیں کرے گا۔

صدر جو بائیڈن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر اقتدار چار سال کی کشیدگی کے بعد اتحادیوں کے ساتھ قریب سے کام کرنے کے عہد کے بعد نیٹو کے 30 ممبر ممالک کے وزرا بدھ اور جمعرات کو اعلی سطحی ملاقات کریں گے۔

ورچوئل کانفرنس کے ایجنڈے میں سرفہرست افغانستان میں اتحادیوں کے 9 ہزار 600 مضبوط سپورٹ مشن کی تقدیر ہوگی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی دستبرداری کے حوالے سے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔

اس تعیناتی کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا جو بائیڈن غیر ملکی افواج کو نکالنے کے لیے مئی کی آخری تاریخ پر قائم رہنے پر راضی ہوجاتے ہیں یا مزاحمت کاروں کے خونریز ردعمل کا خطرہ لیں گے۔

اسٹولٹن برگ نے میڈیا کانفرنس میں کہا کہ ‘اگرچہ کوئی اتحادی ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا ہے تاہم صحیح وقت آنے تک ہم انخلا نہیں کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزرا زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے اور پیشرفتوں پر بہت قریب سے نگرانی کریں گے’۔