چیف جسٹس اطہر من اللہ پر وکلاء کا حملہ، وکیلوں اور غنڈوں میں کوئی فرق نہیں رہا!!

34

پیر کے دن چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر وکیل غنڈوں نے حملہ کیا، ان کے کمرے کے شیشے توڑے گئے، ان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ان کو ان کے چیمبر میں بند کر دیا گیا، ان کی بات سننے سے وکیلوں نے انکار کر دیا، ان کو دھمکیاں دی گئیں، مسئلہ کیا تھا؟ بہت چھوٹا مسئلہ تھا، حکومتی نمائندوں نے F8مرکز میں واقع فٹ بال گرائونڈ میں وکیلوں کے قائم کردہ غیر قانونی دفتروں کو گرا دیا تھا۔ آج کل حکومت اپنی زمینوں کو خالی کروارہی ہے۔ اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول قائم ہے۔ جہاں جس کو موقع ملتا ہے وہ قبضہ کر لیتا ہے۔ حکومت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، سیاسی مصلحتیں سب کے اوپر حاوی ہو گئی ہیں نہ حکومت وکیلوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی ہمت کرتی ہے اور نہ قانون ،پولیس اور حکومتی ادارے اندھے بنے ہوئے ہیں جج حضرات بھی ان وکیلوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کراچی میں وکیلوں نے بینکنگ کورٹ کے ایک جج کی پیٹ اتارنے اور اس کو ننگا کرنے کی کوشش کی، اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر عام ہے۔ ایک خاتون جج کو وکیلوں نے تھپڑ مارا، فیصل آباد میں ایک جج کو کرسی کھینچ کر ماری گئی، چند ماہ پہلے اسلام آباد میں ایک اور جج کو بے عزت کیا گیا، لاہور میں PICپر حملہ کیا گیا، مریضوں کے آکسیجن ماسک کھینچ لئے گئے، کئی مریض جان بحق ہوگئے لیکن کوئی سزا دینے والا نہیں، مصلحت کے نام پر معاملہ رفع دفع کرادیاگیا کہ وکیلوں سے کون جھگڑا مول لے۔ مجھے افتخار چودھری کی وکلاء تحریک کے روح رواں اعتزاز احسن کی وہ بات نہیں بھولتی ہے کہ اس وکلاء تحریک نے دوباتوں کو جنم دیا، ایک بہت جرأت مند جج حضرات دوسرے قانون سے بالاتر وکیل، اب اگر جج حضرات بغیر کسی دبائو کے فیصلے دیں گے تو وکیلوں کی غنڈہ گردی کو بھی اب کنٹرول کرنا مشکل ہو گا اور وہی ہورہا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ بے بس ہو گئے ہیں کوئی بھی ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے، یہ قانون سے اوپر کی کوئی مخلوق ہو گئی ہیں جو چاہتے ہیں وہ کر گزرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں مارپیٹ دیتے ہیں لیکن قانون حرکت میں نہیں آتا ہے۔ جج حضرات ان بدمعاش وکیلوں کو کوئی سزا دینے سے ڈرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی ملزم کو کوئی فیصلہ اپنے حق میں کروانا ہوتاہے تووہ بدمعاش سے بدمعاش وکیل کو خرید لیتا ہے یا اس کے ساتھ معاملہ طے کر لیتا ہے پھر اس جج کی کیا مجال کہ اس ملزم کو کوئی سزا دے کیونکہ ایک بدمعاش وکیل اس کے سامنے کھڑا ہے۔
اس واقعہ میں وکیلوں کی بدمعاشی کھل کر سامنے آ گئی ہے ایک تو فٹ بال گرائونڈ پر غیر قانونی دفتر بنائے، دوسرے جب سیشن جج طاہر محمود صاحب نے تجاوزات گرانے کے حق میں فیصلہ دیا تو وکیلوں نے ان کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی۔ ان کو بھی گندی گندی گالیاں دی گئیں۔ جب جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلاء کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو بار روم میں بیٹھ کر مذاکرات کرنے کی دعوت دی تو ان کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی، ساتھ ساتھ وکیلوں نے مذاکرات سے پہلے کئی مطالبات رکھ دئیے، پہلے تو جو دفاتر گرائے گئے ہیں ان کی دوبارہ تعمیر کی جائے حکومت کی طرف سے متاثرہ ہر وکیل کو 5,5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کیا جائے۔ تیسرے انتظامیہ آئندہ کوئی بھی دفتر نہ گرانے کی یقین دہانی کرائے، غرضیکہ حکومت جو غیر قانونی تجاوزات کو گرا رہی ہے وہی غیر قانونی تجاوزات خود بنا کر وکیلوں کو دے اور پانچ پانچ لاکھ جرمانہ بھی ادا کرے سبحان اللہ، ماشا اللہ کیا اندھیر نگری مچی ہوئی ہے۔
شرم آنی چاہیے ان بدمعاش وکیلوں کو قانون کے محافظ بن کر بھی قانون توڑتے ہیں، جو دھمکیاں دیتے ہیں، مریضوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر بھی ان کو سزا نہیں ملتی ہے، حکومت بے بس ہے، قانون بے بس ہے، جج حضرات بے بس ہیں کیونکہ وہ وکیل ہیں، بدمعاشوں سے بڑھ کر ہیں، قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ شاید اس ملک کا بہت بڑا المیہ ہے، عمران خان کو اس کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے، کسی قیمت پر بھی وکیلوں کو معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسے وکلاء کو جیل بھیجنا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ ہو قانون کا احترام سب پر لازم ہے اور ملک میں قانون کی عملداری ہونی چاہیے ہر صورت میں کوئی بھی انسان یا گروپ قانون سے ماورا نہیں ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.