گلاس آدھا بھرا ہوا ہے یا آدھا خالی ہے؟

238

بھارت میں مودی سرکار بڑی پریشانی کا شکار ہے، اپنے ہی کرتوتوں کے ہاتھوں!
دنیا جانتی ہے کہ نریندر مودی کو بھارت کا نیتا، بلکہ آمرِ مطلق، بنانے والے بھارت کے وہ ارب پتی صنعتکار، امبانی جیسے، اور گجراتی مہاجن اور سرمایہ دار ہیں جنہیں اپنا کالا دھن کمانے اور غریبوںبھارتیوں کا مزید خون چوسنے کیلئے ایک ایسی کٹھ پتلی درکار تھی جو ان کے اشاروں پر ناچنے میں کبھی پس و پیش نہ کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بھارت کے جنونی ہندو انتہا پسندوں کی عصبیت اور فرقہ واریت کو بھی ہوا دے سکے۔ گجرات میں آج سے کوئی بیس برس پہلے مسلمانوں کا جو قتلِ عام ہوا تھا وہ مودی کی شہ اور سرپرستی میں ہوا تھا سو اپنے اس کالے ریکارڈ کو اپنے لئے سیاست کے زینے پر چڑھنے کیلئے وسیلہ بنا کر مودی جی ان سیٹھوں اور ساہوکاروں کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے اسی لئے انہیں بھارت کا وزیر اعظم یا ان کی بھاشا میں پردھان منتری بنوانے کا کام آسان ہوگیا تھا اور مودی نے بھی اپنے سرپرستوں کو آج تک مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے ہر وہ کام کرکے جس سے بھارتی مسلمانوں پر آنچ آتی ہو اپنے مالدار سرپرستوں کے دل جیت لئے اور ان کے اعتماد کو تقویت بخشی!
مودی جی اس غلط فہمی یا زعم میں مبتلا ہوگئے تھے، جو تعجب خیز یوں نہیں کہ بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا وسیلہ یا ہتھیار نہیں کہ وہ مودی کے ظلم و ستم کا قرار واقعی جواب دے سکیں، کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں اور بھارت کی اکثریت ان کو اس حد تک اپنا نیتا، بلکہ دیوتا، مان چکی ہے کہ ان کے کسی کام کی مخالفت کرنا تو کجا چوں بھی نہیں کرے گی!
لیکن نریندر مودی کے غبارے میں سے بھارتی پنجاب کے سکھ اور ہندو کسانوں نے ایسی ہوا نکالی ہے کہ مودی اور ان کے سرپرست اور پرستار سب ہی پچھتارہے ہیں اور سر کھجاکر یہ سوچ رہے ہیں کہ ان سے غلطی کہاں ہوئی!
یہ قانونِ قدرت ہے کہ جو بھی چھٹ بھیا اپنے کوتاہ قد سے بلند ہونے کی حماقت کرتا ہے اور اپنی کھال سے باہر ہوجاتا ہے اسے قدرت ذلیل اور خوار کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ مودی کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ ایک نیم خواندہ چائے بیچنے والا جب اس مسند پر فائز ہوا جو ایک زمانے میں پنڈت جواہر لعل نہرو جیسے زعیم کی تھی تو اس کے ظرف کا پیمانہ بہت جلد چھلکنے لگا۔ بھارتی مسلمان تو بیچارے کمزور اور ناتواں تھے وہ مودی کے ظلم اور زیادتیوں کا کیا جواب دیتے لیکن بھارتی پنجاب کے کسان بے بس اور ناتواں نہیں ہیں اور پھر وہ جانتے ہیں کہ ان کی زمین بھارت کے بھوکوں کیلئے اناج اُگاتی ہے جس سے غریبوں کا پیٹ بھرتا ہے لیکن مودی سرکار اس کیلئے احسان مند ہونا تو کجا وہ الٹا ان کے ہی پیٹ پر لات مارنا چاہتی ہے ان کے اُگائے ہوئے غلے کو مودی کے مہاجن سرپرستوں اور مالداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہتی ہے!
سو اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کسانوں نے بھارت کی راج دھانی دلّی کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے اور اس احتجاج کو اب دو ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مودی سرکار اپنے کالے قانون میں تبدیلی لانے کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ کسانوں کے احتجاج کو مفلوج کرنے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کررہی ہے جو آمرِ مطلق کمزوروں کی آواز دبانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔!
بھارتی کسان سراپا احتجاج ہیں کیونکہ وہ دیانت دار ہیں، محنت کش ہیں، محنت سے اپنی روزی کماتے ہیں اور پورے ملک کیلئے غلہ اُگاتے ہیں اور ایک ظالم حکومت کو وہ یہ اختیار دینے کیلئے آمادہ نہیں ہیں کہ وہ انہیں سرمایہ داروں کے غلام بنادے!
لیکن ہمارے وطن پاکستان کا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ وہاں ایک دیانت دار عمران حکومت ان چوروں اور ساہوکاروں کے خلاف برسرِ پیکار ہے جنہوں نے ملک و قوم کو بے رحمی سے لوٹا ہے، ملک کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا ہے اور اپنی تجوریاں بھری ہیں لیکن تف ہے اسی قوم کے دانشوروں اور چوروں کے ہمدردوں پر کہ وہ عمران کی اس صاف و شفاف مہم کی مخالفت میں اور چوروں کی حمایت میں اخلاقی زوال کی انتہا کو پار کرتے جارہے ہیں۔
اگلے مہینے، مارچ میں، پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا، یا سینٹ کے انتخابات ہیں۔ سینٹ کے اراکین کو صوبائی اسمبلیاں چنتی ہیں اور پاکستان کی تاریخ سے آشنا سب ہی جانتے ہیں کہ اس انتخاب میں سودے بازی ہوتی ہے اور سیاسی وفاداریاں نیلام کی جاتی ہیں۔ پیسہ اور سرمایہ راج کرتا ہے اور یہ اسلئے ممکن ہوتا ہے کہ ووٹنگ خفیہ ہوتی ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہی پیسہ ہے لہٰذا بولی لگانے والے ایمان خرید لیتے ہیں کیونکہ جہاں پیسہ ایمان ہو وہاں یہ سودا بہ آسانی ہوجاتا ہے۔
عمران اس کاروبار سے پاکستانی سیاسی عمل کو پاک کرنا چاہتا ہے خفیہ ووٹنگ کو صاف و شفاف ووٹنگ سے بدل کے تاکہ نہ ضمیر بیچنے کا رستہ کھلے نہ سرمایہ ضمیر کے ساتھ ساتھ ووٹ بھی خرید سکے! لیکن اس کی طہارت مہم کے خلاف صرف نواز لیگ اور زرداری کی پیپلز پارٹی کے رہنما اور گماشتے ہی صف آرا نہیں بلکہ بے ایمان میڈیا کے بہت سے ساہوکار اور مہاجن بھی ہیں کیونکہ وہ بھی مدت سے ان لفافوں کے محتاج اور اسیر ہیں جو نواز اور زرداری جیسے چور ان کے ضمیر خریدنے اور ان کے قلم کو اپنے حق میں استعمال کرنے کیلئے ان کی جھولی میں پھینکا کرتے ہیں۔!
بھارت کے دانشور اور دیانت دار صحافی کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں پیش پیش ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مودی سرکار نہ صرف کسانوں کو محتاج کرنا چاہ رہی ہے بلکہ اس کا ہدف بھارتی جمہوریت کے قلعہ پر نقب لگانا بھی ہے۔ یہ بھارتی دانشور جمہوریت کو لاحق خطرہ کو جانتے ہیں لہٰذا وہ مودی کی ابلیسی چالوں کو کند کرنے کیلئے اپنے قلم اور اپنی آواز کو استعمال کررہے ہیں۔ ان کا یہ اعتماد ابھی بحال ہے کہ بھارت میں جمہوریت کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ مودی کی شیطانیت اسے خالی کردے!
پاکستانی دانشور اور قلمکار، دیانت سے عاری اور ایمان سے محروم، عمران کی شفاف مہم کے خلاف یوں ہیں کہ ان کے خیال میں جمہوریت کا گلاس آدھا خالی ہے اور اسلئے خالی ہے کہ ان کو لفافے دینے والے اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے ضمیر خریدنے والے نواز اور زرداری اس جمہوریت کے ان داتا نہیں ہیں۔ سو عمران کی مہم میں روڑے اٹکانے والے ملا فضلو، مریم نواز اور بلاول زرداری کے حق میں اپنے قلم استعمال کرنے والے صحافی بھی اس مہم میں پیش پیش ہیں کہ عمران کی اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے کہ سینٹ میں ووٹنگ خفیہ نہیں بلکہ سب کے سامنے ہاتھ اٹھا کر ہوگی!
آئین میں ترمیم کیلئے عمران حکومت کو حزبِ اختلاف کے تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ ترمیم ایوان کی دوتہائی اکثریت سے ہوسکتی ہے لیکن جب حکومت نے یہ تحریک اسمبلی میں پیش کی تو نواز اور زرداری کے گماشتوں نے ہنگامہ کردیا۔ ان کا ہدف صاف ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا بے ایمانی کا کاروبار بند ہوجائے۔ سمجھ میں آنی والی بات ہے کہ جن کی زندگی مکر و فریب، جھوٹ اور ریاکاری کا کاروبارکرتے گذری ہو وہ کیسے یہ گورا کرسکتے ہیں کہ ان کی بے ایمانی کا راستہ مسدود ہوجائے۔ مودی بھارت کے محنت کش کسانوں کی حق حلال کی کمائی پر لات مار رہا ہے لیکن یہاں پاکستان کے پیشہ ور بے ایمانوں کو یہ ڈر ہے کہ عمران کی شفافیت کی مہم ان کے ابلیسی کاروبار کو ٹھپ کرنے پر تلی ہوئی ہے لہٰذا وہ اسے ناکام بنانے کیلئے کمر بستہ ہوگئے ہیں اور نہیں چاہتے کہ قوم ان کی بے ایمانی کی سیاست سے نجات پاسکے!
سو جب اسمبلی میں آئینی ترمیم کی مہم غنڈہ گردی اور ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگئی تو عمران حکومت کے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ صدارتی آرڈینینس کا استعمال کرے جو اس نے اختیار کرلیا۔
اس ضمن میں عمران کا حال بھی وہی ہے جو امریکہ کے نو منتخب صدر بائیڈن کا ہے۔ وہ بھی جو کام کرنا چاہتے ہیں اور ان کا جو ایجنڈا ہے اس میں تاخیر کیلئے گنجائش نہیں ہے۔ کانگریس کے ریپبلکن اراکین ان کے راستے میں رکاوٹ ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ بائیڈن کے پیشرو ٹرمپ کی بدعادت بدل دی جائیں سو بائیڈن صاحب اپنا کام صدارتی احکامات سے چلا رہے ہیں۔ صدارتی احکام عمران کی بھی مجبوری بن گئے ہیں اگرچہ ان کی حکومت نے اس عنوان سے آئینی ترمیم کی ضرورت پر پاکستان کی عدالتِ عالیہ سے بھی رجوع کیا ہے لیکن عدالتی نظام کا پہیہ سست رفتار ہے اور عمران حکومت کے پاس انتظار کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا صدارتی آرڈیننس اس کی ضرورت ہے ترجیح نہیں ہے!
وہ چاہے عمران کی حکومت ہو چاہے صدر بائیڈن ہوں یا چاہے بھارت کے جمہور نواز ہوں سب کا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ جمہوریت کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہے اور اسے خالی ہونے سے بچانا ضروری ہے جبکہ، اس کے برعکس، مودی جیسے زہریلے رہنما اس گلاس کو خالی کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہ وہ قدر مشترک ہے جسمیں پاکستان کے بے ایمان سیاستداں اور ان کے گماشتے مودی جیسے گندم نما جو فروشوں سے سرِ مو بھی مختلف نہیں ہیں۔ اب پاکستان کی سینٹ کے آنے والے انتخابات اس کا فیصلہ کرینگے کہ پاکستانی سیاست کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہے یا آدھا خالی ہے!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ