جمہوریت نہیں۔ غریب کو روٹی!!

271

لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات ہوتے ہیں، لوگوں نے پاکستان کی تاریخ میں بھی یہ درج کر دیا، پاکستان سے باہر جو تاریخ لکھی گئی اس میں بھی اس لفظ کا استعمال ہوا ہے، کیا یہ سچ ہے اگر اس کو سچ مان بھی لیا جائے تو بھی میرے خیال میں مسئلہ DEBATEABLEرہتا ہے، فلسفے میں ہر بات CAUSEاور EFFECTکی بنیاد پر پرکھی جاتی ہے، اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ کھانا پک رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانا پکانے کا سامان موجود ہے، چولہا بھی ہو گا اور کھانا پکانے والا بھی، ورنہ کھانا نہیں پک سکے گا، جب یہ کہا جاتا ہے کہ انتخابات ہوئے تو اس کا مطلب یہ لیا جائیگا کہ ملک میں جمہوریت ہو گی، صرف جمہوریت میں ہی انتخابات ہوتے ہیں اور کسی نظامِ حکومت میں اس کی گنجائش نہیں ہے، اسلام میں جمہوریت یا اسلامی جمہوریت ایک ڈھکوسلہ ہے، مغربی جمہوریت پر اللہ اکبر لکھ کر لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریت ہے اور اس طرح اہلِ محراب کو سیاست میں سر گھسانے کا موقع مل جاتا ہے، تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ انتخابات ہوتے ہیں تو یقین کر لیا جاتا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے، ایوب خان نے مارشل لاء لگایا، پھر آئین بنایا اور پھر انتخابات کرائے، یہ الگ بحث ہے انہوں نے کس طرح کنونشن مسلم لیگ بنائی اور اس پر بھی بات کرنے کی گنجائش ہے کہ انہوں نے آئین کو کیسے بنایا اور صدارتی طرزِ نظام کیوں پسند کیا، بہرحال طریقہ وہی تھا جو مغرب میں اپنایا گیا، اس میں کوئی خرابی نہ تھی مگر نیت میں خرابی تھی، اسی لئے ایوب خان کو تاحیات صدر بنانے کی بات بھی کی گئی، کچھ مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ملکی سیاست اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ ایک نظام کو چلنے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار تھا مگر یہ سچ ہے کہ بدنیتی واضح ہوچکی تھی، آئین کی ضرورت اس لئے بھی پڑتی ہے کہ بدنیتی کو روکا جا سکے، بہرحال یہ ایک فوجی انتظام تھا نہ آئین اور نہ جمہوریت کی بنیاد، اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ صدارتی نظام نیک نیتی سے چلنے دیا جاتا تو اس کے بہتر نتائج نکل سکتے تھے، بہر حال ایوب خان پر آمریت کا داغ لگا اور وہ معتوب ہوئے، اور ۱۹۶۶ تک جمہوریت ڈھونڈے بھی نہ مل سکی، بھٹو نے مژدہ سنایا کہ وہ جمہوریت لے کر آئیں گے۔ انہوں نے بھی آئین بنا ڈالا، وہ شخص جو سوشلزم کا نعرہ لے کر آیا اس نے قوم کو وہ آئین دیا جس میں لکھا گیا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اور پارلیمنٹ ایسا کوئی قانون منظور نہ کر سکے گی جو قرآن و سنت کے منافی ہو اور اہل، محراب کو خوش کرنے کے لئے موصوف احمدیوں کو کافر قرار دے کر چلے گئے اور اس وقت سولہ کروڑ کے ملک میں کسی نے نہیں پوچھا کہ یہ اسلامی سوشلزم کیا ہوتا ہے اور آئین مذہب کی تولیت میں کیسے چلا گیا؟ یہ آئین ،فکری اور نظریاتی طور پر تضادات سے بھرا ہوا ہے، اور قوم کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والا آئین خود ایک طبقے کے ساتھ DISCRIMINATE کرے، بھٹو جمہوریت کے چمپئن بنے مگر بنا نہ گیا اور ملک جمہوریت سے شناسا ہو ہی نہ سکا۔
بھٹو کے بعد آئین بھی رہا اور اس میں قراردادِ مقاصد بھی نتھی کر دی گئی مگر یہ بھی کہا گیا کہ آئین کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے سو اس کو خوب خوب روندا گیا، اور قوم نے یہ بھی دیکھا کہ اس کاغذ کے ٹکڑے پر اہلِ منبر و محراب نے غسلِ جنابت بھی کیا اور اس آئین سے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لفظ مٹ گئے، تب سے آئین، نظام اور جمہوریت مذاق بن گئے ہیں ملک 1274خاندان بری طرح بھنبھوڑ رہے ہیں اور قوم کا روز مذاق اڑایا جاتا ہے، بہت سے گماشتے اور دلال ہیں جو تماشا دکھاتے ہیں اور یہ تماشہ اسلام اور ریاستِ مدینہ کے نام پر بھی ہوتا ہے، بڑا دھوکہ ہے کہ اسلام میں جمہوریت ہے اسلامی تاریخ میں کبھی جمہوریت نہیں یک شخصی حکومت رہی ہے اور ریاست مدینہ بھی کبھی نہیں رہی، بھٹو کی طرح عمران بھی قوم کوبہت بڑا دھوکہ دے رہے ہیں۔
کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ لوگوں سے سوال پوچھوں کہ یہ جو میڈیا کے ٹاک شوز میں ’’سیاسی اکابرین‘‘ آئے ہوئے ہوتے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جن کے دامن پر کوئی داغ نہیں، کوئی الزام نہیں، بدنامی کا دھبہ نہیں، اقتدار میں نہیں رہے موقع نہیں ملا، ان لوگوں کے پاس کیا EXPERTISEتھیں یا اب مل گئی ہیں جو ان سے مسائل کا حل پوچھا جاتا ہے، کیا میڈیا کی کوشش ہے کہ ان کو عوام یاد رکھیں، بھولیں نہیں اور کیا ان میں کوئی عظیم ہستی ہے جس کو آپ سے محبت سے اپنے ڈرائنگ روم میں عزت کے ساتھ مدعو کر سکیں، اگر ایسی شخصیت کوئی نہیں تو سوچیئے یہ کون لوگ ہیں اور وہ کون ہیں جنہوں نے قوم پر یہ لوگ مسلط کئے ہیں، یہ بات تو ہے کہ اس کارِ خیر میں فوج نے بہت بڑا حصہ ڈالا ہے، DG ISPRاگر ٹی وی پر آکر یہ کہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو یہ آنکھوں میں مرچیں جھونکے کے مترادف ہو گا، ایسا ہر گز نہیں کہ اپوزیشن جو کچھ کہہ رہی ہے وہ سب غلط ہے بہت کچھ غلط ہے مگر سب غلط نہیں، بہت کچھ درست بھی ہے، اصولی طور پر یہ درست ہے کہ فوج ماتحت ادارہ ہی ہوتی ہے مگر اس وقت تو ملک میں UNANNOUNCED MARSHAL LAWتو ہے اور کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ JUDICIAL MARSHAL LAWکی صورت ختیار کر لیتا ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک عام آدمی کی روٹی کی پلیٹ میں حکومت کا بوٹ اور سالن کی پلیٹ میں اپوزیشن کا بوٹ اور فوج یہ تماشا دیکھ رہی ہے، بس اتنی درخواست ہے کہ غریب کی پلیٹ سے یہ بوٹ نکلوا دیں، غریب کے نوالے نہ چھینیں، جمہوریت، نظام اور آئین کی پاسداری میں تو کئی عشرے لگ جائیں گے شائد، یہ POWER STRUGGLEہر تین چار سال کے بعد ہوتا ہے، کوئی نئی بات تو ہے نہیں سو غریب کی روٹی کا انتظام کر دیجئے۔