امن مذاکرات کا نیا مرحلہ!

229

چار فروری کے دن امریکی محکمہ خارجہ میںصدر جو بائیڈن نے پریس بریفنگ میں چین‘ روس‘ سعودی عرب اور میانمار کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کیادو بڑی عالمی طاقتوں کے بارے میں نئے صدر گاجر اور چھڑی کی سیاست پرعمل پیرا ہوتے نظر آرہے ہیں البتہ سعودی عرب کو انہوں نے واضح طور پر یمن جنگ ختم کرنیکا مشورہ دیا ہے انکے لب و لہجے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ جنگ ختم نہ کی گئی تو ریاض کی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا میانمار کی فوجی حکومت کو جمہوریت بحال کرنیکی جو تنبیہ کی گئی ہے اسپر عمل ہوتا اسلئے نظر نہیں آرہا کہ نئے سپریم لیڈر جنرل ہلا ینگ کو چین اور روس کی مکمل حمایت حاصل ہے صدر بائیڈن کے اس بیان کی جو رپورٹ میں نے پڑھی ہے اس میں افغان امن مذاکرات کا کوئی ذکر نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امریکی صحافیوں نے خارجہ پالیسی کے اتنے اہم مسئلے پر کو ئی سوال نہ پوچھا ہو یہ پریس بریفنگ اس تحریر سے چند گھنٹے پہلے دی گئی تھی اسلئے ہو سکتا ہے کہ اسکی مکمل رپورٹ پانچ فروری کے اخبارات میں شائع ہو جائے اب تک کی اطلاعات کے مطابق نئے صدر دوحا مذاکرات کو جاری رکھنے کے حق میں نظر نہیںآرہے تین فروری کو دونوں بڑی جماعتوں کی قائم کردہ کانگرس کمیٹی جسکا نام افغان سٹڈی گروپ ہے کی رپورٹ شائع ہوئی اسمیں کہا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو افغانستان سے فوج کی واپسی کے عمل کواسلئے روک دینا چاہئے کہ وہاں سیکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے ان حالات میں اگر باقیماندہ2500 امریکی فوجی بھی واپس بلا لئے گئے تو افغانستان میں ایک نئی خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروری 2020 کے امریکہ طالبان معاہدے کے مطابق یکم مئی تک امریکی افواج کے مکمل انخلا کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اسکے ساتھ ہی امن مذاکرات بھی جاری رہتے ہوے نظر نہیں آ رہے سٹڈی گروپ کی رپورٹ میں بائیڈن حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کو اہمیت دینے کی بجائے یہ دیکھا جائے کہ طالبان نے کس حد تک امن معاہدے پر عمل کرتے ہوے تشدد میں کمی کی ہے نظر یہی آرہا ہے کہ کانگرس کی Bi Partisan کمیٹی طالبان سے تشدد میں کمی کا وہ مطالبہ منوانا چاہتی ہے جو اس نے پچھلے ایک سال میں نہیں مانااب دیکھنا یہ ہے کہ صدر بائیدن اس مشورے پر من وعن عمل کرتے ہیں یا وہ طالبان کیساتھ بھی گاجر اور چھڑی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں ہر دو صورتوں میں دوحا مذاکرات جاری رہتے ہوے نظر نہیں آ رہے کانگرس کمیٹی کیونکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے فارن پالیسی ماہرین پر مشتمل تھی اسلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد کی صورتحال پر غورو خوض نہ کیا ہو گا رپورٹ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کانگرس کمیٹی نے طالبان کے عدم تعاون کی صورت میں نہ صرف جنگ جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ دو ہزار مزید امریکی فوجی بھی افغانستان بھیج دئے جائیںاس رپورٹ میں پاکستان کا نام لئے بغیر یہ کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو اپنا کردار ادا کرتے ہوے طالبان کو تشدد میں کمی پر آمادہ کرنا چاہئے
پاکستان کیساتھ بائیڈن انتظامیہ کے تعلقات کے بارے میں بھی اچھی خبریں نہیں آرہیں گذشتہ ہفتے نئے سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کیساتھ اپنی پہلی گفتگو کا آغاز امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے مقدمے کے بارے میں گفتگو سے کیا،اخبارات کے مطابق انٹونی بلنکن ڈینئیل پرل کے مبینہ قاتل احمد عمر شیخ کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رہائی کے حق میں نہیں ہیں اس معاملے میں امریکہ کا مئوقف یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں استغاثہ مضبوط گواہ پیش کرنے اور معقول دلائل دینے کی بجائے کمزور موقف اختیار کرتا ہے جسکی وجہ سے دہشت گرد رہا کر دئے جاتے ہیں افغان مذاکرات کے بارے میں سیکرٹری آف سٹیٹ نے اپنے ہم منصب سے یہ کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں کیا کیا جانا چاہئیے کانگرس کمیٹی کی رپورٹ اور انٹونی بلنکن کی گفتگو کے تناظر میں امریکہ پاکستان سے ایک مرتبہ پھر ڈو مور کا تقاضا کرتے ہوے نظر آ رہا ہے ڈینیئل پرل کا مقدمہ آجکل دونوں ممالک کے میڈیا کی راڈار سکرین پر نمایاں طور پر موجود ہے امریکی اخبارات اس حوالے سے پاکستان کے FATF یا فائنشل ایکشن ٹاسک فورس کو جوابدہ ہونیکا ذکر بھی کر رہے ہیں اسکا مطلب یہی ہے کہ اس ادارے سے پاکستان کو کسی نرمی کی امید نہیں کرنا چاہئے امریکی میڈیا نے جس شدت کیساتھ ڈینیئل پرل کے مقدمے کو ایک مرتبہ پھر اٹھایا ہے وہ خاصا توجہ طلب ہے انیس برس پہلے کراچی میں قتل ہونیوالے وال سٹریٹ جنرل کے ممتاز صحافی کے بارے میں آجکل نہ صرف با تصویر خبریں شائع ہو رہی ہیں بلکہ نیو یارک ٹائمز‘ وال سٹریٹ جنرل اور واشنگٹن پوسٹ نے اس موضوع پر طویل اداریے بھی لکھے ہیں ان میں سے دو اخبارات ایسے ہیں جنہوں نے چار سال تک مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کی اور بلا آخر اسے صدارت سے سبکدوش کرکے ہی دم لیا
یہ اخبارات اور کانگرس کمیٹی اگر امریکہ کی ناتمام جنگ کو نا تمام ہی رکھنا چاہتے ہیں تو فی الحال انکے راستے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی بائیڈن انتظامیہ بھی امن مذاکرات کے معاملے میں طاقت کے ان دو ستونوں سے متفق نظر آتی ہے براک اوباما کی سیکرٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن اور انکے ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن آٹھ برس پہلے بھی پاکستان کے بارے میں معاندانہ رویہ رکھتے تھے اب اگر جو بائیڈن ڈو مور کی اس ناقص اور از کار رفتہ پالیسی کو جاری رکھنا چاہتے ہیںتو اسکے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ بائیڈن حکومت جنوبی ایشیا کو ایک مرتبہ پھر امن کی طرف بڑھنے کی بجائے ایک طویل جنگ میں الجھا کر عدم استحکام کے اضطراب میں مبتلا کرنا چاہتی ہے نظر یہی آ رہا ہے کہ بائیدن کی ٹیم پاکستان کیساتھ پرانے حساب کتاب بیباک کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے لیکن اس نا عاقبت اندیش پالیسی کی اپنی ایک قیمت ہو گی امریکہ کی طویل ترین نا تمام جنگ اگر اگلے دو سال بھی جاری رہتی ہے تو 2022 میں کانگرس کے انتخابات میں امریکی عوام ڈیمو کریٹک پارٹی کا وہی حشر کریں گے جو اسنے باراک اوباما کی حکومت کیساتھ 2010 میں کیا تھا ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان کی اڑتیس سیٹیں ہار کر اقلیتی جماعت بن گئی تھی
کانگرس کمیٹی کی رپورٹ کے مصنفین نے اعتراف کیا ہے کہ یکم مئی کو مکمل انخلا نہ ہونیکی صورت میں طالبان نیٹو افواج پر ایک مرتبہ پھر حملے شروع کر دیں گے اس صورتحال کے تدارک کیلئے یہ تجویز دی گئی ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کو متنازعہ معاملات طے کرنے کیلئے مزید وقت دیا جائے طالبان پہلے ہی یکم مئی کے بعد جارحانہ رویہ اختیار کرنیکا عندیہ دے چکے ہیں ان حالات میں امن مذاکرات کا اگلا پڑائو دوحا کی بجائے افغانستان کا دہکتا ہوا میدان جنگ نظر آرہا ہے۔