پاکستان میں کرپشن کے سہولت کار

377

دور جدید کی ریاست کے تین ستون ہیں: عدلیہ۔ مقننہ اور انتظامیہ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میںیہ تینوں ستون بد عنوانیت کی دیمک سے کھوکھلے ہو رہے ہیں۔ ہمارا آج کا موضوع عدلیہ میں کرپشن پر ہے۔ یہ موضوع بنانے کی جسارت اس خبر نے دی کہ بین الاقوامی ادارہ شفافیت(Transparency International) کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق کورپشن کے انڈکس پر پاکستان کا سکور 31تھا جو گذشتہ سال کے مقابلے میں ایک نمبر کم ہو گیا تھا۔ دنیا کے180ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر124واں تھا جو گذشتہ سال کے مقابلے میں4 درجہ بڑھ چکا تھا۔سکور کا کم ہونا بھی رشوت کے بڑھنے کی نشانی تھی۔ایک اور خبر کے مطابق، پاکستان کی عدلیہ کا ایک عالمی جائزہ میں128 ممالک کی فہرست میں 120واں نمبر تھا، جب کہ پاکستانی افواج کا نمبر اوپر کے دس ملکوں میں شامل تھا۔جہاں افواج کے بارے میں خبر خوش آئند ہے، عدلیہ کے بارے کی خبر پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
بین الاقوامی شفافیت کا ادارہ 2012سے ہر سال ایسی رپورٹ نکالتا ہے جو مختف جائزوں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہوتی ہے۔ اسے وہ کرپشن کے تاثر کا انڈکس کہتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ اس کے اعداو شمار ماہرین اور تاجروں کے تاثرات سے مرتب کیے جاتے ہیں۔ اس میں جو اعدادو شمار شامل نہیں ہوتے وہ ٹیکس فراڈ، غیر قانونی ترسیل زر، کرپشن کے سہولت کار، منی لانڈرنگ اور نجی شعبہ کی کرپشن سے متعلق ہیں۔گذشتہ سالوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان 2012 سے 2020 تک کم و بیش فہرست میں اپنی حیثیت بر قرار رکھے ہوا ہے، یعنی راشی ممالک میں سب سے اوپر نہیں قریب قریب ضرور ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش کے اعداو شمار زیادہ کرپشن دکھاتے ہیں اور بھارت میں نسبتاً کم۔
گذشتہ سال مجھے پاکستان جا کر یہ اندازہ ہوا کہ نظام رشوت نہ صرف رواں دواں ہے، بلکہ رشوت کے ریٹ کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ پٹواری جہاں نواز کی حکومت میں دس پندرہ ہزار میں فرد دے دیتا تھا، اب لاکھوں مانگتا ہے خصوصاً اگر نادرا کارڈ میں کوئی غلطی ہو گئی ہو۔اگر آپ جلدی میں ہیں، اور آپ کے پاس اتنا وقت نہیں کہ مہینوں اپنے کاغذات درست کرواتے پھریں تو وہ لاکھ دو لاکھ چپ کرکے پکڑا دیں۔ پٹواری حضرات ، بلکہ انکے نائب آپ کے گھر آ کر رقم وصول کر لیتے ہیں۔ اس میں بھی ان کی کوئی حکمت ہو گی؟ خیر پٹوریوں کا لین دین تو پرانی کہانی ہے ، مجھے تو سب سے زیادہ حیرت ایف بی آر کے دفتر (لاہور کی پرانی انارکلی) جا کر ہوئی۔ معاملہ صرف اتنا تھا کہ میری عزیزہ نے موروثی جائداد فروخت کرنی تھی، اور بینک اکائنٹ کھولنا تھا جس کے لیے کہا گیا کہ ایف بی آر سے ٹیکس فائلر کا نمبر لائیں۔ ہم سب کاغذات لیکر پہنچے لیکن نمبر نہیں ملا۔ دوستوں نے بتایا کہ بھائی نمبر لینا ہے تو وکیل کرنا پڑے گا جو آٹھ دس ہزار لے گا اور کام ہو جائے گا۔اب سمجھ آئی کہ وکیل صاحب خود ساری رقم نہیں رکھیں گے، اس سے متعلقہ افسران اور عملہ کو بھی باننٹیں گے قطعہ نظر اس سے کہ ٹیکس فائل کرنے کے لیے بھی پہلے رشو ت دیں اور پھر ٹیکس فائل کریں، ایک درد ناک حقیقت آشکار ہوئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ یہ حقیقت بھی کہ کس طرح وکلا ء برادری کیس بھگتانے کے لیے، دفاتر اور عدالتوں میں رشوت کا وسیلہ بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی عدالتیں، کم از کم چھوٹے درجہ کی، جیسے مجسٹرٹ، سول جج اور سیشن جج کی سطح تک ، رشوت اپنے منشی، کلرک، وغیرہ کے ذریعہ لیتے تھے۔ لیکن ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہاں بھی رشوت چلتی ہو گی؟ شاید ابھی بھی کچھ ججز ہوں گے جو انصاف کا ترازو جھکنے نہیں دیتے ہوںگے۔ لیکن جب سے نون لیگ کی حکومت آئی اور عوام نے دیکھا کہ لاہور ہائی کورٹ ، ہفتہ اور اتوار کے دن بھی عدالت سجا کر سیاستدانوں کو ضمانتیں دے رہی ہے تو لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ پھر لوگوں نے میڈیا پر ایک جج صاحب کی سیاستدان کے ساتھ گفتگو بھی سنی جس میں وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ ایک سیاسی ملزمہ کو کتنی سزا دینی ہے؟ پھر ایسا لگا کے پورے ملک کی عدالتیں سیاستدانوں اور دکلاء برادری کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہی ہیں۔ ہائیں؟ وکلا برادری؟ بار کونسلیں؟ کیا یہ سب اس گھنائونے کاروبار میں ملوث ہیں؟ نہیں۔۔۔کچھ تو وکیل اور جج ایسے ہونگے جو اس مکروہ کھیل میں ملوث نہیں ہوں گے؟ ہمارے پاس کیا ثبوت ہے؟
ایک لحظہ کے لیے، ایک خبر ملاحظہ ہو: سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کے امراض قلب کے ہسپتال پر سینکڑوں وکلاء نے حملہ کر دیا جو گھنٹوں جاری رہا۔ اس حملہ میں ڈاکٹروں، گارڈز، اور عملہ کو زد و کوب کیا گیا، تین مریض ، جن میں ایک عمر رسیدہ خاتون بھی تھی، معالج کے نہ ہونے سے،ہلاک ہو گئے، کئی گاڑیاں جلا کر خاکستر کر دی گئیں۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا، یہ واضح نہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ گذشتہ ماہ ڈاکٹروں اور کچھ وکلاء میں تنازعہ ہوا تھا جس کی وڈیو نصب شدہ کیمرے پر بن گئی تھی۔وکلاء کو غصہ تھا کہ ڈاکٹروں نے فون پر بنی ہوئی وڈیوسوشل میڈیا پر نشر کیوں کی؟اس وڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ ڈاکٹروں نے ایک وکیل صاحب کو اس لیے مارا پیٹا کہ وہ قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے۔پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہا کہ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ حملہ آوروں نے ایک لمحہ کے لیے بھی توقف نہیں کیا کہ سوچتے وہ کیا کر رہے ہیں۔وہ اتنے غضبناک اور طیش میں تھے کہ عقل ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔لاٹھیوں سے لیس، کالے کوٹوں والوں نے ہسپتال کی املاک کو نقصان پہنچایا، کارکنوں کو زد و کوب کیا اور دروازے توڑ ڈالے۔دوگھنٹے کے بعد پولیس تشریف لائی،جس نے پانی کی تیز بوچھاڑ سے مظاہرین کو منتشر کیا ۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کالے کوٹوں والے پنجاب ہائی کورٹ پر عدالت میں گھس کر جج پر حملہ اور فرنیچر توڑ چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھی وکلاء گردی کی گئی، اور کئی جگہ۔ لیکن کیا کبھی کسی وکیل کو سزا ملی؟ کوئی اطلاع نہیں۔ وہ اس لیے کہ وکلاکے پاس ہر جج کے رشوت لینے کے ثبوت ہوتے ہیں کہ کوئی جج انہیں سزا نہیں سنا سکتا۔
جب حکومت نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا (یعنی ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام لگایا ) تو پاکستان بار کونسل نے سخت احتجاج کیا۔ تعجب ہے، یہ کیوں؟ اسی لیے کہ بھائی بندی کا معاملہ تھا۔پہلے تو معاملہ کو خوب لٹکایا گیا اور آخر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ قاضی صاحب کے خلاف ریفرنس داخل دفتر کر دیا گیا۔
12 اگست 2019 کی ایک خبر کے مطابق، انڈیا کے چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے مرکزی تحقیقاتی بیورو کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ الہٰ باد ہائی کورٹ کے جج ایس این شکلا کے خلاف ایف آئی آر کاٹے۔اس حکم سے پہلے چیف جسٹس نے وزیر اعظم مودی کو ایک خط میں کہا تھا کہ جسٹس شکلا کی برطرفی کی کاروائی شروع کی جائے۔ ان جج صاحب پر الزام تھا کہ انہوں نے لکھنئو کے ایک میڈیکل کالج میں بغیرخلاف قاعدہ طلباء کے داخلے کروائے تھے۔ اس مقدمہ کی پیروی میں کہا گیا کہ شکلا نے ـ’’عدلیہ کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکا لگایا اور اس طرح عدالت کے وقار ، عزت اور اعتماد کے منافی کام کیا۔‘‘ یہ کام عدلیہ میں کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک انگریز سیاست کے عالم ہیرلڈ لاسکی نے کہا تھا: ’’منصفوں کی مکمل غیر طرفداری پر ذرہ سے بھی شک سے زیادہ کوئی تباہ کن چیز نہیں۔‘‘ اس لیے عدلیہ پر اعتماد کے فقدان کا مطلب معاشرے کی موت ہے۔اسی خبر میں کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا کام یا انسانی فعل جو عدل کی کوالٹی میں دخل اندازی کرے ایک فکر کا مقام ہے۔ ہمارے ہاں عدلیہ کے اندر یا باہر بے ضابطگیوں اور اونچ نیچ پر کوئی جامع قوانین نہیں ہیں۔لیکن ججوں کے لیے ضوابط جو بنگلور کے رسمی اجلاس میں بنائے گئے تھے، انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ۔اور نومبر 2002میں ہیگ میں ہونے والی مختلف دائرہ اختیار سے آئے ہوئے چیف جسٹس کی گول میز کانفرنس میں ان کی توثیق کر دی گئی تھی۔یہ طریق کار، آزادی، غیر جانبداری، اخلاقی بلندی، معقولیت، برابری کا احساس، اہلیت اور جانفشانی، انصاف کی بنیادی اقدار کا مظہر ہے۔ لیکن کاغذوں پر کیا لکھا ہے اور زمینی حقائق دو متضاد حقیقتیں ہیں۔اور بدنام زمانہ پیٹی بھائیوں کے نظام نے ایسا طریق کار بنا دیا ہے، کہ جس میں جج ہی ججوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس میں ان کے اپنے بنائے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے ہوں، کوئی ضابطہ کی کاروائی نہ ہو، اور ان کی بنیاد پر اسرارخواہشات پر رکھی ہو۔ اس رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ ایک غیر آئینی ضابطہ اخلاق کافی نہیں ہے۔اس کے لیے ایک مربوط قانون سازی کی ضرورت ہے جو عدلیہ کی جوابدہی کو یقینی بنائے ۔ اور ججوں کا انتخاب بھی ایک با قاعدہ رسمی طریق کار سے ہو جس میں برابری اور شفافیت سے جج منتخب ہوں، ویسے ہی جیسے ترقی یافتہ جمہوریتوں میںآزاد کمیشن یہ فرض انجام دیتے ہیں۔
اس نظام کی بہتری میں، میڈیا اور وکلاء کی بار ذمہ وارانہ رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔لیکن وکالت کا یہ شعبہ اس قدر درجہ بند ی میں بندھ چکا ہے، کہ یہ اپنی مساوات پسندی اور خود تنقیدی کے احساسات سے عاری ہو چکا ہے۔یہ گروہ اصلاح نہیں چاہتا، کیونکہ اصلاح کا رستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔کامیاب وکلاء اپنے گرد ایک مصنوعی اور غیر مرئی ہالہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی تعجب نہیں کہ اصلاحی تحریکیں نظام انصاف سے تیزی کے ساتھ عنقا ہوتی جا رہی ہیں۔ (رپورٹ از کالیسوارام راج، وکیل سپریم کورٹ ،ا نڈیا)
ضمناً خواتین وکلاء کا بھی ذکر کر دیا جائے جنہیں مرد حضرات طنزیہ Sisters in-law یعنی سالیاں کہتے ہیں۔سن 2015 کی ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اگر چہ ہر سال کافی عورتیں وکالت کا امتحان پاس کرتی ہیں، ان میں سے چند ہی پیشہ میں داخل ہوتی ہیں۔ اس وقت صرف چھ خواتین جج تھیں اور ان میں ایک بھی سپریم کورٹ میں نہیں۔یاد رہے کہ وکلاء گردی میں خواتین وکلاء کسی سے پیچھے نہیں ہوتیں۔سسٹم خواتین وکیلوں کو ناکوں چنے چبواتا ہے۔بجائے عدالتوں میں مقدموں کی پیروی کے ان کو دفتری کاموں پر لگایا جاتا ہے۔ مرد اور عورت وکلاء میں امتیازی سلوک عام ہے۔در حقیقت، پاکستانی معاشرہ جس طرح سے عورتوں سے سلوک کرتا ہے وہی سلوک ان عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے جو خواہ وکیل بن جائیں، یا ڈاکٹر، یا انجینئریا کوئی بھی با عزت پیشہ اختیار کرنا چاہیں۔
عمران خان کی کرپشن کے خلاف جنگ کے سامنے مشکلات کے بلند پہاڑ کھڑے ہیں۔ وکلاء کا معاملہ زیادہ ہی ٹیڑھا ہے۔ اس کو نہایت چابکدستی کے ساتھ قانون سازی کے ذریعے قابو میں لانا پڑے گا۔ جب تک کہ ایسا ہو، حکومت string operations سے راشی وکلاء اور منصفوں کو پکڑ کر سزائیں تو دلوا سکتی ہے۔ اگرچہ کیس سننے والے بھی وہی اور سزائیں دینے والے بھی وہی۔ اگر ثبوت مضبوط ہوں تو شاید کام بن جائے۔ اور کچھ نہیں تو شاید وکلاء جنہیں اپنی عزت اور ناموس کا لحاظ ہے، وہی باز آ جائیں؟