امریکنز کی دماغ خرابی!!

235

کچھ دن پہلے امریکہ کے ایسٹ کوسٹ میں بہت زیادہ برفباری کی خبر تھی جو کہ بعد میں ہوئی بھی اور کوئی بیس انچ سے زیادہ برف پڑی، ایسٹ کوسٹ نیویارک، نیو جرسی، پنسلوانیا اور ورجینیا وغیرہ پر مشتمل ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں عام طور پر برف گرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے، اسی لئے جب وہاں کے لئے پیش گوئی کی جاتی ہے کہ ’’بہت زیادہ‘‘ برف گرے گی تو واقعی اس کے معنی ہوتے ہیں اتنی برف گرتی ہے کہ اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان سٹیٹ کے گورنرز نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ بلا ضرورت کوئی بھی گھروں سے نہ نکلے۔ ہر سال جب برف پڑتی ہے تو کئی حادثوں کا سبب بن جاتی ہے۔ کبھی کوئی سٹرک پر پھسل جاتا ہے، کبھی کوئی گاڑی الٹ جاتی ہے تو کبھی برف صاف کرتے کرتے دل کی دھڑکن تیز ہو جانے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ برف باری کے بعد ایسی خبریں عام ہوتی ہیں لیکن برفباری کے بعد پنسلوانیا سے ایک عجیب و غریب خبر آئی ایسی خبر جو غالباً اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی اور وہ تھی ایک جھگڑے کی خبر جی ہاں برف ہٹانے پر دو پڑوسیوں کے درمیان تو تو میں میں ہوئی جس کے نتیجے میں تین انسانی جانیں ختم ہو گئیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ Jaffery Spaideنامی شخص کا اپنے سامنے والے گھر میں رہنے والے جوڑے James Goyاور بیوی Lisa Goyسے اکثر جھگڑا رہتا کبھی کار پارک پر تو کبھی تیز میوزک بجانے پر وقوعہ کے روزجمیس اور اس کی بیوی صبح 8.40پر اپنے گھر کے سامنے پڑی برف ہٹارہے تھے، جیفری ان کا پڑوسی اپنے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا کہ یہ برف اس کے گھر کے سامنے ڈھیر کررہے ہیں۔ جیفری کو تو ان پر پہلے ہی سے غصہ تھا کیونکہ ان لوگوں کی کئی بار مختلف باتوں پر کھٹ پٹ ہوتی رہتی تھی۔ جیفری غصے میں باہر نکلا اور ان میاں بیوی کو باتیں سنانے لگا، باتیں سنا کر جیسے ہی وہ پلٹا یہ دونوں اُسے زور زور سے گالیاں دینے لگے اور ہر گالی کے بعد کہتے کہ ’’جائو جائو تم تو ڈرپورک ہو کچھ نہیں کر سکتے‘‘ اس کے بعد جیفری اپنے گھرکے اندر چلا گیا اور جمیس اور لزا سمجھے کہ وہ ’’جنگ‘‘ جیت گئے ہیں لیکن کچھ ہی منٹ بعد جیفری باہر آیا اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی پستول تھی،جمیس جو کہ ابھی تک اپنی جیت کے نشے میں تھا جیفری کے سامنے جا کر کھڑاہو گیا اور بولا ’’تم ڈرپورک، تم کیا گولی چلائو گے‘‘ میں کھڑا ہوں تمہارے سامنے ’’چلائو گولی چلائو‘‘ لزا بھی جیت کے نشے میں سرشار بجائے شوہر کو قابو کرنے کے سامنے جا کھڑی ہوئیں۔
جمیس، لزا اور جیفری اب لگ بھگ ایک دوسرے سے دس فٹ کے فاصلے پر کھڑے تھے بیچ سڑک پر، دونوں میاں بیوی مسلسل جیفری کو برا بھلا بول رہے تھے اور وہ پستول تھامے کھڑا تھا، اچانک اس نے گولیاں چلانی شروع کر دیں چند لمحوں کو تو جمیس اور لزا کو یقین ہی نہیں آیا۔ جمیس کو گولی لگ گئی تھی اور اب جیفری رکنے والا نہیں تھا وہ واپس اپنے گھر کی طرف چلا گیا،لزا سڑک کے بیچوں بیچ پڑی تھی دونوں میاں بیوی چیخ رہے تھے کوئی 911کو بلائو، چند ہی لمحے گزرے تھے کہ جیفری پھر اپنے گھر سے نمودار ہوا اب اس کے ہاتھ میں بڑی بندوق تھی پہلے وہ لزا کی طرف گیا جو ابھی زندہ تھی اُس نے پھر کئی گولیاں لزا کو ماریںاور وہ ختم ہو گئی پھر وہ جمیس کی طرف گیا اور اُسے بھی چھلنی کر دیا۔ جیفری اپنے گھر چلا گیا، کوئی پندرہ منٹ بعد جب پولیس پہنچی اور اس نے جیفری کے گھر کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ اُس نے اپنے آپ کو بھی گولی مار لی تھی اور دم توڑ چکا تھا۔
اس پورے واقعے کی CCTVفوٹیج قریب کے ایک کیمرے سے ریکارڈ ہو گئی اور اس وقت انٹرنیٹ پر گھوم رہی ہے، پاکستانی نیوزچینلز نے بھی اس واقعے کو رپورٹ کیا ہے، اس واقعے کا سبب امریکنز کا غصہ اور عدم برداشت بتایا جارہا ہے۔
غصہ سب کو آتا ہے اور انسان غصے میں کیا کچھ کہہ جاتا ہے کیا کچھ کر جاتا ہے اسے خود پتہ نہیں ہوتا اسی لئے کہا گیا ہے کہ ’’غصہ حرام ہے‘‘۔
امریکنز عموماً معتدل مزاج کے ہوتے ہیں، طریقے سے بات کرتے ہیں، پولیس والا بھی اگر چالان کررہا ہوتا ہے تو نہایت تمیز سے آپ کے لائسنس اور گاڑی کے کاغذات کے متعلق پوچھتا ہے۔
کسی کو نوکری سے نکالا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ’’We are letting you go‘‘یہ نہیں کہتے کہ چلیے بوریا بسترا سنبھالئے آپ کی چھٹی ہوئی، امریکنز کی تقریباً ہر بات Excuse meاور Thank youسے شروع ہو کر عموماً Sorryپر ختم ہوتی ہے۔
اگر کوئی بیچ سڑک پر کھڑے ہو کر زور زور سے گالیاں دے اور آپ کے پاس بندق ہو وہ بھی دو دو بندوقیں تو آپ بھی غصے میں طیش میں آ کر گالی دینے والے کو چھلنی کر سکتے ہیں۔ اس کیلئے ’’امریکن‘‘ ہونا ضروری نہیں ہے۔!!