چار نوجوان کی جان گئی! کشمالہ طارق کافریب و مکراور جج صاحب کی بے غیرتی

229

چار نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، کشمالہ طارق فریب و مکر کرتی رہیں جبکہ جج صاحب نے بے غیرتی کی انتہا کر دی ! گزشتہ ہفتے میں یوں تو کئی ایشو سامنے آئے مگر ایک نہایت ہی المناک اور ہولناک حادثہ اسلام آباد کے ایک سگنل پر پیش آیا۔ مانسہرہ سے جاب انٹرویو کے لئے آئے ہوئے چار نوجوان اسلام آباد کے ایک چوراہے پر سگنل پر اپنے انٹرویو کے خواب سجائے گاڑی مہران میں سگنل پر ہی کھڑے ہوئے تھے کہ پاکستان کی ایک مشہور خوبرو سیاستدان کی گاڑی کا تیز رفتار قافلہ جو لاہور سے آرہا تھا راکٹ کی سی رفتار کیساتھ سرخ بتی کو توڑتا ہوا ان چار نوجوانوں کو کچلتا ہوا گزر گیا۔ اطلاع کے مطابق ایک آٹھ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں کشمالہ طارق اپنے خاوند کیساتھ بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ دوسری گاڑی میں ان کا بیٹا اذلان خان تھا۔ کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے جو چار نوجوان جاں بحق ہوئے اسے ان کا ڈرائیور چلارہا تھا۔ ان کا بیٹا نہیں چلارہا تھا۔ جبکہ زخمی ہونے والے دوست کا دعویٰ ہے کہ ٹکڑ مارنے والی گاڑی کو کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان چلارہا تھا جسے اس نے خود دیکھا تھا۔ اذلان خان حادثے کے بعد جائے وقوع سے فرار ہو گیا جس کو بھگانے میں یوم معلوم ہوتا ہے خود کشمالہ طارق کا ہاتھ تھا جنہوں نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ جب پانچوں میں سے چار نوجوان موت و زیست کی کشمکش سے دو چار تھے بجائے اس کے کہ کشمالہ اینڈ کمپنی انہیں ہاسپٹل منتقل کرنے میں مدد کرتی یا ان کے ساتھ ہاسٹپل جاتی، وہ بمعہ اپنے بیٹے کے وہاں جائے حادثہ سے غائب ہو گئیں، مفرور اذلان خان کو اسلام آباد پولیس ڈھونڈتی رہی مگر دنوں تک وہ نہ مل سکا۔ بائیس اور تئیس سالہ نوجوان انیس احمد، حیدر علی، فاروق احمد اور مالک عادل موقع پر ہی کشمیر ہائی وے کے سگنل پر دم توڑ گئے، پھر اچانک ہی دو دن بعد اذلان خان ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل کی عدالت میں نمودار ہوتا ہے اور وہ بے غیرت اور ڈھیٹ جج چار نوجوانوں کے قاتل اذلان کو صرف پچاس ہزار کے مچلکے پر قبل از گرفتاری ضمانت دے دیتا ہے۔ ضمانت کے کنفرم ہونے کے بعد کشمالہ طارق دو دن کی مجرمانہ خاموشی کے بعد ایک پریس کانفرنس کر کے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے حادثے پر افسوس کااظہار کرتی ہیں مگر زور اس بات پر ہوتا ہے کہ غلطی دونوں پارٹیوں کے ڈرائیوروں کی تھی جبکہ ان کا بیٹا گاڑی ڈرائیو ہی نہیں کر رہا تھا۔ یہاں کوئی ان سے پوچھے کہ اگر وہ ڈرائیونگ نہیں کررہا تھا تو پھر قبل از گرفتاری ضمانت کی کیا ضرورت تھی؟ پس ثابت یہ ہوا کہ پاکستان میں واقعتاً انصاف کے دو قسم کے قانون ہیں، ایک پیسے والے، بااثر طبقہ اشرافیہ کے لئے ہے اور دوسرا عام پاکستانی غریب غرباء کے لئے ہے، اب ذرا اسی کیس کو الٹا کر کے تصور کیجئے، کشمیرہائی وے پر کشمالہ طارق کے بیٹے کی گاڑی کھڑی ہوتی سرخ بتی پر جبکہ پیچھے سے مانسہرہ کے ان پانچ نوجوانوں کی گاڑی راکٹ کی سی برق رفتاری کیساتھ آتی اور ریڈسگنل پر کھڑی اذلان کی گاڑی کو کچلتے ہوئے اذلان کو موت کے گھاٹ اتارتی چلی جاتی اور وہ موقع پر ہی ختم ہو جاتا۔ پولیس نہ صرف ان چاروں کو گرفتار کر لیتی بلکہ سیشن کورٹ کا وہ بے حس جج بھی ان چاروں کو ضمانت دینے سے بھی انکار کر دیتا کیونکہ وہ بااثر اور اشرافیہ اور بڑے سرکاری عہدیدار نہیں تھے۔ تو یہ ہے ایک ملک میں انصاف کے دو قوانین، عمران خان صاحب کہاں ہے وہ ریاست مدینہ کا انصاف؟ آپ مثال دیتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے ایک شخص نے مسجد میں کھڑے ہو کر سوال کیا تھا کہ آپ کے پاس یہ ریشمی کرتا کہاں سے آیا کیونکہ مال غنیمت کا یہ حصہ آپ کو نہیں مل سکتا تھا اور حضرت عمر ؓ کو اس شخص کو جواب دینا پڑا، عمران خان سوال تو آپ سے بھی بنتا ہے کہ کہاں ہے وہ ریاست مدینہ کاانصاف؟ کون ہے ان چار نوجوانوں کی موت کا ذمہ دار کیا اذلان خان کو چار اموات کے لئے چار مرتبہ پھانسی دی جائے گی؟ یا پھر غریبوں سے مک مکا کر کے کینیڈا کا ویزہ دے کر وہاں بھجوا دیا جائے گا اور کشمالہ اوراذلان ڈھٹائی سے گھومتے رہیں گے؟