آمدن سے زائد اثاثوں کی آڑ میں انتقام

215

پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثوں کی آڑ میں انتقام کی تاریخ بھری پڑی ہے ۔جب بھی غیر قانونی اور غیر آئینی جابر اور ظالم حکمران ملک پر قابض ہوا تو اس نے مخالف سیاستدانوں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی آڑ میں انتقام کا ایسا سلسلہ جاری کیا جو آج تک جاری ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں جمہوری نظام پنپ نہ پایا۔ ریاستی ادارے کمزور پڑ گئے۔ ملک ٹوٹ گیا، سب سے پہلے گورنر جنرلوں نے سیاستدانوں پر پروڈا کا قانون لاگو کرتے ہوئے حسین شہیدسہروردی جیسے سیاستدان کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا جو متحدہ ہندوستان میں متحدہ بنگال کے وزیراعلیٰ رہ چکے تھے جو قائداعظم کی خصوصی درخواست پر پاکستان میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ بعدازاں فوجی جنرلوں نے سیاستدانوں کو اثاثوں کی چھان بین شروع کر دی جو آج تک جاری ہے جس میں پاکستان کے پہلے غاصب اور قابض جنرل ایوب خان نے اپنے فوجی قانون ایبڈو کے تحت احتساب کا سلسلہ شروع کیا جس سے جمہوریت پسند سیاستدانوں سے جیلیں بھر دی گئیں۔ جس سے پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں۔ جس کے بعد جنرل یحییٰ خان نے سیاسی پارٹیوں پر پابندیاں اور سیاستدانوں کے خلاف قوانین بنائے جس سے ملک ٹوٹ گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 90دن کا وعدہ 4ہزار دن تک بڑھا دیا۔جنہوںنے 1985ء کے انتخابات میں سیاسی پارٹیوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس سے سیاستدانوں کی بجائے کتے بلے پیدا ہوئے جو آج تک بھونکتے اور دودھ پیتے نظر آتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سیاستدانوں کو کوڑوں سے مارا گیا۔ پورا ملک امریکی پرائی جنگ میں افغان جہاد کے نام سے دھکیل دیا جس سے پورا پاکستان دہشت گردی کا میدان بن گیا جو آج تک بھگت رہا ہے۔ جنرل مشرف نے منتخب نواز حکومت پر قبضہ کر کے سیاستدانوں کے خلاف نومبر 1999ء کو قومی احتساب بیورو نامی نیبڈو نافذ کر کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاررائیوں کا آغاز کیا۔ سیاستدانوں سے جیلیں بھر دی گئیں۔ نواز شریف کو پہلے پھانسی پھر عمر قید بعدازاں جلاوطن کیا گیا۔ جب جنرل مشرف نے سٹیل ملز کی اونے پونے فروختگی کے خلاف سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو انہوں نے چیف جسٹس افتخار چودھری کو عہدے سے معزول کر دیا جو بعد میں بحال ہو گئے جب سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے دو عہدوں کے خلاف فیصلہ دیا تو انہوں نے پاکستان کی پوری عدلیہ برطرف کر دی جس کے خلاف دنیا کی بہت بڑی منظم اور پرامن تحریک نے جنم لیا جو جنرل مشرف کے اقتدار کے زوال کا باعث بنی کہ آج موصوف عربوں کی گود میں بیٹھا ہوا ہے۔ جن کے خلاف سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی عدالت نے مقدمہ غداری میں سزائے موت کا فیصلہ دیا جس کے بعد عمرانوں، دربانوں اور بلوانوں کے ایوانوں میں کہرام مچ گیا کہ جنرل کبھی غدار نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر جنرل اسد درانی کو فوج کیوں را کا ایجنٹ قرار دے چکی۔ آج پھر فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار پر قابض جن کو جنرلوں نے رات کی تاریکیوں میں انتخابی لوٹ مار سے جتوایا تھا انہوں نے بھی اپنے پروردہ جنرلوں کے نقش قدم پر چل کر سیاستدانوں کے آمدن سے زیادہ اثاثوں کی آڑ میں مخالفت سیاستدانوں بشمول قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو جیلوں میں ٹھونسا ہوا ہے جس سے پاکستان کی سیاست میں شدت پیدا ہو چکی ہے جو اب 26مارچ کو لانگ مارچ کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان میں عوامی ردعمل سخت ہو گا جو شاید موجودہ حکمرانوں اور بلوانوں کے بس میں نہیں ہو گا کہ وہ اس مارچ کو روک پائے یہ جانتے ہوئے پاکستان بدل چکا ہے جس کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب موجودہ حکمرانوں سے متاثر ہوا ہے جو فوجی جنرلوں کے الزام دے رہے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کو زبردستی اقتدار پر بٹھایا جن کے امیدواروں کو رات کی بتیاں بند کر کے ہرایا گیا جس سے پنجاب کو سیاسی ،معاشی اور مالی بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔
بہرحال پاکستان میں حزب اختلاف کو انتقام کا نشانہ بنا کر پورے ملک کو لوٹا جارہا ہے ایک طرف عمران خان کی اے ٹی ایم مشینیں چینی، آٹے، ادویات، تیل، گیس اور دوسری اشیائے خورونوش میں اربوں، کھربوں کی لوٹ مار کررہی ہیں تو دوسری طرف جنرل عاصم ٹولہ پاکستان کو لوٹنے میں مصروف ہے جن کی دولت امریکہ تک پھیل چکی ہے جس سے ملک بھر میں بے چینیاں اور کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں جس سے اداروں کے خلاف نفرتوں اور حقارتوں میں اضافہ ہورہا ہے جو کسی بھی وقت شدت اختیار کر سکتا ہے ایسے موقع پر پی ڈی ایم کا وجود ملک کے اتحاد کی علامت ثابت ہو گا جس کی جمہوری تحریک سے پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات کم ہونگے۔ بشرطیکہ مقتدر اداروں نے 1971ء والی سازشوں کا جال نہ بچھایا جس کی وجہ سے سیاستدانوں کے درمیان رابطوں کی کمی کی وجہ سے پاکستان دولخت ہو گیا تھا آج بھی وہی حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ سیاستدانوں کی ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ سیاستدانوں کو جھوٹے من گھڑت مقدمات میں بلیک میل کیا جارہا ہے جو ملکی سلامتی کے منافی ہے جس سے پاکستان کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔