عوام!! خدارا ہوش کے ناخن لو۔۔۔۔

216

عوام نے پتہ نہیں کون سا نشہ کیا ہوا ہے کہ اپوزیشن کی شورشوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتے۔ PDMمیں ناخواندہ لوگ ہی شامل نہیںبڑے بڑے تعلیم یافتہ ڈگری یافتہ لوگ بھی شامل ہیں لیکن وہ اس نمک حرام ٹبروں کے ساتھ ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا بھی کچھ نہ کچھ حساب نکلتا ہے۔ یہ بڑے قزاق اگر کیفر کردار کو پہنچیں گے تو ان کی بھی باری لگ جائے گی، عوام کی یہ مردہ ضمیر اور بے حسی سمجھ سے بالاتر ہے۔سب کومعلوم ہے کہ یہ لنکا کے بندر کیوں ڈگڈگی پر ناچ رہے ہیں۔ آتش زیر پا ہیں۔ لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لئے یہ سرکس ہورہا ہے۔ اس سرکس کے کٹہرے میں بھانت بھانت کا جانور ہے جو اپنی سی بولیاں بول رہا ہے۔ پوری دنیا نے مجرموں کے چہرے دیکھ لئے ہیں۔ یہ بے حیا، بے غیرت لوگ جنہیں ڈوب مرنا چاہیے بڑے زور و شور سے تقریریں کرتے پھررہے ہیں اور پتہ نہیں کون عقل سے خالی لوگ ان کے جلسے جلوسوں میں لڈیاں اور بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔ ملک کے حالات سے چشم پوشی ہے۔ لوگ ڈنگروں کی طرح جس طرف ہانکے جارہے ہیں چل رہے ہیں۔ کیا لوگ نابینا ہیں اس ٹبر کی بے عزتی لندن میں جو ہورہی ہے انہیں نظر نہیں آتی۔ ان کا سڑکوں پر، ملز، ریسٹورانوں میں جانا محال ہے۔ ہر جگہ محب وطن ان کا پیچھا کر کے ذلیل کرتے ہیں لیکن یہ تو چکنے گھڑے ہیں۔ جانتے ہیں لوگ چیخ و پکار کر کے خاموش ہو جائیں گے اور ہمارا حلوہ مانڈہ چلتا رہے گاپانچوں گھی اور سر کڑھائی میں رہے گا۔
ایک خبر ہے کہ فضلو بھارت سے بھی بھتہ وصول کر رہے ہیں۔ بھارت تو پاکستان میں افراتفری مچانا چاہتا ہے اور اسے فضلو کی شکل میں ایک رو سیاہ غدار بھی مل گیا ہے۔ پہلے اس نے تماشا کر کے نواز شریف کو فرار کروایا۔ اب حرام کی کمائی اور دوسری جماعتوں کی دولت بچانے نکل پڑا ہے۔ حیرت کی بات ہے اپنے آپ کو مولانا کہلواتا ہے۔ اسے تو صرف دین کی پیروی کرنی اور کروانی چاہیے تھی۔ اس کا مواخذہ بڑا سخت ہو گا چونکہ جو لوگ اس کی پیروی کررہے ہیں وہ بھی روز قیامت اپنے قبیح اعمال کاذمہ دار اسے ہی ٹھہرائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے وہی پڑھا اور سمجھاجو ان کے استاد یا مولوی نے انہیں پڑھایا ہے اور اب یہ ایک حرام مہم کے لئے انہیں استعمال کررہا ہے۔ ایک تو اپنی زمین کے ساتھ غداری کی دوسرے لوٹ مار کر کے دوسروں کاحق غصب کیا۔ اس کے ساتھ آنے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ انہیں کس مقصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جارہا ہے۔ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ریلی نکالی گئی۔ فضلو اپنی ڈفلی بجاتے رہے۔ جس کشمیر کمیٹی کے دس سال ممبر رہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ جس طرح مریم مودی کے خلاف کچھ نہیں کہتی فضلو نے بھی اس کے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ کوئٹہ ایک بار پھر دھماکوں کی زد میں آچکا۔ پھولن دیوی کا اصل چہرہ عوام کے سامنے ہے۔ اس نے میک اپ کی تہوں میں جو چہرہ چھپایا ہے وہ عیاں ہو گیا ہے۔ بچپن میں سنا کرتے تھے کہ ڈائین اور چڑیلیں خوبصورت عورتوں کی شکل میں پھرتی رہتی ہیں اور جو بھی ہاتھ آجائے اس کا کلیجہ چبا لیتی ہیں۔ ان کا بھیانک چہرہ تو اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ کلیجہ چبار رہی ہوتی ہیں لیکن پھر بڑی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہی جمہور کے ساتھ ہوا ہے۔ جب وجود کا صرف ڈھانچہ رہ جاتا ہے توہوش آتا ہے اور دودھ کے جلے چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔ عوام جان گئے ہیں ساری پارٹیوں کے وہ لوگ جنہوں نے پچھلی حکومتوں میں خوب مال بنایا تھا اسے بچانے کے لئے نکلے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے جو انہیںNROنہیں دے گی۔ یہ اس چکر میں ہیں اپنی پسند کی حکومت لائیں اور لوٹا ہوا مال بچائیں۔
کشمالہ طارق بھی اپنے حسن کرشمہ ساز سے بہت آگے بڑھ آئیں۔ ان کے بیٹے کو بھی اپنی ماں کی طاقت پر پورا بھروسہ تھا۔ غرور میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار جانوں کو کچل دیا۔ دو اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔ ایک ہوتا ہے سپوت جو ہونہار ہوتا ہے اور ایک ہوتا ہے کپوت غنڈہ، گلوبٹ، اس کی پچاس ہزار سکہ رائج الوقت مچلکوں پر ضمانت ہو گئی۔ اب انہیں کافی موقع مل گیا۔ لواحقین سے لاشوں کا سودا کرنے کا اور یہ قتل عمد کا سہرا ڈرائیور اپنے سر لیتا ہے یا گلو بٹ کے سر جاتا ہے۔ دونوں صورت میں پیسہ کام آئے گا۔
کشمالہ طارق جو اپنے آپ کو کرشمہ کپور سے کم حسین نہیں گردانتی، ان کے اس کپوت کو ایک بار کالج سے بھی غنڈہ گردی کے الزام میں نکالا گیاتھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار اور پھر اس وقت گورنر پنجاب کی سفارش سے دوبارہ موصوف داخل ہو گئے تھے۔ یہ کوئی نیا حادثہ نہیں جس میں دولت مندوں نے نشے میں چور، غریب عوام سے زندگی چھین لی ہیں۔ ہر زخم کا مرہم ان کے نزدیک پیسہ ہے۔
وزیراعظم سے درخواست ہے کہ وہ یہ ذہن میں رکھیں کہ قائد کا فرمان کشمیر کے لئے کیا تھا ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ باقی عقلمند کو اشارہ کافی ہے۔ آپ کے جملوں کے ایک ایک نکتے پر نظر رکھی جاتی ہے۔ تو۔۔۔۔اُس کے دشمن ہیں بہت۔۔۔آدمی اچھا ہو گا!