کورونا کے سائے میں کرکٹ کی بحالی پر سوال اٹھنے لگے

241

لاہور: 

کورونا کے سائے میں کرکٹ کی بحالی پر سوال اٹھنے لگے جب کہ سابق کرکٹرز کی جانب سے کسی جلد بازی سے کام لینے کے بجائے مناسب وقت کا انتظار کرنے کے مشورے دیے جانے لگے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ رواں سال اکتوبر، نومبر میں آسٹریلیا میں شیڈول ہے، اسے ملتوی کیے جانے کا قوی امکان نظر آ رہا ہے، 28مئی کو اجلاس میں میگا ایونٹ کے حوالے سے فیصلہ موخر کردیا گیا تھا جو اب 10جون کو متوقع ہے۔

وسیم اکرم بھی ورلڈکپ کرانے میں کسی جلد بازی سے کام لینے کے حق میں نہیں، ایک انٹرویو میں سابق پاکستانی کپتان نے کہاکہ تماشائیوں کے بغیر کسی بھی عالمی ایونٹ کا انعقاد کوئی معقول بات نہیں لگتی،دنیا بھر سے آنے والے پْرجوش شائقین سے بھرے ہوئے اسٹیڈیمز کسی بھی ورلڈکپ کا اصل حسن ہوتے ہیں، مقابلوں کیلیے جو ماحول درکار ہوتا ہے وہ بند دروازوں کے پیچھے میچز میں دیکھنے کو نہیں مل سکتا۔

انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں آئی سی سی کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ رکنے کا انتظار کرنا چاہیے، لاک ڈاؤن اور سفری پابندیاں ختم ہونے کے بعد مناسب وقت پر بھرپور انداز میں ورلڈکپ کا میلہ سجانا مناسب ہوگا۔

ایک سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ گیند پر تھوک کا استعمال روکنے سے بولرز کی کارکردگی متاثر ہوگی،صرف پسینہ استعمال کرنے سے بات نہیں بن سکتی،اس سیگیند ضرورت سے زیادہ گیلی ہو جائے گی،آئی سی سی کو اس مسئلے کا کوئی فوری حل نکالنا ہوگا، یاد رہے کہ ویکس کے استعمال سمیت مختلف تجاویز سامنے آرہی ہیں لیکن ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔