چین-بھارت کے سرحدی تنازعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، امریکہ

258

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان جاری سرحدی تنازعات کو قریب سے جائزہ لے رہے ہیں اوربراہ راست مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نیوز بریفنگ کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکا بھارت جیسے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم چین اور بھارت کی حکومتوں کے درمیان جاری مذاکرات کو دیکھ رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم براہ راست مذاکرات اور سرحدی تنازعات کا پرامن حل کی حمایت جاری رکھیں گے لیکن پڑوسی کو ہراساں کرنے کے بیجنگ کے طریقہ کار پر تشویش ہے’۔

ترجمان نے کہا کہ ‘ہمیشہ کی طرح ہم اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں، ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے’۔

خیال رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات گزشتہ برس انتہا کو پہنچے تھے اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی تھیں۔

سرحدی میں جھڑپوں کے نتجے میں بھارت کے درجنوں فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد بھارت میں چین کے خلاف عوامی ردعمل سخت آیا تھا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کی میڈیا کو بریفنگ سے قبل سیکریٹری اسٹیٹ انٹونی بلینکن اور بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنم جے شنکر کے درمیان ٹیلی فون بھی بات ہوئی تھی۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ٹیلی فون پر بات کا مقصد ‘بھارت اور امریکا کی شراکت داری کے استحکام کا اعادہ’ کرنا اور میانمار سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

میانمار میں یکم فروری کو فوج نے آنگ سان سوچی کی نومنتخب حکومت کو برطرف کر کے دیگر سیاست دانوں سمیت انہیں حراست میں لیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کے درمیان بات چیت کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دووں نے خطے میں باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔