امریکہ کا 3سال بعد انسانی حقوق کونسل میں دوبارہ شمولیت کا اعلان

232

جینیوا: امریکا کا کہنا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ساتھ سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی دستبرداری کے تقریباً تین سال بعد ‘دوبارہ شمولیت’ اختیار کرے گا۔

جنیوا میں کونسل کے اجلاس کے دوران اس کے نئے چیف انٹونی بلنکن نے کہا امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی محکمہ خارجہ کو ‘اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ساتھ فوری طور پر اور مضبوط دوبارہ شمولیت کی ہدایت کی ہے’۔

جو بائیڈن نے یہ قدم سابق امریکی صدر کی پالیسیوں کے پلٹنے کے تحت اٹھایا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جون 2018 میں ملک کو 47 ممبران کی کونسل سے دور کردیا تھا۔

انہوں نے اسرائیل کے خلاف اس کے ‘بے بنیاد تعصب’ اور حقوق غصب کرنے والی اقوام کو میز پر بیٹھنے کی اجازت دینے کے ‘منافقت’ کے بارے میں شکایت کی تھی۔

امریکی کی دستبرداری نے 2006 میں بننے والے اس کونسل میں خلا پیدا کردی تھی جسے چین اور دیگر بھرنے کی خواہش رکھتے تھے۔

خیال رہے کہ امریکا خود بخود دوبارہ رکنیت حاصل نہیں کرسکتا اور اسے سال کے آخر تک انتخابات کا انتظار کرنا ہوگا۔

انٹونی بلنکن نے تصدیق کی کہ امریکا ابتدا میں کونسل میں مبصر ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک اب بھی اسے ایک ‘ناقص ادارہ سمجھتا ہےجس میں ایجنڈے میں اصلاحات، رکنیت، اور توجہ مرکوز کرنے بشمول اسرائیل پر اس کی غیر متناسب توجہ، میں اصلاح کی ضرورت ہے’۔