داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش مل گئی

294

دمشق:شامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 2015 میں داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے ماہر آثار قدیمہ کی سربریدہ لاش کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی حکومت نے آثار قدیمہ کے عالمی شہرت یافتہ 82 سالہ ماہر خالد الاسد کی لاش ملنے کا دعویٰ کیا ہے، نوادرات کا ٹھکانہ نہ بتانے کی پاداش میں ماہر آثار قدیمہ کا 2015 میں داعش نے سرقلم کردیا تھا۔

ماہر آثار قدیمہ خالد الاسد تاریخی شہر پالمیرا کی حفاظت کی کوشش کر رہے تھے جب کہ داعش اُن سے قدیم اور قیمتی نوادرات کا مقام معلوم کرنا چاہ رہے تھے اور انکار پر قتل کردیا۔

اس حوالے سے سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہر آثار قدیمہ کی لاش پالمیرا کے مشرق میں واقع کلاؤل سے دریافت ہونے والے تین لاشوں میں سے ایک ہے۔

اس مقام سے ملنے والی تینوں لاشوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے جائیں گے تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک لاش خالد الاسد کی معلوم ہوتی ہے۔

ماہر آثار قدیمہ خالد الاسد نے اپنی زندگی کے 50 سال سے زیادہ دمشق کے شمال مشرق میں واقع صحرائے صحرا میں ایک نخلستان میں واقع تاریخی شہر پالمیرا کے لئے وقف کیئے تھے۔ وہ 2003 میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے تاہم داعش کے حملے تک اسی مقام پر موجود رہے تھے۔

خالد الاسد کے تین بیٹے اور داماد بھی آثار قدیمہ کے ماہرین ہیں جو داعش کے حملے سے تھوڑی دیر قبل قریبی جدید شہر قصبہ تدمور کے میوزیم سے سیکڑوں قیمتی نوادرات لے کر دارالحکومت فرار ہوگئے تھے۔

اہل خانہ کے اصرار کے باوجود خالد الاسد نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں پالمیرا سے ہوں اور میں یہیں رہوں گا یہاں تک کہ جنگجو مجھے مار ڈالیں۔