زنجیروں میں رقص!!

321

رقص اور زنجیر کا سلسلہ دائمی ہے۔ اس پر ہمارے ادب میں اور دیگر ادب میں میں بڑے شاعروں اور ادیبوں نے بے مثال ادب تخلیق کیا ہے۔ ہمیں یہ سب گزشتہ ہفتہ پاکستان میں ممتاز اداکارہ نیلوؔ کے انتقال کے موقع پر اک بار پھریاد آیا۔
روایت کے مطابق پاکستان میں ایک سرکاری تقریب میں، اس وقت کے مغربی پاکستان کے ایک جابر گورنر، کالاباغ کے نواب امیر محمد خان ، نے بیرونی مہمانوں کے لیئے ایک سرکاری عشا ئیہ منعقد کیا تھا۔ جس میں رنگ و سرور کی ایک محفل شامل تھی۔ اس محفل میں شہنہشاہ ایران بھی مدعو تھے۔ گورنر نواب کالاباغ (وہ اسی نام کی دہشت کے لیئے مشہور تھے) نے حکم دیا کہ اس محفل میں رقص کے لیئے ، معروف اداکارہ نیلوؔ کو بھی رقص کے لیئے بلایا جائے۔ کہتے ہیں کہ نیلوؔ نے شرکت سے انکار کردیا۔ اس انکار پر اس ظالم نواب نے جو جنرل ایوب خان کی ناک کا بال بھی جانے جاتے تھے، اسے اپنے غنڈو ں اور پولس کے پالتو چاپلوسیوں کے ذریعہ اس کے گھر سے اٹھوالیا۔ کہتے ہیں کہ وہ اس محفل میں بیہوش ہو کر گرگئی۔
اس واقعہ کی خبر پھیلی تو پاکستا ن کے اہم ترین شعرا کی صف میں شامل ، شاعر حبیبؔ جالب نے ایک نظم تخلیق کی۔ حبیب جالب ؔ ، نیلو کے مستقبل کے شوہر ریاض شاہد کے دوست بھی تھے۔ وہ نظم یوں تھی، جو نیلو کے عنوان سے مشہور ہے:
تو کہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
تجھ کو انکار کی جرأ ت جو ہوئی تو کیوں کر
سایہء شاہ میں اسی طرح جیا جاتا ہے
اہلِ ثروت کی یہ تجویز ہے، سرکش لڑکی
تجھ کو دربا ر میں کوڑوں سے نچایا جائے
ناچتے ناچتے ہو جائے جو پائل خاموش
پھر نہ تازیست تھے ہوش میںلایا جائے
لوگ اس منظرِ جاں کاہ کو جب دیکھیں گے
اور بڑھ جائے گا سطوتِ شاہی کا جلال
سر اٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال
طبعِ شاہانہ پہ جو لوگ گراں ہوتے ہیں
ہاں انہیں زہر بھرا جام دیا جاتا ہے
تو کہ ناواقفِ آداب ِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے!
اس واقعہ کے بعد سنہ انہتر میں ریاض شاہد نے ، زرقا ،کے نام سے ایک فلم بنائی۔ جو فلسطین کی آزادی کی جدو جہد کے پس منظر میں تھی۔ یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے اس کا مرکزی کردار فلسطین تحریک کی اہم خاتون ، لیلیٰ خالد پر مبنی تھا۔ اس فلم میں ریاض شاہد نے،حبیب جالب کی یہ نظم ذرا سے ردو بدل کے ساتھ شامل کی تھی۔ اس نظم کو مہدی حسن کی آواز نے بے مثال بنا دیاتھا۔ یہ فلم گولڈن جوبلی کرنے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔اس نظم کی ادائیگی میں مہدی حسن کی آواز دل کو چھوتی ہے ۔ جس میں نظم کی ہر ہر کیفیت ذہن میں دائمی یاد بن جاتی ہے۔
شاعری میں زنجیر اور رقص کے سمبندھ پر ممتاز شاعر مجروح ؔسلطان پوری کا یہ شعر بھی امر ہو گیا ہے:؎
دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن جوشِ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ!
ہمارے جدید ادب کی روایت کی ایک اہم نظم ۔ فیض احمد فیضؔ کی نظم، چشمِ نم جانِ شورید کافی نہیں، ہے۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ، ’ ’سنہ انیس سو انسٹھ 1959 میں فیض کو گرفتار کیا تھا۔ ایک دن ان کو عدالت لے جانے کے لیے جیل کی گاڑی مہیا نہ ہونے کی وجہہ سے ، ان کے ہاتھوں پیروں میں زنجیر باندھ کر ایک تانگہ میں بٹھا کر جیل لے جایا گیا ۔ اس موقع پر کئی دکاندار اور شہری انہیں دیکھنے کے لیئے سڑکوں پر آگئے۔ فیضؔ نے جیل واپسی پر یہ نظم لکھی ، جو ان کے مجموعہ دستِ تہہِ سنگ میں شامل ہے۔ اس نظم کی کچھ سطریں یوں ہیں:
چشمِ نظم جانِ شورید کافی نہیں
تہمت ِ عشق پوشید ہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بجولاں چلو
دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو
اسی قسم کے مضمون میں ہمار دیگر شاعروں نے بھی مثالی شعر لکھے ہیں۔ ہمارا قیاس ہے کہ فیض کے ہم عصر سب شعرا کے اس طرح کے اشعار پر فیض ہی کا اثر ہوگا۔ اس ذہنی لہر میں ہم آپ کو مصطفیٰ زید ی کا یہ شعر سناتے ہیں:
جدھر جدھر سے بھی گزرا جلوسِ رسوائی
کھڑے تھے لوگ دریچوں میں شمع داں کی طرح
بوقتِ قتل بہت دور میرے سار ے عزیز
صف آزما تھے نگہبان آسماں کی طرح
چلتے چلتے جونؔ صاحب کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:
وادی ء غم کے خوش خرام، خوش نفسانِ تلخ جام
نغمہ زناں، نوا زناں، نعرہ زناں گزر گئے
سوختگاں کا ذکر کیا، بس یہ سمجھ کے وہ گروہ
سرسرِ بے اماں کے ساتھ دست فشاں گزر گئے
آج کی تحریر کا مقصد اس بات کا ا عادہ کرنا تھا کہ ہمارے شاعر اور ادیب اپنے زمانے کی زیادتیوں، تلخ حقیقتوں ، اور سختیو ں کو اپنے ادب میں سمو کر نہ صرف ہماری تاریخ مرتب کرتے رہے ۔بلکہ ہمیں یہ سمجھاتے رہے کہ اہل جبر کا ظلم مسلسل ہے، لیکن ہمیں ہار نہیں ماننی۔ یہی شاعری کا منصب ہے۔ ہم پر اور آپ پر لازم ہے کہ ہم ظلم و جبر کے خلاف جدو جہد کرتے رہیں۔ اور بانکپن کے ساتھ رقص کرتے ہوئے زنجیریں توڑنے کی سعی کرتے رہیں۔