عمران خان کا شاندار کارنامہ ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ‘‘

302

شائد پاکستان کی تاریخ میں بہت کم مرحلے ایسے آئے ہوں گے جب وزیراعظم قوم سے ڈائریکٹ مخاطب ہوئے اور عوام نے دل کھول کر اور بغیر کسی دبائو کے وزیراعظم سے بات کی اور ان سے کارکردگی کا حساب مانگا، اس سے پہلے اور کوئی وزیراعظم اس طرح عوام کے سامنے نہیں آیا۔نواز شریف نے 1998میں ایک مرتبہ اسی طرح کوشش کی تھی۔ اس کی وجہ بھی ان کے سیاسی مشیر مشاہد حسین سید تھے۔ وہ ساتھ بیٹھے رہتے تھے اور نوٹس لیتے رہتے تھے لیکن ان شکائیتوں کا حل آج تک سامنے نہیں آیا مجھے یاد ہے میرے ایک دوست نے بھی اپنا ایک مسئلہ نواز شریف کو پیش کیا تھا اور نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ دو دن میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا لیکن آج تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ عمران خان سے مختلف لوگوں نے مختلف مسئلے پیش کئے اور عمران نے بھرپور طریقے سے اس کا جواب دیا۔ سب سے پہلا مسئلہ کووڈ ویکسین کا تھا۔ چائنہ سے ویکسین لے کر ایئرفورس کا جہاز چند گھنٹے پہلے ہی پاکستان پہنچا تھا۔ لوگوں کو انتظار تھا کہ پاکستان میں بھی یہ ویکسین لگنی شروع ہو تو شائد اس وباء سے پاکستانیوں کی جان چھوٹ سکے۔ عمران نے بالکل صحیح جواب دیا سب سے پہلے پیرا میڈیکل سٹاف کا حق ہے جو ان مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں بھی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کا حق سب سے پہلے ہوتا ہے تاکہ وہ دوسروں کی زندگی بچاسکیں۔
عمران خان کے اس سوال و جواب کے سیشن میں چند سوال بہت اہم تھے اور ان کے جواب بھی بہت اہم تھے جس سے حکومت کی رائے جاننے کا موقع ملا اور عمران خان آئندہ کیا کرنے جارہے ہیں وہ بھی سمجھنے کا موقع ملا۔ سیرت النبی کو کورس میں شامل کرناعمران خان کا بہت بڑا کارنامہ آئندہ سالوں میں گنا جائے گا۔ کسی بھی حکمران کو چاروں صوبوں میں ایک کورس نافذ کرنے کا خیال نہیں آیا۔ ہر صوبہ میں تین تین کورس پڑھائے جاتے تھے۔ ایک انگریزی سکول کا کورس، دوسرے بقول شیخ رشید ’’ٹاٹ والے‘‘ سکول جہاں بچے زمین میں ’’ٹاٹ‘‘ پر بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ تیسرے مسجد اور مدرسے کے سکول جہاں دینی تعلیم دی جاتی تھی ان کا انگریزی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ عمران حکومت کا یہ بہت بڑا کارنامہ مانا جائے گا کہ انہوں نے پورے ملک میں ایک نصاب تعلیم رائج کیا اور اس میں سیرت النبی ﷺ کو شامل کیا۔
ایک بہت اہم سوال ناموس رسالت کے متعلق تھا جس کے جواب میں عمران نے بتایا کہ صرف طیب اردگان نے ان کا ساتھ دیا اور فرانس کے واقعے کی طرف پوری دنیا میں آواز اٹھائی۔ گلگت بلتستان پر اس وقت پوری دنیا کی نظر ہے جس سے سی پیک کا مسئلہ دنیا کے سامنے آیا ہے اور چین جس تیزی کے ساتھ عالمی طاقت بن کر ابھررہا ہے وہ امریکہ سمیت سب کو کھٹک رہا ہے۔ چین پہلے تو معاشی طاقت تھا ہی اب وہ فوجی طاقت بن کر امریکہ کو ٹکر دینے جارہا ہے۔ روس بہت پیچھے رہ گیا۔ جوبائیڈن نے اقتدار میں آنے کے بعد روس کے صدر پیوٹن کو فون کیا لیکن چینی صدر سے وہ دور رہے۔ بلتستان سے ایک صاحب نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھایا جس کا عمران نے بہت تفصیل سے جواب دیا۔ پی ٹی آئی حکومت کا بہت بڑاکارنامہ ہیلتھ کارڈ ہے غریبوں کے علاج کے لئے مالی مدد بقول عمران خان کے پی کے پورے صوبہ میں ہیلتھ کارڈ دئیے گئے ہیں اب پنجاب کی باری ہے اور وہاں کام زور شور سے جاری ہے۔ گھروں کے لون کا بھی مسئلہ ایک صاحب نے اٹھایا جس کا بھی بہت تفصیل سے عمران نے جواب دیا اور گورنمنٹ کی پالیسی کی وضاحت کی ۔ گورنمنٹ کتنا لون دے رہی ہے اور کتنی گرانٹ دے رہی ہے۔ این آر او بہت تفصیل سے ڈسکس ہوا کھوکھر برادران اوران کے کارناموں کا بغیر نام لئے بہت تفصیل سے ذکر ہوا کہ ن لیگ کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا اور کیوں تعلق تھا اور وہ کس طرح سرکاری زمینوں پر قبضہ کرتے تھے۔ عمران خان نے ہر قبضہ گروپ کے لئے آئندہ کی پالیسی بھی بتا دی۔ بلین ٹری سونامی کابھی ذکرآیااور ساتھ ساتھ ریاست مدینہ کے تصور پر بھی عمران خان نے اپنی وضاحت پیش کی۔ یہ چند دنوں یا چند سالوں میں نہیں بن جائے گی بلکہ یہ ایک نظریہ ہے اور اس میں سالوں لگ سکتے ہیں۔
غرضیکہ یہ ایک بہت کامیاب اور اچھا آئیڈیا تھا۔ عمران کو مہینے میں ایک بار ضرور ایسے پروگرام کرنا چاہئیں تاکہ اس کو عوام کے مسائل اور آراء کا اندازہ ہوتا رہنا چاہیے اور اس کے مطابق اس کو اپنی حکومت کی سمت کو چلانا چاہیے اور ان مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔